بات حد سے آگے نکل چکی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گیس کے میٹر کے کرائے کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ یوں لوگوں کی رگوں سے خون کشید کیا جانے لگا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ان کی ہڈیوں کا گودا بھی کھائے جانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ آئے روز مہنگائی۔ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہو گا؟ ادھر نئے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں مگر ذرائع روزگار نہیں پیدا کیے جا رہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، وگرنہ ہر برس ان میں اضافہ کیا جاتا تھا۔
اب جب حزب اختلاف ان مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہے گی، تو اسے بہت آسانی ہو گی۔ کیونکہ لوگ موجودہ حکومت سے نکو نک آ چکے ہیں۔ ہم انتظامی معاملات کی بات ہر تیسرے چوتھے کالم میں کر کے اس کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوتی ہو۔ بس اسے جو مشورے دیے جاتے ہیں، ان پر وہ من و عن عمل کرتی ہے، اور عوام کی چیخیں نکال دیتی ہے۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے کہ جنہیں کھانے پینے کی چیزیں بھی پوری طرح میسر نہیں۔ پھر ستم یہ کہ وہ ناقص ہوتی ہیں۔ اس سے وہ اکثر مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، اور جب دوائیں خریدنے جاتے ہیں، تو وہ ان کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ اگر وہ جیسے تیسے انہیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تو ان میں ستر اسی فی صد غیر معیاری ہوتی ہیں۔ ان کو استعمال کرنے کے بعد مریض دیر تک شفایاب نہیں ہوتے۔
Read more