وادی پھر سے مہک اٹھے گی!

مودی سرکار نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے اہل کشمیر پر! یہ سفاکیت، یہ وحشت اور یہ جارحیت قابل مذمت ہے! کشمیری نہتے، بے بس اور لاچار تڑپ رہے ہیں صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مگر دھند ہے ہر سمت دھند۔ ان کی فریاد…

Read more

ابھی تک خزانہ خالی ہے؟

ہمارے چاک و چوبند وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی لوٹ مار کی وجہ سے قومی خزانہ خالی ہے۔ ایک برس ہونے کو آگیا مگر یہ گردان کہ ’خزانہ خالی ہے‘ کی جا رہی ہے جبکہ کچھ ممالک سے رقوم آ چکی ہیں اس کے پیش نظر کہا گیا کہ…

Read more

میرے سامنے ایک روشن پاکستان ہے

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورے سے یہ تاثر عام ہے کہ اب وہ بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح کے ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے امریکا جو دنیا کی بڑی طاقت ہے سے الجھنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کی آشیر باد کو ضروری جانا لہٰذا وہ اس کی جانب سے دی گئی…

Read more

سیاسی جماعتوں کے کارکنان

شاید ہی ملک کی کوئی سیاسی جماعت ایسی ہو گی جو اپنے کارکنوں کو اہمیت دیتی ہو گی وگرنہ سب کی سب ان کو غیر اہم تصور کرتی ہیں مگر ان سے یہ توقع کرتی ہیں کہ وہ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ان کی (سیاسی جماعتوں ) ”مشہوری“ کے لیے میدان عمل میں…

Read more

احتساب سے کیا حاصل؟

ایسا لگتا ہے کہ احتسابی عمل آنے والے دنوں میں تیزی سے آگے بڑھے گا کیونکہ اب تک کی گرفتاریاں غیر معمولی ہیں لہٰذا دیگر مطلوب ملزمان سے کسی رعایت یا ڈھیل کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ بات بڑی عجیب ہے کہ جن لوگوں نے ملک و قوم کا پیسا ذاتی تجوریوں میں ٹھونسا انہیں…

Read more

کیا حکومت مستحکم ہے؟

مہنگائی کی بنا پر عوام میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور وہ حکومت کو ہر وقت ہر مقام پر کھری کھری سُنا رہے ہیں۔ خواتین جنہیں باورچی خانہ سنبھالنا ہوتا ہے حکومت مخالف گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ عمران خان کو ذرا بھر احساس نہیں…

Read more

نرسوں کے موبائل فون اور سرکاری حکم نامہ

ایک خبر کے مطابق پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے علاوہ ازیں وہ یونیفارم پہننے اور محکمے کا کارڈ آویزاں کرنے کی بھی پابند ہوں گی۔ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جب سے سمارٹ فون…

Read more

دُکھ درد کے مارے لوگ کدھر جائیں؟

موجودہ حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی جمع پونجی ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔

ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سننے کو مل رہی ہے کہ جس کے بعد بندہ ایک لمحے کو ساکت ہو جاتا ہے بعد ازاں وہ اس سوچ میں پڑجاتا ہے کہ اب وہ کیسے جیئے گا۔ مگر اس کے جذبات و احساسات سے بے خبر دھڑا دھڑ حکومت ”قانونی سینہ زوری“ میں مصروف ہے۔ نفسیاتی طور سے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں یہ کہتی ہے کہ بس جو نہی دو برس کا عرصہ بیتے گا ان کے زرد چہروں پر سُرخی نمو دار ہو جائے گی جبکہ عوامی شعور اس کی اس منطق و دلیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اس کے مطابق جب مسرت و انبساط کے لمحات کا کوئی امکان ہو گا بھی تو عوام بیزار اور دوبارہ انہیں مفلسی و تنگدستی کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے کیونکہ وہ عوام کو کسی صورت خوشحال اور پر سکون نہیں دیکھنا چاہتے، ان پر خرچ ہونے والی دولت کا رخ اپنی طرف موڑتے چلے آئے ہیں۔

Read more

دہائی ہے تبدیلی سرکار کی!

مہنگائی کا اژدھا مسلسل پھنکار رہا ہے جس سے غریب عوام سہم سہم جا رہے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ موجودہ حکومت کو کھری کھری سنا رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں سر براہ حکومت سے کیا انہیں اسی طرح تنگدستی کی زندگی بسر کرنا ہے۔ یہ کہ انہوں نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں…

Read more

ہماری لرزاں معیشت

ملکی معیشت میں بہتری کی نوید دی جا رہی ہے مگر اس وقت اُس کی ناتوانی نے بائیس کروڑ عوام کو بے حال کر کے رکھ دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات بھی جاری ہیں مگر اس کے باوجود ناجائز منافع خور سینہ تان کر غریب عوام کی کھال کھینچ رہے ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو لوگوں کو تاجرانہ لوٹ مار سے محفوظ کر سکے!

Read more