مسجد کے امام اور استغفار پسند عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجدیں بنانے کی اپیل کرنے والوں کو چندہ با آسانی مل جا تا ہے۔ اوران مسجدوں میں امام کی نوکری اور متصل کمرے میں رہائش بھی آسانی سے مل جا تی ہے۔ یہ نوکری کو ئی جوکھم کا کام بھی نہیں۔ اس نوکری پر رہتے ہوئے آپ کافی سارے کام ایک ساتھ کر سکتے ہیں، ننھے بچوں کو پڑھائیے، پیسے کمائیے۔ نکاح کروائیے۔ پیسے کمائیے۔

ان سارے نیک کاموں کے عیوض پڑوس کے گھروں سے اللہ کو راضی کرنے کے لیے کھانا بھی پہنچا دیا جا تا ہے۔ اور محلے میں بے حساب عزت۔ امام مسجد کی آمدنی بہت زیادہ تو نہیں پھر بھی کسی محنت کش مزدور سے اچھی ہو تی ہے۔ اگر امام کی دینی معلومات کم بھی ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ خواتین کی بے حیائی کو بے نقاب کرنے کے لیے مطالعے کی نہیں آنکھوں اور زبان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ہر تباہی کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرا یا جا ئے، پھر احادیث کی روشنی میں عورت کو قابو میں رکھنے کے شرعی طریقے بتائے جائیں۔ مسجد میں سامعین سارے مرد ہوتے ہیں بات ان کے مطلب کی ہے، کو ن سوال اٹھائے گا۔

اس کے بعد ٹکا کے اللہ کی رحمتوں کا بیان دیں، جنت کا منظر پیش کریں۔ دوزخ کے عذاب سے ڈرائیں اور اختتام پر اللہ کے غفور الرحیم ہونے کو ثابت کر نے کے لیے یہ کہہ کر ڈرے ہو ئے مومنین کو تسلی دیں کہ اللہ کو توبہ اور استغفار بہت پسند ہے، اللہ رب العزت نے جنت مسلمانوں کے لئے مخصوص کر دی ہے جلد یا بدیر مسلمان ہو نے کے ناتے جنت ملے گی مسلمان ہی کو۔

امام ِ مسجد کا وعظ سننے والوں میں بڑے بڑے افسر، ٹیچر، ڈاکٹر، دکان دار سب ہی موجود ہوتے ہیں۔ جن میں سے کچھ کی دینی اور دنیاوی تعلیم ہر اعتبار سے اس سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن اختلاف نہ کرنے کی دو وجوہات ہو تی ہیں ایک تو جان کا خوف اور دوسرے واعظ کی بتائی ساری باتیں ان کے حق میں ہیں ضرورت کیا ہے پنگا لینے کی۔

اب تک جن بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل ہوا ہے ان سب بچوں کے والدین، نمازی پرہیز گار اور اللہ کے شکر گزار بندے ہیں اور جنہوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی کی وہ بھی صوم و صلواۃ کے پابند اور رب سے استغفار کرنے والوں میں سے تھے۔

ہمارے اسلامی معاشرے میں مجرم استغفار کی امید اور معاشرے کی ( عورتوں کی بے حیائی کی تو جیح) تھپکی پر کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا۔ اسے پھانسی کی سزا بھی سنا دی جا ئے تو وہ جیل میں استغفار کرتا رہتا ہے۔ خواہ اس مظلوم بچی کے والدین کے سینے میں اس کے سخت سے سخت سزا کی خواہش ہو۔ پڑھا اور سنا ہے کہ رب تب ہی معاف کرتا ہے جب بندہ معاف کرے، لیکن امام کی نظر میں اسلامی تعلیم کی شانِ عظیم اسی بیان میں ہے کہ اللہ غفور ہے، اس کا در توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے، توبہ، استغفار سے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

کیا یہ ایسے ہی بیانات کا اثر ہے کہ وحشی درندے ننھی سی بچی پر رحم نہیں کھاتے اور بے دردی سے اسے بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔ وہ اسے تشدد کر کے مار ڈالیں، اسے ویرانے میں پھینک دیں، بچی کے مسلمان والدین پر رحم نہ کھائیں جو بچی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اس کی تلاش میں بھٹکتے اور تڑپتے رہیں گے، اور مطمئن رہیں کہ اللہ معاف کر دے گا۔ والدین بھی اپنے بچوں کی حفاظت کو خود یقینی بنانے کی بجائے اس توکل پر بیٹھے رہیں گے کہ اللہ انہیں محفوظ رکھے گا۔

کافروں کے ممالک میں جہاں عورت ننگی گھو متی ہے، وہاں بچوں سے زیادتی کے جرائم اکا دکا ہو جا تے ہیں، کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی عبادات میں سچے دل سے کتنی ہی توبہ کر لیں، انہیں قانون کے مطابق دنیا ہی میں سخت سزا ملے گی۔ تعلقات، عہدہ، اختیار اورپیسہ کچھ کام نہ آئے گا۔ معاشرہ اور مولوی ایسے مجرم کو کوئی معافی نہیں دیتا۔ وہاں ایسے مجرم کو جیل سے بری ہو نے کے بعد بھی اتنی حقارت سے دیکھا جاتا ہے کہ اسے خود سے نفرت محسوس ہو نے لگتی ہے اور کبھی کبھار ایسے مجرم خود کشی تک کر لیتے ہیں۔
دعا ہے کہ استغفار پسند عوام کے بچے ان استغفار پسند مجرموں سے محفوظ رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •