پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا ایجنڈا کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف سیاسی محاذ گرم کرنے جا رہی ہے۔ اس کا انہیں حق بھی حاصل ہے۔ حکومت کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خود احتجاج کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر چکی ہے مگر اس کا موقف واضح تھا کہ وہ بد عنوانی کو کسی صورت قبول نہیں کرتی لہٰذا حکمرانوں نے جو لوٹ مار کر کے ملکی دولت باہر بھجوا رکھی ہے اسے واپس لائے گی یہ کہ تبدیلی لا کر عام آدمی کو سہولتیں فراہم کرے گی۔ مگریہ دونوں جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ نون جو احتجاجی تحریک چلانے جا رہی ہیں ان کا کیا ایجنڈا ہے؟

بظاہر وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ انہیں عوام کی خاطر سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے کہ ان پر ٹیکسوں کی یلغار ہو چکی ہے مہنگائی نے انہیں بے حال کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ مگر عوامی حلقے کہتے ہیں کہ وہ فقط ہونے والے احتساب سے بچنا چاہتی ہے۔ نیب کے پاس ان کی بد عنوانی کے بہت سے ثبوت موجود ہیں اور وہ پکڑ دھکڑ کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے جس میں موجودہ حکمران طبقے کے افراد بھی گرفت میں آئیں گے لہٰذا حزب اختلاف نے اپنے بچاؤ کے لیے دما دم مست قلندر کا پروگرام بنایا ہے تاکہ وہ مزید رسوائی سے محفوظ ہو سکے اور اس کی سیاست بھی متاثر نہ ہونے پائے۔ اب دونوں جماعتوں کے بڑے چونکہ احتساب کے شکنجے میں آ چکے ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے نئے چہروں کو میدان عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ انہیں پوتر سمجھ کر قبول کر لیں گے یوں ان کا مقصد پورا ہو جائے گا؟

ایسا نہیں ہونے والا یہ درست ہے کہ عوام کی غالب اکثریت مہنگائی اور نئے ٹیکسوں سے سخت پریشان ہے۔ اشیائے ضروریہ وغیر سبھی ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی جمع پونچی بھی بچانے میں ناکام ہیں انتظامی معاملات پہلے کی طرح ہیں تھانے کیا پٹوار خانے کیا سرکاری ادارے، ملاوٹ مافیا، رشوت خور اور کمیشن ایجنٹس متحرک ہیں مگر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا برسوں پر محیط نظام کی خرابی کو پلک جھپکنے میں دور کیا جا سکتا ہے۔

نہیں ہر گز نہیں، ہاں مگر اسی کے لیے سوچ بچار ضرور کی جانی چاہیے عملاً بھی قدم بڑھائے جائیں اور یہ بھی غلط نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت انتظامی حوالے سے زیادہ سر گرم عمل نہیں اور اگر ہے بھی تو اسے ناکام بنانے کے لیے ہر جگہ ماضی کی حکومتوں کے لوگ موجود ہیں جو اپنا کردار پوری طرح ادا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ در پیش مسائل پر کیسے قابو پائے اس کا جو اب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے فی الفور اپنی تنظیم سازی کی طرف توجہ دینا ہو گی ایسے لوگوں کو آگے لانا ہو گا جو بد عنوانی کے خلاف ہوں لوٹ مار کرنے والے نہ ہوں کیونکہ اس میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو سو فیصد یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ کب انہیں مال بنانے کا موقع ملے اور وہ اس سے پھر پورا فائدہ اٹھائیں ایسے عہدیداروں کو بیک جنبش قلم رد کر دینا ہو گا۔

اگر ان گزارشات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تو حیران کن حد تک نتائج مطلوبہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ عوام کو اپنے مسائل سے غرض ہے کسی سیاسی شخصیت یا شخصیات سے نہیں لہٰذا وہ حزب اختلاف کی کسی احتجاجی تحریک میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اگر مسائل حل نہیں بھی ہوتے تب بھی وہ سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان جماعتوں نے اپنے ادوار میں ان کے لیے کون سے ایسے فلاحی منصوبے بنائے جو ان کے دکھوں کو کم کرتے یہ جو آج مہنگائی اور بد انتظامی ہے سب ان کے ”کارنامے“ ہیں۔

انہوں نے مافیاز کو جنم دیا قومی خزانے کو بے دریغ نقصان پہنچایا اگر یہ بات غلط ہے تو آج منظر عام پر آنے والا کچا چٹھا کیا ہے جس سے ہر کوئی خوف زدہ ہے۔ وطن عزیز کو چپکے چپکے سے اس قدر لوٹا جا چکا ہے کہ اب بھاری قرضے سخت شرائط پر لینا پڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ہدایات کو مد نظر رکھنا پڑ رہا ہے۔ یہ سب نہیں کیا جاتا تو ملک تباہی کے کنارے پر جا کھڑا ہو گا مگر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس نے عوام کی حالت خراب کر دی۔

کیا پہلے عوام بڑے سکھ میں تھے انہیں پریشانیاں لاحق نہیں تھیں۔ وہ بد معاشوں، غنڈوں اور سینہ زوروں کے ہاتھوں نہیں لٹ رہے تھے جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا وہ لوگوں کو ہراساں کیے رکھتے تھے مگر کسی حکمران نے بھی اس پہلو کی جانب نہیں دیکھا۔ قبضہ گروپ ہوں یا لینڈ مافیا ہر ایک نے غریب عوام کی عمر بھر کی کمائی پر ہاتھ صاف کیے مجال ہے مگر وہ قانون کی زدمیں آتے کیونکہ قانون ان کے ساتھ تھا اور وہ اس کی آڑ میں کارروائیاں جاری رکھتے!

بہر حال حزب اختلاف کو اپنی بات کرنے کی آئنی و قانونی آزادی ہے اسے اس سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بے شک وہ نئے چہروں کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہے۔ مگر اب سب کو خبر ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے جب تک ان کے بڑے حیات ہیں وہ انہیں ڈکٹیٹ کرتے رہیں گے لہٰذا یہ سمجھنا کہ کوئی مفید نیا سیاسی منظر ابھر رہا ہے تو درست نہیں سب پر انا ہے ہاں انداز نیا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سیاسی لوگ ہمیشہ پینترے بدلتے رہتے ہیں نسل در نسل چلے آتے ہیں کیا عوام کو نہیں سوچنا پھر وہی لوگ جو ملک کا سرمایہ ہتھیا کہ بیرون ملک میں محل جائیدادیں اور کارخانے بناتے ہیں ان کا زیادہ تر وقت یورپ و مغرب میں گزرتا ہے ان پر مسلط رہیں۔

ان سے پیچھا چھڑوانا ہو گا بد عنوانی کی دلدل سے نجات حاصل کرنا ہو گی وگرنہ قرضہ سر پر چڑھتا رہے گا اور ان کی چیخیں بلند ہوتی رہیں گی۔ انہیں غور کرنا ہو گا کہ جو یہ سیاستدان کہتے رہے وہ محض انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اس میں کوئی صداقت نہیں تھی اگر تھی تو پھر وہ ایک دوسرے کے قریب کیوں آئے۔ صرف اس لیے کہ ایک بار پھر عوام کو اتحاد کر کے اپنے مفاد کے لیے اکٹھا کریں اور اقتدار کے مزے لوٹیں یہ دھوکا ہے اور زیادتی بھی لہٰذا غور و فکر کرنا ہے۔

آج کے با شعور عوام کو یہ لمحات جو ان پر گراں گزر رہے ہیں باقی نہیں رہیں گے۔ کیونکہ عمران خان کی نیت صاف ہے وہ بد عنوان نہیں دھوکے باز بھی نہیں اسے یہ سیاسی و غیر سیاسی لوگ نا پسند ہی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ایک نئے سماج کی تشکیل چاہتا ہے۔ جس میں امن، مساوات اور خوشحالی ہو مگر افسوس اپنے متعلق سوچنے والے افراد اسے موجودہ کڑے وقت کا ذمہ دار ٹھہرا کر عوام کی نظروں سے گرانا چاہتے ہیں اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر انہیں آہوں اور سسکیوں سے چھٹکارا دلانے کوئی نہیں آئے گا لہٰذا عوام ٹرننگ پوائنٹ پر آن کھڑے ہوئے ہیں انہیں صحیح سمت کا تعین کرنا ہے ماضی میں چر کے لگانے والوں کا ساتھ دینا ہے یا راحتوں کی راہداریوں کی طرف لے جانے والوں کے پیچھے چلنا ہے۔ اس کا فیصلہ انہیں کرنا ہو گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •