اب آگے بڑھنا ہے

بلاشبہ پچھلی حکومت عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہی انتظامی حوالے سے بھی اس کی کارکردگی صفر تھی مہنگائی اس کے دور میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی قبضہ گروپوں اور سینہ زوروں نے اودھم مچا رکھا تھا۔ پنجاب میں گویا اندھیر نگری چوپٹ راج کا منظر تھا رشوت اور کمیشن خوری عام تھے۔ بغیر پیسے کے معمولی سے معمولی کام بھی نہیں ہوتا تھا آئی ایم ایف کی شرائط سے بھی زیادہ پر عمل درآمد ہوتا۔ اسٹیٹ

Read more

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر احتساب کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بالکل ٹھیک ہے بدعنوانی بہت بری چیز ہے اس ایک برائی اور جرم سے کئی خرابیاں جنم لیتی ہیں لہٰذا اس کے خلاف ہونا چاہیے عوام بھی یہی چاہتے ہیں اور اہل فکر و دانش بھی مگر سوال یہ ہے کہ اب جب ساڑھے تین برس ہو چکے ہیں اور موجودہ حکومت نے

Read more

منزل کی طرف جانے والے راستے دھندلا گئے

اے کاش! وزیراعظم عمران خان نے کچھ سخت فیصلے عوام کے مفاد میں کیے ہوتے تو ہم بھی کہتے کہ واہ خان صاحب آپ نے دل خوش کر دیا مگر افسوس کہ وہ اب تک ایسا کچھ کرنے میں ناکام رہے ہیں لہٰذا ہمیں ان کے اقتدار میں رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ہماری شدید خواہش ہے کہ اب وہ گھر جا کر آرام کریں کیونکہ ان کی پالیسیاں وطن عزیز کو بہت پیچھے لے جا چکی ہیں۔ حیرت

Read more

پی ٹی آئی کو ہارنا ہی تھا

خیبر پختونخوا میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو بری طرح سے شکست ہوئی ہے اور اب اس کے بڑے عہدیداران یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے امیدواروں کے چناؤ میں غلطی ہوئی ہے اگر وہ اس پہلو کا دھیان رکھتے تو انہیں ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔ وزیراعظم عمران خان نے کے پی کے میں اپنی جماعت کی غفلت اور نا اہلی کا نوٹس لے لیا ہے کہا جا رہا ہے کہ وہ

Read more

اب ایک اور بجٹ آئے گا

یہ جو منی بجٹ لایا جا رہا ہے اگریہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے یقینا لوگوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ جائے گی جبکہ وہ پہلے ہی ہوشربا گرانی سے گھائل نظر آتے ہیں۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے اگرچہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اس منی بجٹ کو پاس نہیں ہونے دیں گی مگر اب تک انہوں نے اپنے کہے ہوئے پر عمل نہیں کر کے دکھایا لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو

Read more

دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں

فرض کیا موجودہ حکومت اپنی مدت اقتدار پوری نہیں کرتی اور اس کی جگہ نئی حکومت آتی ہے تو اس سے عوام کو کیا فرق پڑے گا۔ وہی چہرے ہوں گے، وہی طرز عمل اور وہی طرز سیاست ہو گا جواب تک ہے۔ یہ جو ایک سنسنی سی حکومت کے آنے جانے کی پھیلائی جا رہی ہے اس کا مقصد محض دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا اپنے کارکنوں اور ووٹروں کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھنا ہے۔ انہیں اقتدار میں آنے

Read more

اب یہ نظام بدلے گا

اس وقت پورے ملک میں سماجی، معاشی اور سیاسی صورت حال بڑی خراب نظر آتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بیزار ہیں۔ اپنے بیگانے کا فرق قریباً ختم ہو گیا ہے۔ معیشت کی ناؤ بری طرح سے ہچکولے لے رہی ہے۔ اگرچہ اسے سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں مگر وہ نہیں سنبھل رہی۔ اسی طرح سیاست ہے جس میں گویا ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں غریب عوام کو اپنے بیانات، نعروں اور دعووں سے متاثر

Read more

زرد چہرے چیختے ہیں شدت آلام سے

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ جوں جوں حکومت کے جانے کا وقت قریب آئے گا وہ عوام کو سہولتیں دینے کی طرف بڑھے گی ان کی قوت خرید میں اضافہ کرے گی لہٰذا وہ مہنگائیوں کی ابھرتی ہوئی لہروں کو بھول جائیں گے اور ان کی سوچ میں تبدیلی آ جائے گی کہ وہ پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں دیکھنا چاہیں گے مگر ایسا دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا۔ موجودہ صورت حال کے برقرار

Read more

جاگنا نہیں سوئے رہنا

یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں کہ ان پر ستم در ستم ڈھائے جا رہے ہیں مگر انہیں کوئی پروا نہیں سوئے پڑے ہیں جگانے والے اپنا فرض پورا کر رہے ہیں مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ مغربی ممالک ہوں یا یورپ کے وہاں کے عوام کسی سیاسی جماعت کی کال کے بغیر حکمرانوں کی زیادتیوں کے خلاف خود بخود سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں مگر یہاں صورت حال مختلف ہے کہ

Read more

نقار خانے میں طوطی کی آواز

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام آدمی کی زندگی پر آسائش نہیں اس میں تلخیاں ہی تلخیاں ہیں۔ مصائب ہی مصائب ہیں اور غم ہی غم ہیں۔ کوئی ان سب سے نجات دلوانے کے لیے آگے نہیں آ رہا جو آتا بھی ہے وہ کچھ کر نہیں پاتا یوں کروڑوں لوگ اب تک امید کے سہارے جی رہے ہیں مگر شاید انہیں مستقبل میں بھی اپنے جیون میں آسانیوں اور آسائشوں سے روشناس نہیں ہونا کیونکہ اہل اختیار کو

Read more

اہل اقتدار ذرا سوچئے

اب تو ایک ہی موضوع رہ گیا ہے مہنگائی، جس پر لکھا جا رہا ہے آئے روز یہ آکاس بیل کی طرح بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے کوئی اسے روکنے والا نہیں ۔ متعلقہ ادارے بے بس نظر آتے ہیں۔ وہ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس پر کیسے قابو پایا جائے کیونکہ مافیاز طاقتور ہیں مگر ریاست کو حرکت میں آنا ہی پڑے گا وگرنہ لوگ سڑکوں پر آنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے۔ غربت بڑھ

Read more

کیا سوچا تھا کیا ہو گیا

چوہتر برس کے بعد بھی قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو سکی کہ غریب پر یہ لاگو ہے اور امیر کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ کیا جمہوریت پروان چڑھی بالکل نہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنوں میں ریوڑیاں بانٹتی نظر آتی ہے۔ نسل در نسل یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مگر حیرت یہ ہے کہ سیاستدان و حکمران خود کو جمہوریت کے چیمپئن قرار دیتے ہیں مگر عوام کی کسی ایک بات کو بھی تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔

Read more

کیا سب ٹھیک جا رہا ہے؟

جمہوری حکومت نے ایک بار پھر قومی خزانہ بھرنے کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے اب اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا جو پہلے ہی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ دراصل یہ سب آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اگر عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں تو وہ ناراض ہو کر قرضہ دینا بند کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب

Read more

اچھا وقت ضرور آئے گا

حکومت کے تین سالہ عرصہ کے دوران کئی نشیب و فراز آئے جس سے ایسا لگا کہ وہ اب گئی کہ اب گئی مگر ایسا کچھ نہ ہوا لہٰذا وہ اپنی جگہ موجود ہے۔ اگلے دو برس میں کہا جا سکتا ہے کہ اسے کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ حزب اختلاف یکسو نہیں اور متحد بھی نہیں پھر وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ اس سے عوام کو معلوم

Read more

عوام میں بے چینی بڑھنے لگی

موجودہ دور میں قانون کو جس قدر نظرانداز کیا جار ہا ہے، میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا کہ عصمتیں لٹ رہی ہیں، سینہ زوری کے مظاہرے عام ہیں، کمزوروں کی جائیدادوں اور مکانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، ملاوٹ کرنے والے پوری دلیری کے ساتھ اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ غنڈے دندناتے پھرتے ہیں۔ تھانے اور پٹوار خانے پہلے سے کہیں زیادہ اندھیر مچائے ہوئے ہیں۔ کہنے کو بہت کچھ ہے

Read more

تیرے وعدے پے اعتبار کیا

عمران خان بڑے خوش قسمت ہیں کہ مسلسل جیتتے چلے آ رہے ہیں اور جب ان کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو بھی وہ بھی یکایک ٹل جاتا ہے۔ مہنگائی کے امڈ آنے والے طوفان پر بھی عوامی احتجاج ہوتا ہے تو وہ بھی چند روز میں ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے نعروں اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر سکے۔

Read more

مہنگائی پھر لوٹ آئی

ووٹوں کے حصول کے لئے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں مستعد نظر آتی ہیں مگر عوام کے مسائل کے حل کے لئے انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے جامد و ساکت ’کوئی باقاعدہ احتجاج نہیں کیا جاتا کوئی شور شرابا نہیں ہوتا مگر عوام نے بھی یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے انہوں نے ”دھڑا کٹنا“ ہے یہی وجہ ہے کہ اب جب حکومت نے پٹرول مہنگا کیا ہے تو کوئی منظم رد عمل سامنے نہیں

Read more

اگلے دو برسوں میں عوام کی حالت بدلنے کا امکان؟

ابھی بجٹ کو پاس ہوئے دو ہفتے ہوئے ہیں کہ مہنگائی نے گویا غریب آدمی کی جان نکال لی ہے۔ قریباً ہر استعمال کی ضروری چیز کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی کوئی خاؔص وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ حکومت نے تو کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا او حتیٰ المقدور کوشش کی ہے کہ عوام پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے اس کے باوجود اشیائے خورونوش دس سے بیس روپے تک مہنگی کر دی گئی ہیں۔

Read more

اب اس نظام کو بدل دینا چاہیے!

بلا شبہ وزیر اعظم عمران خان باتیں بڑی اچھی کرتے ہیں ان کی بدن بولی بھی متاثر کن ہوتی ہے مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ان پر عمل بہت کم ہوتا ہے مثال کے طور سے جب وہ کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ہو گا کسی کو این آر او نہیں ملے گا تو ہم دیکھتے ہیں معاملہ اس کے الٹ ہے پھر وہ اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں کہ بیورو کریسی نظام عدل

Read more

اپنا مفاد پہلے

ابھی تک بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آ رہا کہ عمران خان نے جو امریکا کو اڈے نہ دینے کے حوالے سے کہا ہے وہ سچ ہے کیونکہ ماضی میں وہ جب کوئی بات کرتے تو اس سے پھر جاتے تھے جسے یو ٹرن کہا گیا۔

یہ رہا گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان ’جب امریکا افغانستان سے مکمل طور سے واپس جائے گا تو سب معلوم ہو جائے گا کہ ڈرون کہاں سے اڑتے ہیں مگر مجھے عمران خان پر پورا بھروسا ہے کہ جو اس نے کہا ہے اس پر من و عن عمل درآمد ہو گا یعنی امریکا کو اڈے بھی نہیں ملیں گے اور اس کے ڈرون ملک کی فضاؤں سے بھی نہیں گزریں گے کیونکہ ہم اس کی خواہشات کو پورا کرتے کرتے بہت نقصان برداشت کرچکے کہ اب تک ہم نے جو بھی پالیسیاں امریکی ڈکٹیشن پر بنائیں اور اس کی دوستی میں جن معاملات کو دیکھا ان سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

Read more

عوام کے دن پھرتے ہی نہیں

حکومت نے پچھلے تین برسوں میں عوام کا خیال خوب رکھا ہے کہ آئی ایم ایف کی قسطیں ادا کرنے کے لئے ان پر ٹیکسوں کی یلغار کر دی جس سے ہر طرف آہیں اور سسکیاں بلند ہونے لگیں۔ مہنگائی آکاس بیل کی مانند بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے انتظامی معاملات ویسے تو کبھی بھی بہتر نہیں ہوئے مگر موجودہ حکومت میں تو بد انتظامی کا ریکارڈ قائم ہو گیا اگرچہ یہ تاثر بھی عام ہے کہ عمران خان

Read more

دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکا کھلا

آج کے ہمدرد سیاسی رہنما موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں وہ حکمران تھے انہوں نے بھی قرضے لئے تھے نئے نئے ٹیکس لگائے تھے یہ سب وہ عالمی مالیاتی اداروں کے حکم پر کرتے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان کے ادوار میں بدعنوانی بھی ہوتی تھی کمزور لوگوں کی زمینوں پر قبضے بھی ہوتے تھے غنڈے بھی شریف شہریوں کو ڈراتے دھمکاتے۔ مہنگائی مافیا بھی من مرضی کرتا الغرض ان

Read more

سیاست اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جب کوئی حکومت انتخابات کے بعد وجود میں آتی ہے تو اس کی مخالف جماعتیں شور مچانا شروع کر دیتی ہیں کہ وہ دھاندلی کر کے آئی ہے۔ لہٰذا یہ جماعتیں اسے ایک قدم بھی بڑھانے نہیں دینا چاہ رہی ہوتیں اور اس کو پریشان کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف عمل ہو جاتی ہیں۔ ایسا اگر نہ ہوتا تو آج ہم جن گمبھیر مسائل سے دو چار ہیں وہ نہ ہوتے مگر اس

Read more

دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں

حکمرانوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دوائیں مہنگی ہو رہی ہیں یا غذائیں کیونکہ ان کے پاس ڈھیروں دولت ہے۔ انہیں غریب عوام کے بارے میں بھی نہیں سوچنا کہ وہ کس حال میں رہ رہے ہیں ان کے بچوں کو تعلیم و صحت کی سہولتیں میسر ہیں کہ نہیں۔ مگر غریب عوام ان کے ساتھ مسلسل جڑے ہوئے ہیں ان کے لیے دشمنیاں مول لیتے ہیں اپنے عزیزوں رشتہ داروں سے دور ہو جاتے ہیں اس

Read more

عوام کو کب کس نے جانا؟

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ حکومت، عوام کے لیے نہیں اپنے لیے ہے کیونکہ ابھی تک وہ یہ نہیں ثابت کر سکی کہ اس کے دل میں غریب لوگوں کا درد ہے۔ آئے روز تکلیف دہ احکامات صادر کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی پر اس کا ذرا بھی کنٹرول نہیں۔ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں بھی مشکلات تھیں مگر اس طرح نہیں جس طرح آج ہیں۔ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں کوئی اصولی و ضابطہ نہیں بس اندھا دھند حکمرانی

Read more

افتخارالدین بھٹہ: میرے فکری سفر کے پچاس سال

اس وقت جب مہنگائی اور بے روز گاری نے لوگوں کو ادھ موا کر دیا ہے اور وائرس نے خوف کی فضاقائم کر رکھی ہے اخبارو جرائد سے عام آدمی کی دلچسپی زیادہ نہیں رہی۔ کتاب خریدنے اور اسے پڑھنے کا رجحان تو پہلے ہی کم تھا اب اس میں مزید کمی آ گئی ہے اس کی ایک وجہ جہاں موجودہ صورت حال ہے تو وہاں اس کی قیمت ہے جواس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ اسے خریدنے کے

Read more

حکومت عوامی احساسات کا خیال کرے

اگر یہ کہا جائے کہ حکومت کی انتظامی گرفت کمزور پڑ چکی ہے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ ہر کوئی اپنی من مانی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے ماتحت سویلین ادارے تو بالکل کسی کی پروا نہیں کر رہے۔ انہوں نے اپنی الگ دنیا بسا رکھی ہے جس میں وہ مکمل آزادی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں پوچھ سکتا ، کوئی نہیں ٹوک سکتا۔

اڑھائی برس کے بعد بھی ہمارے حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ایسے مسائل جن کا تعلق براہ راست انتظامیہ سے ہے ، اس پر توجہ دے کر انہیں حل کیا جا سکتا ہے ۔ بس وہ یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ حزب اختلاف ان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ یعنی حزب اختلاف حکومت کے اعصاب پر سوار ہے لہٰذا وہ مجبور ہیں کہ عوامی مشکلات کو ختم نہیں کر سکتے؟

Read more

ہمیں سیاست کی نہیں خدمت کی ضرورت ہے

بیس تیس برس پہلے سیاست بڑی محتاط تھی مگر اب بہت ”دلیر“ ہو گئی ہے۔ اس نے تمام ”جھاکے“ ایک طرف رکھ دیے ہیں اور میدان عمل میں خوب اچھل کود کر رہی ہے۔ اسے یہ فکر نہیں کہ عوام کیا سوچیں گے؟

یہ جو سینیٹ کے انتخابات میں ہو چکا ہے ، اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ ہماری سیاست اور سیاسی جماعتیں عوامی مفاد میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب جب جیتنے والے لوگ ایوان میں پہنچے ہیں تو ان سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ غریب عوام کے لیے کچھ کریں گے؟ نہیں بالکل نہیں۔ یہ پہلے بھی جو تھوڑا بہت کرتے تھے وہ عوام کو نفسیاتی طور سے مطمئن کرنے کے لیے ہی کرتے تھے ، انہیں ان سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ ہی ہے۔ یہ لوگ محض اقتدار کے لیے جوڑ تور کرتے ہیں اور پیسے کے حصول کو ممکن بناتے ہیں۔

Read more

حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں لیکن عوام کے دل جیتنا مشکل نہیں

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی ساری توجہ حزب اختلاف کی حرکات و سکنات پر مرکوز ہے کہ اس نے اڑھائی برس احتساب اور این آر او کی گردان الاپتے ہوئے گزار دیے جس کے نتیجے میں سماجی و معاشی مسائل گمبھیر تر ہوتے گئے اب حالت یہ ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں لہٰذا وہ اس کیفیت کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر ماضی کے حکمرانوں کی آڑ لے رہی ہے ،انہیں برا بھلا کہہ کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Read more

کب بدلے گی یہ رت؟

جوں جوں عمر گزر رہی ہے مشکلات و مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک طرف مختلف النوع امراض کا سامنا ہے تو دوسری جانب معاشرتی الجھنیں ہیں ، زندگی ہر لمحہ بے قرار و مضطرب رہنے لگی ہے۔ ان سب چیزوں کا اثر آنے والی نسل پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی موجودہ صورت حال سے پریشان ہے مگر ہمارے حکمرانوں اور اہل اختیار کو اس کی کوئی فکر نہیں ، کوئی مرتا ہے تو مرے

Read more

سیاست کی خاطر اپنے سماجی تعلقات برباد نہ کریں

ہمیں اب کسی کے جیتنے کی خوشی ہے نہ کسی کے ہار جانے کا غم۔  وجہ اس کی یہی ہے کہ یہ کھیل ہم طویل عرصے سے دیکھ رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی بھی اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر سکا۔ پھر دیکھا گیا کہ جو جیتا وہ عوام سے دور ہو گیا بلکہ چھپ گیا۔ لوگ اس سے جو توقعات وابستہ کر بیٹھے تھے، وہ سب دھری کی دھری رہ گئیں۔ جب چند برس گزر گئے تو ایک

Read more

نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی

حزب اختلاف ابھی تک وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ نہیں دلوا سکی کہ اکتیس جنوری گزر چکی ہے۔ اب وہ شاید خود استعفے دے اور لانگ مارچ کرے کہ اس سے پریشان ہو کر عمران خان اقتدار سے الگ ہو جائیں یوں ان پر احتساب کی لٹکتی تلوار ہٹ جائے۔ پھر وہ کسی نہ کسی طرح نئے انتخابات کروا کر حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے مگر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ وہ اپنا اتحاد (پی

Read more

بس یوٹرنی سیاست کا مزا لیتے رہیں

وہ کیا ہے کہ حالات بدلتے نہیں اور تحریروں میں نیا رنگ دیکھنے کو ملتا نہیں، پڑھنے والے بھی اکتا جاتے ہیں مگر کیا کیا جائے بات مسائل و مشکلات کی کرنا ہی پڑتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا لکھنا ضروری ہے ، جی، کیونکہ ہم قریباً 35 برس سے لکھ رہے ہیں لہٰذا لکھنے کی عادت پختہ ہو چکی ہے ، اب لکھے بغیر رہا نہیں جاتا ، ہماری اس کمزوری کا کچھ لوگ فائدہ بھی اٹھاتے

Read more

مسائل بڑھتے گئے سیاست ہوتی رہی

عوام کی غالب اکثریت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس وقت کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو مسائل کے حل کا ادراک و فہم رکھتی ہو ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کسی کے پاس وہ قیادت نہیں جسے لوگوں کے دکھوں کا علم ہو اور وہ انہیں محسوس کر سکتی ہو ، مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے عوام کے قریب تر ہونے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ان کی ہمدرد و غم گسار ہیں۔

ہم اپنے کالموں میں کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے حکمران عوامی سوچ سے محروم رہے ہیں۔ اگرچہ وہ عوام عوام کی گردان کرتے چلے آئے ہیں مگر یہ محض دکھاوا تھا، انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، وجہ اس کی یہی تھی کہ انہیں جب بھی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا ہوتا، اس کے لیے آشیر باد کسی بڑی طاقت کی لینا ہوتی۔ یہ طے ہوتا کہ اس طاقت کے مفادات کو تحفظ بہرصورت دیا جائے گا۔

Read more

عوام کی فکر کون کرے گا؟

تأثر یہ ابھر رہا ہے کہ فریقین اقتدار کے لیے ہی محترک ہیں ، ایک اپنا اقتدار بچانا چاہتا ہے تو دوسرا اسے حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کھینچا تانی میں کچھ عوام کا بھی بھلا ہو جائے گا یعنی اب اگر حکومت لوگوں کو ریلیف دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے اور اس کا کریڈٹ صرف اسے ہی نہیں حزب اختلاف کو بھی جائے گا کیونکہ اس کی وجہ سے یہ ہو گا وگرنہ حکومت تو شاید آخری چند ماہ میں کچھ دینے کا سوچتی اور اس وقت لوگوں کا حال بہت خراب ہو چکا ہوتا۔

Read more

کیا عوام اقتدار کی سیاست سے مایوس ہو چکے؟

اب یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے ، لوگ موجودہ صورت حال سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اہل اقتدار و اختیار پر ہی انحصار کرنے لگے ہیں۔  اب جب کہ حزب اختلاف حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کرنا چاہ رہی ہے تو دکھائی یہی دیا ہے کہ منظر دھندلا ہے ، وہ جذبہ وہ جوش اور وہ ترنگ نہیں ہے جو کبھی جلسوں جلوسوں میں واضح طور سے محسوس کی جا رہی ہوتی تھی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب عوام ادھر ہیں نہ ادھر اور جو ہیں وہ طوعاً و کرہاً ہیں ، کسی کے کسی کے ساتھ معمولی مفادات جڑے ہوتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ نہیں یعنی عوامی ردعمل ہمارے سامنے ہے اور عام آدمی سب سے مایوس ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگلے پچھلے سبھی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بے چین ہیں ، انہیں کسی سے کوئی ہمدردی نہیں اور اگر ہوتی تو آج سب مل کر سوچتے مسائل کا حل ڈھونڈتے، ترقی کے مراکز کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دیتے مگر افسوس یہ تو ایک دوسرے کو ناکام دیکھنے کے متمنی ہیں اور بتا رہے ہیں۔

Read more

حکومت بے نیاز کیوں ہے؟

حکومت قومی خزانہ بھرنے کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی ترکیب نکال رہی ہے اس کے باوجود وہ بھرنے میں نہیں آ رہا اور لوگ تنگ آ چکے ہیں مہنگائی انہیں بدحالی کی آخری سٹیج پر لے جا چکی ہے۔ اب جب سال نو کے آغاز پر اس نے پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تو لوگوں کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں ہر چیز کی قیمت بڑھ

Read more

خوابوں کی راہ پر چھائی دھند چھٹ سکتی ہے!

ملک کی سیاسی صورت حال روز بروز تبدیل ہو رہی ہے جس سے سیاسی و معاشی مسائل کے گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں۔ حزب اختلاف حکومت کو چلتا کرنے کی ضد پر قائم ہے اور وزیراعظم عمران خان اسے این آر او نہ دینے کا بار بار اعلان کر رہے ہیں جبکہ دانشور حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی کو این آر او دے سکیں؟ عوام کی حالت دیدنی ہے وہ کبھی حزب اختلاف

Read more

یہ رت ضرور بدلے گی!

ہر آنے والا دن اذیت ناک اور افسوس ناک محسوس ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے ایسا نہیں بھی ہو گا مگر غالب اکثریت کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے کیونکہ ایک طرف معاشی حالات ہیں جو خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور دوسری جانب سیاسی صورت حال ہے جس میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ ہماری اجتماعی صحت بھی بدحال ہے۔ تعلیم و تربیت کا زبردست فقدان ہے مگر اب بھی حکمران طبقوں کو اس کی

Read more

حالات اپنے مگر نہیں بدلے!

موجودہ حکومت کی پالیسیاں اور منصوبے عوام کے حالات بہتر نہیں کر سکے لگ رہا ہے آئندہ بھی ان کے لئے کوئی آسانیاں نہیں پیدا کر سکیں گے کیونکہ اس کے زہادہ تر وزیر و مشیر غیرمنتخب ہیں جنہیں ذرا سا بھی لوگوں کا خیال نہیں انہیں اپنے مناصب کے مزے لوٹنا ہے اور اپنے محسنوں کے مفادات کو ملحوظ رکھنا ہے جیسا کہ مشیر خزانہ ’انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ غریب لوگ کیسے گزارہ کرتے ہیں اور

Read more

اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت ہو سکتی ہے

اب تو یہ گماں گزرتا ہے کہ ملک میں کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو بڑھتی ہوئی غربت و افلاس کو روک سکے جتنی بھی جماعتیں ہیں سب اقتدار کے حصول تک محدود نظر آتی ہیں اگر یہ بات غلط ہے تو پھر اب تک یہ اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کیوں نہیں کر سکیں؟

ان دنوں جب حکومتی جماعت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتیں جلسے کر رہی ہیں تو بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ یہ اب بھی عوام کو مستقبل کے خوشنما مناظر دکھا کر اقتدار حاصل کرنا چاہ رہی ہیں۔

Read more

چہرے نہیں نظام بدلو!

حزب اختلاف کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت جنوری تک رہے گی بعض تجزیہ نگار بھی یہی کہتے ہیں مگر حکومت کا اس کے بر عکس کہنا ہے۔ اس سے مستقبل کا سیاسی منظر نامہ غیر واضح نظر آتا ہے فرض کیا اگر یہ حکومت چلی جاتی ہے اور کوئی دوسری آجاتی ہے تو کیا وہ در پیش مسائل کا خاتمہ کر سکے گی جواب ہو گا نہیں کیونکہ جب تک اس نظام جس نے اب

Read more

دیکھتے ہیں کیا ہو تا ہے؟

لگتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اگر یہ صورت حال بر قرار رہتی ہے تو کیا ہمارا سماجی ڈھانچہ تڑخ نہیں جائے گا؟ ادھر معیشت کی ناؤ بھی ہچکولے کھا رہی ہے جس سے غربت افلاس اور بے روزگاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لوگ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں مگر چند طبقات دولت کے ڈھیر لگا کر زندگی کی تمام آسائشیں حاصل کرتے ہوہئے نظر آتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت اور سویلین ادارے جن کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حالات کو عوام موافق بنانے کے لئے غور و فکر کریں وہ کیا سوچ رہے ہیں اور کیوں صورت حال کا جائزہ نہیں لے رہے اس کا انہیں جواب دینا چاہیے۔

Read more

وزیر اعظم اپنی ساری توانائی مسائل حل کرنے پر صرف کریں!

حزب اختلاف کی جماعتیں، حکومت گرانے کے لئے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے، مختلف شہروں کا رخ کر رہی ہیں۔ پی ڈی ایم، عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے، کہ وزیر اعظم اس اہل نہیں کہ حکمرانی کر سکیں۔ یہ حق صرف اور صرف ان کا ہے۔ وہ جماعتیں بہت جلد اقتدار میں آئیں گی اور ملکی ترقی کی رفتار میں تیزی لائیں گی۔

پی ڈی ایم عوامی مسائل کا ذکر بھی کرتی ہے کہ مسائل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، مگر حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اچھے دن آنے والے ہیں، بس تھوڑا صبر۔ ’حکومت، عوام کو سہولتیں دینے کے لئے سوچ بچار کر رہی ہے، بلکہ وہ اس حوالے سے متحرک بھی ہو چکی ہے۔ لہذا اس کے مثبت نتائج بر آمد ہونے کے قریب ہیں۔ عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

Read more

سیاست کی دنیا میں اضطراب!

اس وقت سیاسی منظر نامہ خاصا مضطرب نظر آتا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں، موجودہ حکومت کی کارکردگی اور طرز عمل سے سخت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ہے کہ اگر یہ حکومت مزید اقتدار میں رہتی ہے، تو ملک میں ایک بڑا سیاسی و معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔ لہذا اسے چلتا کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

ہم نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عوام حکومت سے مطمئن نہیں، کیوں کہ وہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے بہت پریشان ہیں۔ دوسری طرف روزگار کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں۔ اگر چہ حکومت نوجوانوں کے لئے چھوٹے بڑے کاروبار کے لئے کچھ سکیمیں بنا رہی ہے، مگر یہ بے روز گاری کے تناسب سے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کون روکے؟

بات حد سے آگے نکل چکی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گیس کے میٹر کے کرائے کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ یوں لوگوں کی رگوں سے خون کشید کیا جانے لگا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ان کی ہڈیوں کا گودا بھی کھائے جانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ آئے روز مہنگائی۔ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہو گا؟ ادھر نئے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں مگر ذرائع روزگار نہیں پیدا کیے جا رہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، وگرنہ ہر برس ان میں اضافہ کیا جاتا تھا۔

اب جب حزب اختلاف ان مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہے گی، تو اسے بہت آسانی ہو گی۔ کیونکہ لوگ موجودہ حکومت سے نکو نک آ چکے ہیں۔ ہم انتظامی معاملات کی بات ہر تیسرے چوتھے کالم میں کر کے اس کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوتی ہو۔ بس اسے جو مشورے دیے جاتے ہیں، ان پر وہ من و عن عمل کرتی ہے، اور عوام کی چیخیں نکال دیتی ہے۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے کہ جنہیں کھانے پینے کی چیزیں بھی پوری طرح میسر نہیں۔ پھر ستم یہ کہ وہ ناقص ہوتی ہیں۔ اس سے وہ اکثر مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، اور جب دوائیں خریدنے جاتے ہیں، تو وہ ان کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ اگر وہ جیسے تیسے انہیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تو ان میں ستر اسی فی صد غیر معیاری ہوتی ہیں۔ ان کو استعمال کرنے کے بعد مریض دیر تک شفایاب نہیں ہوتے۔

Read more

مہنگی دوائیں کیسے خریدیں گے غریب عوام؟

نجانے وہ دن کب آئیں گے جب عوام خوشحال زندگی بسر کریں گے۔ انہیں کوئی غم نہیں ہو گا۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہوگی۔ وہ شاداب چہروں کے ساتھ اپنا سفر حیات طے کر رہے ہوں گے! کہا جا سکتا ہے کہ جب تک حکمران اپنی حکمرانی کا انداز نہیں بدلتے عوام کو سکھ کا سانس بھی نہیں آئے گا اور وہ خود کو نہیں بدلیں گے۔ دراصل بنیادی طور سے وہ عوام بیزار ہیں

Read more

کیا حزب اختلاف عوام کو متحرک کر سکے گی؟

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہیں عوام کی بڑی فکر ہے کیونکہ وہ مہنگائی اور بے روز گاری کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں ان کا جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لہذا انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتیں انہیں اس حکومت سے نجات دلا کر ہی دم لیں گی؟ احتجاج ہر شہری

Read more

رات کے سناٹے میں بہرے قانون کو دی صدا

وہ یہ سوچ کر گھر سے نکلی تھی کہ قانون جاگ رہا ہے۔ وہ قدم قدم پر اسے دیکھ رہا ہوگا اس کے گرد ڈھال بن کر محو سفر ہو گا۔ لہذا وہ بے خوف ہو گئی اور اپنے جگر گوشوں کو ساتھ لے کر شاہراہ پر آ گئی۔ اسے مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ یہاں جو سوچا جاتا ہے۔ وہ ہوتا نہیں ہے۔

اس کی گاڑی ایندھن ختم ہونے پر رکتی ہے۔ رات کا سناٹا ہے۔ ویرانہ ہے۔ وہ اکیلی ہے۔ اب کیا کرے اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے۔ وہ شب کے پہریداروں کو پکارتی ہے۔ مدد کی درخواست کرتی ہے۔ وہ اسے حوصلہ دیتے ہیں۔ اس دوران کچھ وحشی اس کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔

Read more

عوام کی سوچ بدلنے لگی

جب سے کچھ حکومتی اقدامات نظر آنے لگے ہیں عوام کے ذہنوں میں جو حکومت مخالف ایک طوفان برپا تھا اس کی شدت میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دوبرس کے اندر بلاشبہ حکومت نے عوام کو تارے دکھائےہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ہوں یا انتظامی معاملات ان سب کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بے چینی کی لہر ابھر کر بلند ہوتی گئی مگر اہل اقتدار کے کان پر جوں

Read more

موجودہ حکومت کے عوامی فلاحی منصوبے اور انتظامیہ

موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ نئے پراجیکٹس بھی بنائے جا رہے ہیں سکولوں کی اپ گریڈیشن سے لے کر ہسپتالوں کی تعمیر نو تک ہو رہی ہے۔ صنعتی زون قائم کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے محکمے کو عوام دوست بنانے کی حکمت عملی طے کی جا چکی ہے کچھ نئے تھانوں اور کچھ ماڈل تھانوں کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جنوبی پنجاب

Read more

حکومت کے عوامی فلاحی منصوبے اور انتظامیہ

موجودہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ نئے پراجیکٹس بھی بنائے جا رہے ہیں۔ سکولوں کی اپ گریڈیشن سے لے کر ہسپتالوں کی تعمیر نو تک ہو رہی ہے۔ صنعتی زون قائم کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے محکمے کو عوام دوست بنانے کی حکمت عملی طے کی جا چکی ہے۔ کچھ نئے تھانوں اور کچھ ماڈل تھانوں کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے پروگرام ترتیب دے دیا گیا ہے۔

Read more

حکومت سے توقعات پوری ہو سکتی ہیں

عمران خان سے بعض معاملات میں اختلاف کیا جا سکتا پے مگر آن کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ وطن عزیز کو بام عروج تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ سخت فیصلے کر رہے ہیں مگر ان سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ ادھر مافیا کے اودھم مچانے سے ان پر اور بھی برا اثر پڑ رہا ہے، لہذا ان کے بارے میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ عوامی محاذ پر غیر

Read more

صحت مند معاشرہ: ترقی کا ضامن

اس وقت ہمیں صحت پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص غذاؤں، دواؤں اور آلودہ ماحول نے قریباً ہر دوسرے شخص کو متاثر کیا ہے۔ کوئی گردوں، دل اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہے تو کوئی جگر، معدہ اور ٹی بی کے مرض کا شکار ہے لہٰذا حکومت کو فی الفور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دینا چاہیے۔ یہ اس کا فرض ہے اور ذمہ داری بھی صحت مند شہری ہمیشہ مثبت سوچتے ہیں اور

Read more

گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے سے کام نہیں چلے گا

اب حکومت کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا رہی اس کا اظہار وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں جو ان کی کابینہ میں بھی شامل ہیں نے کیا ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پچھلے دنوں یہ جو ان کے جانے کی باتیں ہو رہی تھیں وہ سچ تھیں، باتیں اب بھی ہو رہی ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتیں یہ خواہش رکھتی ہیں۔ عمران خان کو اقتدار سے محروم کر دیا جائے کیونکہ وہ

Read more

احتساب، بس دیکھتے جائیے

احتساب کا عمل جاری ہے مگر دولت کی واپسی کی کوئی خبر نہیں سننے کو مل رہی۔ ہو سکتا ہے عوام کو اس بارے بتانا ضروری نہ ہو ویسے بھی ہر بات کب انہیں بتائی جاتی ہے۔ تمام فیصلے ان کی مرضی و منشا کے مطابق نہیں ہوتے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہیں تو اپنا ووٹ دینا ہوتا ہے جسے وہ اپنے من پسند امیدوار کو دے ڈالتے ہیں۔ خیر

Read more

نقارخانے میں طوطی کی آواز

کئی دنوں کے بعد ہاتھ میں قلم تھاما ہے کہ اداسی کی گرفت دل و دماغ پر بہت چھائی رہی اب بھی وہ کیفیت برقرار ہے مگر زیادہ نہیں لہٰذا سوچا جب دم ہے تو کچھ لکھا جائے اور بولنا پڑے تو بولا جائے کیونکہ اپنے حق کے لیے آواز تو بلند کرنا پڑتی ہے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے؟ اگرچہ اس وقت صورت حال ہر طرح سے خراب ہے بلکہ خراب ترین ہے کہ ایک طرف معاشی حالت

Read more

ہر ایک منظر عوام پر واضح ہو چکا!

اگر کوئی دوسرا نظام حیات ہوتا تو پھر عوام دیکھتے کہ مافیاز کیسے من مرضی کرتے ہیں مگر اب تو دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے لوگوں کا پرسان حال کوئی نہیں۔ حکومت گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتی رہتی ہے یعنی احکامات جاری کرتی رہتی ہے کہ یہ ہونا چاہیے فلاں چیز کی قیمت اتنی مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے زائد وصول کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا وغیرہ وغیرہ اب تک اگلی پچھلی حکومتوں میں

Read more

بے بس عوام اور آہنی ہاتھ

جوں جوں حالات آگے بڑھ رہے ہیں لوگوں کی ذہنی کیفیت پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے ابھی تک عالمی صحت کے ادارے اور دیگر کو کچھ پتا نہیں چل رہا کہ صورت حال کیا رخ اختیار کرے گی آئے روز کوئی نہ کوئی نئی علامت کا انکشاف ہو رہا ہے۔ اس وائر س نے دنیا کا رہن سہن بدل کر رکھ دیا ہے خوشیاں چھین لی ہیں ہر ایک امنگ اور ترنگ کو سلب کر لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے

Read more

حکومت آگے بڑھ کر عوام کو حوصلہ دے!

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی انتظامی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔ پہلے بھی ڈھیلی ہی تھی مگر اب تو وہ کمزوری کے آخری درجے پر دکھائی دیتی ہے؟

اس وقت جب ملک عزیز پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، ہر طرح کے مافیاز اپنی من مرضی کر رہے ہیں۔ اشیائے خور و نوش سے لے کر دواؤں تک کی قیمتیں اپنے طریقے سے بڑھا رہے ہیں۔ بالخصوص دواؤں کو فروخت کرنے والا مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔ اسے منافع حاصل کرنا مقصود ہے لہٰذا وہ معمولی سے معمولی دوا جو موجودہ بیماری کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے کو بلیک میں بیچ رہا ہے۔ یہ تو آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہو چکا ہو گا کہ ایک ٹیکہ جو دو تین میں ہزار روپے میں مل جاتا تھا، اب قریباً تین لاکھ میں بڑی کوشش کے بعد دستیاب ہوتا ہے۔

Read more

سوچ کے بھنور میں گھرے عوام

بلاشبہ وطن عزیز میں آئی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور بہت سے لوگ متاثر بھی ہو رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ صحت یاب بھی ہو جائیں گے ہو بھی رہے ہیں۔ ڈیڑھ دو فیصد اپنی جان کی بازی ہار رہے ہیں آنے والے دنوں میں جب اس وبا کی دوا آتی ہے تو سب خیر ہو جائے گی۔ مگر یہ جو نظام حیات ہے کہ جن میں لوگوں کو جانی و مالی تحفظ حاصل نہیں اس کا کیا بنے گا؟

اس وقت میں دیکھ رہا ہوں کہ جب حالات غمناک، افسوسناک اور اذیت ناک ہیں حکومتی فیصلے ایسے نہیں آ رہے سامنے کہ جس سے ان کا تدارک ہو سکے۔ ان کی شدت میں کمی آ سکے۔

Read more

وہ دن پھر لوٹ کر آئیں گے

زندگی سہم گئی ہے محبوس ہو کر رہ گئی ہے! ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں کوئی ”خوف“ گھات لگائے نہ بیٹھا ہو۔ مگر ایسا جینا کب تک؟ ہمیں اس افسردہ و آزردہ فضا سے نجات کب ملے گی، کچھ معلوم نہیں؟ اتنا مگر ضرور ہے کہ ملے گی سہی، کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے، لہٰذا وہ منصوبہ ناکام ہو گا!

اب حالت یہ ہے کہ لوگ ایک طرح سے مقید ہیں، وہ پہلے کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا۔ کیوں؟ کیوں کہ کہا جا رہا ہے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے جی بالکل خطرہ ہے، مگر اتنا نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے، اگر وہ چند اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، پھر سب ٹھیک ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہیں روشنیوں میں آنے دیا جائے، سورج کو دیکھنے دیا جائی!

Read more

پی ٹی آئی حکومت کیسے ناکام ہوئی؟

پی ٹی آئی کی سیاست احتساب اور بدعنوانی کے گرد گھومتی ہے مگر ابھی تک وہ ان دونوں پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکی وجہ اس کی یہی بتائی جاتی ہے کہ اس میں قابل احتساب افراد کی کثیر تعداد موجود ہے اور وہ حکومت کو ”قابو“ میں کیے ہوئے ہے اسے اقدامات متعلقہ کرنے نہیں دے رہی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بیانات پے بیانات کس لیے دے رہی ہے کہ کسی بدعنوان

Read more

حکومت کی کارکردگی اور بلاول بھٹو کی سیاست

حکومتی عہدیداروں کی طرف سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ معاشی و انتظامی صورت حال ٹھیک ہو جائے گی لہٰذا عوام کو صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظار کرنا چاہیے۔ وہ آنے والے مہینوں میں دیکھیں گے کہ اشیائے ضرورت مناسب قیمتوں میں دستیاب ہیں اور قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب کیوں نہیں۔ یہ محض لوگوں کو بیوقوف بنانے والی بات ہے اور ایک لولی پاپ دیا جا رہا ہے

Read more

پھر بدلے تیور؟

حزب اختلاف کی طرف سے ایک بار پھر موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لے جلسے جلوسوں کے انعقاد کے پروگرام کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت، حکومتی امور نمٹانے کے اہل نہیں ہے اسی لیے اس کے ڈیڑھ برس کے عرصے میں وہ مہنگائی، بیروزگاری اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اسے یہ سب کہنا چاہیے کیونکہ جب وہ اقتدار میں تھی تو عام آدمی

Read more

تحریک انصاف اب عوام کے قریب آتی جا رہی ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے کہ کمزور معیشت لرزاں ہے جسے مضبوط بنانے کے لئے حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنا پڑرہے ہیں۔ جس سے عوام کے روز شب تلخ ہوتے جارہے ہیں اس کی دو وجوہات ہیں ایک آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں اور دوسرے مافیاز ہیں جو مصنوعی صورت حال کو جنم دے کر عوام کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں مگر اب وزیراعظم پاکستان عمران خان

Read more

ملاوٹ کا خاتمہ ایک بڑی تبدیلی!

وہ دن کب آئے گا کہ جب ہر کھانے پینے کی چیز اصلی دستیاب ہو گی؟ اس وقت تو کچھ بھی خالص نہیں دودھ کیا، آٹا کیا اور چاول کیا سبھی ملاوٹ والے میسر ہیں۔ اگرچہ ملاوٹ سے روکنے والے محکمے موجود ہیں مگر پھر بھی ملاوٹیے اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں شاید اس لیے کہ وہ محکمے کے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرتے رہتے ہیں اور وہ ان سے صرف نظر کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ناخالص

Read more

اب حکومت جاگ گئی

اگر معاملات حکومت اہل اقتدار سے بہ احسن طریق نہیں چل پا رہے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ فقط یہ کہنا کہ پچھلی حکومتوں نے حالات خراب کیے یا مافیاز طاقتور ہونے کی بنا پر اسے آگے نہیں بڑھنے دے رہے اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں تو جائز نہیں کیونکہ وہ برسراقتدار ہے اس کے پاس اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال میں لا کر مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہے مگر شاید اس

Read more

مہنگائی کا طوفان رُکے گا بھی؟

حکمران جماعت کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے اس کی وجہ اس کی پالیسیاں ہیں جو زیادہ تر غیر عوامی ہیں لہٰذا عوام انہیں ناپسند کرنے لگے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ حکمرانوں کو اس امر کا احساس نہیں وہ آنکھیں بند کیے مزید پالیسیاں بناتے چلے جا رہے ہیں جو عوام مخالف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں وہ مجبور ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائے کیونکہ وہ

Read more

احتساب کا شور تھا، تھم گیا؟

برسوں پہلے جب عمران خان نے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی اور احتساب کا نعرہ لگایا تو عوام کی غالب اکثریت نے ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ اُنہیں ان کے ”طرز تکلم“ کے پیش نظر یہ امید تھی کہ وہ اگر منتخب ہو کر اقتدار میں آ جاتے ہیں تو بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور احتساب اس قدر سخت کریں گے کہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ راقم الحروف بھی یہی سمجھا

Read more

تبدیلی کے لیے خود کو تبدیل کیا جاتا ہے

فی الحال سب اچھا نظر آ رہا ہے کہ ماننے والے مان گئے ہیں یوں ”تبدیلی“ آتے آتے رک گئی ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ سب جو خفا خفا تھے مل کر حکومت کے کاموں میں حصہ لیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں ساتھ لے کر چلے تا کہ کل پھر کوئی ناراض نہ ہو سکے مگر حزب اختلاف کو بھی اسے ساتھ لینا چاہیے وہ بھی اگر ناراض ہوتی ہے تو صورت حال بگڑ سکتی

Read more

لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟

آئے روز اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ اسی طرح ہو رہا ہے جس سے کہنے کی حد تک نہیں عملی طور سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ ماہانہ بجٹ میں دو سے تین ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ذرائع آمدن محدود ہو گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں وہی ہیں جو پچھلے برس بڑھائی گئی تھیں اور اتنی بڑھائی گئیں کہ سر شرم سے

Read more

کلیپ، انسانیت کی خدمت میں مصروف!

اس وقت ریاست معیشت کے ہاتھوں پریشان دکھائی دیتی ہے۔ حکمران قومی خزانہ بھرنے کے لیے آئے روز پسے ہوئے عوام پر نئے نئے ٹیکس عائد کر رہے ہیں جس سے لوگوں میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہیں زندگی کے لوازمات حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ مگر تب بھی وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ تعلیم ہو یا صحت ان دونوں کا حصول ان کے لیے انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔

Read more

ان سب نے درد دیا

اشرافیہ کے ذاتی مسائل ہوں تو پلک جھپکتے میں حل ہوجاتے ہیں مگر غریب عوام بہتر برس سے غربت، افلاس، بیروزگاری کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لیے منتیں ترلے کر رہے ہیں مگر ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کے باوجود وہ آ س لگائے ہوئے ہیں خوشحال ہونے کی، جو کہ مشکل ہے کیونکہ اشرافیہ نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ ان غریب عوام کو سہولتوں اور آسائشوں سے زیادہ مستفید نہیں ہونے

Read more

سیاسی منظرنامے میں اتحاد کی جھلک

ڈیڑھ برس سے جاری حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین چلی آ رہی کشیدگی اب کم ہونے جا رہی ہے کیونکہ دونوں فریقوں کو ملکی مفاد عزیز ہے لہٰذا وہ اس حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نیب کے قانون اور عسکری قیادت کو مزید فرائض کی ادائی سے متعلق ترامیم میں حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ مقصد سب کا یہ ہے کہ ملک

Read more

سمیٹتے ہیں جو خزینوں کو اپنے دامن میں!

”حقائق سے پردہ اٹھاؤ تو کہا جاتا ہے یہ مایوسی ہے“۔ پھر کیا یہی کہا جائے کہ یہ جو برے دن ہیں ختم ہو جائیں گے ۔ گلشن میں بہار آ جائے گی۔ خزاں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ انصاف عام ہو گا۔ امن چین کی بانسریاں ہر سمت بجتی ہوئی سنائی دیں گی۔ غربت نہیں رہے گی، ملاوٹ، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا دور ایسے غائب ہو گا جیسے گدھے کے سر سے سینگ، باہمی

Read more

اب نوکریاں ملیں گی؟

ملکی حالات سیاسی، معاشی اور موسمی تینوں خراب ہیں! عمران خان وزیراعظم مگر کہتے ہیں گھبرانا نہیں۔ انہوں نے تسلی دی ہے کہ دو ہزار بیس ملازمتوں کا سال ہے اس میں بدعنوان عناصر بھی مشکل میں ہوں گے؟ اب اُن کی بات پر کیسے یقین کر لیا جائے کہ ماضی میں انہوں نے جتنے بھی وعدے کیے سب محض وعدے تھے اس طرح انہوں نے جودعوے کیے وہ بھی دعوے ثابت ہوئے۔ ابھی تک ان کی حکومت بدعنوانی کا

Read more

زندگی تھک سی گئی ہے

جاڑا اس بار آیا ہے تو لحاف چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا! یخ بستہ ہوائیں بھی چلتی ہیں اور دھند بھی چھائی رہتی ہے ہر ذی روح ٹھٹھرا جا رہا ہے! ٹنڈ منڈ درختوں پر بیٹھے پرندے بہار کے منتظر نظر آتے ہیں۔ ایک ننھی سی چڑیا ہے جو چوں چوں کرتی ادھر سے اُدھرپھدکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ خزاں کی زردی چہروں پر بھی چھائی ہوئی ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ زندگی بہت اُداس ہے!

Read more

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

ملکی حالات روز بروز خرابی کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت نے اس کے حوالے سے ہنگامی طور سے کوئی سوچ بچار نہ کی تو پھر وہ ہاتھ ملتی رہ جائے گی اور تیسری قوت معاملات مملکت دیکھنے کے لیے سامنے آن کھڑی ہو گی لہٰذا حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف دونوں کو تادیر سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ صورت حال اس قدر تبدیل ہو

Read more

المصطفے ٰ ویلفیئر ٹرسٹ

یہ ایسا دور آ گیا ہے کہ کوئی کسی کا نہیں، بس آپا دھاپی ہر سمت دیکھنے کو ملتی ہے سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ بات سوچنے کی ہے کہ پھر یہ معاشرہ یہ ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کے لیے جی رہے ہیں۔ اس ملک کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ المصطفے ٰ ویلفیئر ٹرسٹ ایک ایسی تنظیم ہے جو انسانیت کی خدمت کا

Read more

لمحہ موجود میں ملکی صورت حال پرسکون ہے

ملکی صورت حال ایک لمحے کو لگتا ہے بڑی پر سکون ہے مگر دوسرے ہی لمحے مضطرب نظر آ رہی ہوتی ہے۔ پچھلے چند روز میں ایسا لگا کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا اب حکومت کے لیے وہ اقدامات اٹھانا ممکن ہو جائے گا۔ جو وہ کئی ماہ سے کہتی چلی آئی ہے مگر پھر ہوا یہ کہ اسے عدالت عظمیٰ کی طرف سے تھوڑی سی پریشانی نے آن گھیرا۔ اس سے محفوظ رہنے کے لیے

Read more

کسی بڑے فیصلے کا امکان؟

حزب اختلاف کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان سے گلو خلاصی ہو جائے کیوں؟ کیونکہ وہ صرف اس کا احتساب کرتا ہے اپنے ارد گرد موجود بد عنوان لوگوں کو نہیں پوچھتا۔ اب اس نے ( حزب اختلاف ) عوامی مسائل کا بھی تڑ کا لگا دیا ہے کہ دیکھیں جی مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کا برا حال کر دیا ہے۔ لہٰذا اسے حکومت ختم کر کے وسط مدتی انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے؟ عمران خان

Read more

ملکی حالات بہتری کی جانب بڑھیں گے!

سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے مگر ہم ایسے ترقی پذیر ممالک میں اس کا مفہوم مختلف ہے۔ یہاں سیاست موقع پرستی، مفاد پرستی اور ہوشیاری کا نام ہے یعنی سیاست اِدھر محض مالی مفادات کے لیے اور اقتدار کا جھولا جھولنے کے لیے کی جاتی ہے عوام کی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا لہٰذا ہوا یہ ہے کہ اس میں پچھلے بیس برس سے ایسی ایسی تبدیلیاں آئی ہیں کہ جس سے

Read more

دھرنے کی سیاست نے عوام کے مسائل حل کر دیے؟

ملک میں ایک ”سیاسی تماشا“ لگا ہوا ہے جسے دیکھنے والے غریب عوام ہیں جو مسائل کی حوالات میں مقید ہیں انہیں دن کو آرام ہے نہ رات کو چین ان کے بچوں کا مستقبل تاریک سے تاریک تر۔ انہیں بھوک ننگ زندگی سے بیزار کرتی چلی جا رہی ہے۔ آج تک کوئی بھی احتجاج مہنگائی، غربت اور جہالت کے خلاف نہیں ہوا۔ جو ہوا ہے اقتدار کے حصول کے لیے یا پھر اقتدار والوں کو قابو میں کرنے کے

Read more

مارچ، اپنے ہونے کا احساس

اگر یہ کہا جائے کہ ہر ادارہ ( سویلین) اپنی من مرضی کر رہا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے اس پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے مگر عوام اسے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور اسے اس کی انتظامی کمزوری قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا اس وقت زندگی معمول کے مطابق نہیں گزر رہی، ہر طرف ایک بے چینی سی پھیلی ہوئی ہے بلکہ ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ دھوکا دہی کی

Read more

حکومت کیوں گرے؟

حکومت گراؤ تحریک کاآغاز ہوا چاہتا ہے۔ اقتداری اتحاد کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ نون اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے لنگر لنگوٹ کس لیا ہے مگر ان میں سے بعض سیاستدان تذبذب کا شکار ہیں کہ مجوزہ تحریک میں شریک ہوا جائے یا نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ تحریک ناکام ہو جائے اور حکومت کو تمسخر اڑانے کا موقع مل جائے۔ اس سے ان کے کارکنان، ووٹرز اور سپورٹرز کے حوصلے بھی پست ہونے کا اندیشہ ہے۔

Read more

ہم، ہم نہیں بن سکے

ابھی تک حیات اپنی وسوسوں، اندیشوں اور خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ کسی پل چین نہیں سکون نہیں اور اطمینان نہیں۔ وجہ اس کی شاید یہی ہے کہ ہم، ہم نہیں بن سکے۔ شروع دن سے دوسروں کے دست نگر ہو کر رہ گئے۔ جینے کے لیے امدادیں اور خیراتیں مانگنے لگے۔ معاشی، سماجی اور سیاسی میدان میں خود کفالت حاصل نہ کر سکے۔ آزاد پالیسیاں بھی نہ بنا پائے۔ سوچا، ہو سکتا ہے یہ سب عارضی ہو مگر برسوں

Read more

پیسے کی واپسی مگر کیسے؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر احتساب سے متعلق فرمایا ہے کہ کسی بھی طور سے کمپرو مائز اور ڈیل نہیں ہو گی، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتساب کے معاملے میں سیاسی مداخلت ہرگز نہیں۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ جنہوں نے ملکی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا اورہڑپ کر کے عوامی مسائل میں خوفناک اضافہ کیا انہیں ضرور قانون کی گرفت

Read more

سو جا تو بھی تینوں کی؟

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے ہر روز کوئی نیا مسئلہ کوئی نئی مصیبت! جب سے آنکھ شعور کی کھلی ہے حالت اپنی بگڑتی چلی جا رہی ہے امید دلانے والے اگرچہ بہت ہیں مگر ابھی تک اندھیرا ہی اندھیرا ہے ہر سمت۔ میں سوچتا ہوں کہ چلو یہ حکمران نہ سہی آسوں کا تارا تو کوئی دوسرا ہو گا مگر جب یہ سطور رقم کر رہا ہوں کوئی بھی مستحکم و

Read more

جمہوری قدروں کی پاسباں حکومت

موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف لاکھ سہی مگر ایک بات سامنے آئی ہے کہ وہ جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں دو سو آٹھ ارب کے قرضے جو صنعتی مالکان کو معاف کیے گئے اس پر سوشل میڈیا اور دیگر میڈیاز نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تنقید کے تیروں کی بارش کا آغاز کر دیا گیا یہ سلسلہ

Read more

کیا یہ سب کچھ نواز شریف کا کیا دھرا ہے؟

پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہر خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتی چلی جا رہی ہے جبکہ اسے ایک برس ہو گیا ہے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے۔ میں نے اپنے گزشتہ دو تین کالموں میں عرض کیا تھا کہ اگر حکومت چاہے تو انتظامی پہلوؤں پر توجہ دے کر عوامی مسائل کو کم یا ختم کر سکتی ہے مگر حیرت ہے کہ اس نے ایسا کچھ کرنے کا ابھی تک نہیں

Read more

وزیر اعظم کا عوامی حکم

ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور ایسا مربوط نظام وضع کیا جائے جس سے غریب آدمی پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ ہول سیل منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر ضروری اشیاء خورو نوش کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کے لیے مؤثر نظام پر عمل در آمد یقینی بنایا جائے۔

Read more

عمران خان: قابل بھروسا وزیراعظم

عمران خان جو کہتے ہیں وہ ان کے دل کی آواز ہوتی ہے کیونکہ انہیں اس مٹی اور اس پر بسنے والوں سے بے حد محبت ہے وگرنہ وہ کبھی بھی مغرب کی ”جھلملاتی دنیا“ کو خیر باد نہ کہتے کہ جہاں انسانوں کے ساتھ انسانوں والا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ عیش و عشرت اور زندگی کا ہر رنگ اس میں موجود ہے مگر عمران خان نے سوچا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو بھی جینے کے اس

Read more

حزب اختلاف کو موجودہ صورت حال کے پیش نظر حکومت کو مضبوط کرنا چاہیے

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور نئے نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں مگر ایسا آنے والے وقت میں بہتری لانے کے لیے ہے یہ کہنا ہے پی ٹی آئی کے بعض عہدیداران کا لہٰذا عوام کو چند ماہ انتظار کرنا ہو گا کیونکہ عمران خان کی نیت ٹھیک ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کے گرد کچھ ایسے لوگ بھی براجمان ہیں جو عوامی مسائل میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے یا انہیں

Read more

وادی پھر سے مہک اٹھے گی!

مودی سرکار نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے اہل کشمیر پر! یہ سفاکیت، یہ وحشت اور یہ جارحیت قابل مذمت ہے! کشمیری نہتے، بے بس اور لاچار تڑپ رہے ہیں صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مگر دھند ہے ہر سمت دھند۔ ان کی فریاد کوئی نہیں سن رہا۔ وہ بہتر برس سے حالت جنگ میں ہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے چوک چوراہوں میں کھڑے ہیں مگر بھارت

Read more

ابھی تک خزانہ خالی ہے؟

ہمارے چاک و چوبند وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی لوٹ مار کی وجہ سے قومی خزانہ خالی ہے۔ ایک برس ہونے کو آگیا مگر یہ گردان کہ ’خزانہ خالی ہے‘ کی جا رہی ہے جبکہ کچھ ممالک سے رقوم آ چکی ہیں اس کے پیش نظر کہا گیا کہ ہمیں اب کسی عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مگر یہ سب کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے بھی

Read more

میرے سامنے ایک روشن پاکستان ہے

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورے سے یہ تاثر عام ہے کہ اب وہ بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح کے ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے امریکا جو دنیا کی بڑی طاقت ہے سے الجھنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کی آشیر باد کو ضروری جانا لہٰذا وہ اس کی جانب سے دی گئی دور ے کی دعوت پر بے قرار ہو کر چل پڑے۔ اس دورے کو کچھ ذہین لوگ ناکام کہہ رہے ہیں تو کچھ کامیاب مگر

Read more

سیاسی جماعتوں کے کارکنان

شاید ہی ملک کی کوئی سیاسی جماعت ایسی ہو گی جو اپنے کارکنوں کو اہمیت دیتی ہو گی وگرنہ سب کی سب ان کو غیر اہم تصور کرتی ہیں مگر ان سے یہ توقع کرتی ہیں کہ وہ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ان کی (سیاسی جماعتوں ) ”مشہوری“ کے لیے میدان عمل میں سرگرداں رہیں۔ ایسا ہوتا بھی ہے۔ کارکنان جنہیں اب تک ان جماعتوں سے یہ امید بندھی رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر کچھ

Read more

احتساب سے کیا حاصل؟

ایسا لگتا ہے کہ احتسابی عمل آنے والے دنوں میں تیزی سے آگے بڑھے گا کیونکہ اب تک کی گرفتاریاں غیر معمولی ہیں لہٰذا دیگر مطلوب ملزمان سے کسی رعایت یا ڈھیل کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ بات بڑی عجیب ہے کہ جن لوگوں نے ملک و قوم کا پیسا ذاتی تجوریوں میں ٹھونسا انہیں کیوں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اب ریاست یہ فیصلہ کر چکی ہے کوئی بھی ہو کچھ بھی ہو خورد برد کی گئی عوامی

Read more