ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے کی جنگ


روایت ہے جب آدم نے شجر ممنوعہ سے دانہ کھا لیا تو اس کا ستر کھل گیا، اسے جنت سے نکال دیا گیا۔ اور پھر جب وہ زمین پہ آیا تو یہا ں مصنوعی جنت بنانے کے خواب تعبیر کر نے کی کوشش میں رہا۔ جنت نظیر محل بھی بنائے۔ باغات کی بھی کوشش کی۔ دوسرے کی عورت کو حور بھی سمجھ لیا۔ بس ایک کمی رہ گئی تھی۔ اب اس کی تکمیل کا وقت آپہنچا۔

آج سر سے پاﺅں تک جو کسی کو چومنے کی قصے کی دھوم ہے۔ یہ حسرتو ں کا جنازہ ہے۔ جس کو اس وقت سب اٹھائے پھر رہے ہیں۔ اس جنازے کو بے گور و کفن رکھنا ہے۔ یہ جو بچیو ں کی چیڑ پھا ڑ ہے۔ بچو ں کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ بھی انہیں حسرتوں کا جنازہ ہی ہے۔ اس سب پہ شور مچا مچا کر ہم اپنی خواہش کو با لباس بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ہمیں سماج نے اپنی زنجیروں میں باندھ رکھا ہے۔ جس کو ہم عملی طورپہ نہیں توڑ سکتے تو لاشعوری طور پر شور شرابا تو کر ہی سکتے ہیں۔

آپ کسی بھی طرح کے سوشل میڈیا پہ کسی بچی کی، کسی لڑکی کی، کسی عورت کی زیادتی ہوئی، کسی بھی قسم کی تصویر شئیر کیجئے۔ سینکڑوں کے حساب سے اس پہ مظلومیت کے، ہمدردی کے کومنٹ آئیں گے۔ درجنوں مرتبہ یہ برہنہ تصاویر اور ویڈیو شئیر ہوں گی۔ مگر ان کو کبھی جڑ سے بلاک نہیں کیا جائے گا۔ البتہ شور شرابا اور افلاطونی فلسفہ سے بھرے جذبات آپ کی آنکھوں کو نم کر دینے اور آپ کو خوف زدہ کر دینے کے لئے کافی ہوں گے۔

اس کے برعکس جب کسی مرد کی کو ئی برہنہ تصویر یا ویڈیو منظر عام پہ آئے گی۔ آپ مشاہدہ کیجئے گا کہ اس کو جلد از جلد صفحہ نیٹ سے مٹانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ اور چند دن میں یہ کارنامہ انجام بھی دے دیا جائےگا۔

چند برس قبل کی بات ہے ایک مرد کو برہنہ کر کے کچھ افراد مار پیٹ کر رہے تھے۔ ویڈیو وائرل ہوئی۔ مظلومیت کی تصویر تھی۔ میں نے بھی اس کو شیئر کر دیا۔ چند گھنٹوں بعد ایک بااثر سرکاری اہل کار کا میسج آیا۔ بہت ادب سے انہو ں نے پوچھا ”رابعہ یہ کیا واقعہ ہے؟” میں نے کہا پڑھ لیجئے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ میں اس کو اپنی وال سے ڈیلیٹ کر دوں کہ اس سے میری ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ میں نے ایسا نہیں کیا۔ میرا شئیر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ چند مردوں کے آپس کی لڑائی ہے۔ مرد مرد کے سامنے برہنہ ہے مگر گالی گلوچ میں سب زنانہ رشتے پس رہے ہیں۔

اب وہ ویڈیو اتنی بھی برہنہ نہ تھی کہ شجر ممنوعہ دکھائی دے جاتا۔ پھر بھی وہ صاحب اثر پہلے اس شخص تک پہنچے جس نے یہ ویڈیو شئیر کی تھی۔ اس کے بعد اس کو جڑ سے ہی غائب کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ بلکہ جن صاحب کی وال سے میں نے شئیر کی تھی۔ ان کو بھی اس سرکاری افسر سے تضحیک کا نشانہ بننا پڑا۔ جب کہ وہ میرے ساتھ بہت احترام سے پیش آئے۔ میرا ڈر خوف دور کرنے کی بہت مثبت کوشش کی۔ مگر قصہ مختصر کہ ویڈیو کا وجود نہیں رہا۔ اب سے چند ماہ قبل کی وفاقی دارالحکومت مین جو کسی سیاسی شخص برہنہ ویڈیو و تصاویر سامنے آئی تھیں، وہ بھی جلد از جلد دفن کر دی گئیں۔

خواتین کے کیس میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ کچھ غائب کیوں نہیں کیاجاتا ہے۔ نا کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ بلکہ ہر کوئی اس کو شئیر کر کے اپنا رونا روتا ہے۔ اصل میں یہ رونا حسرتوں کا رونا ہے۔ یہ خواہشوں کا ماتم ہے۔ جس کا نا تو ”چن چڑھتا” ہے۔ نا دفن ہو تا ہے۔

اب یہ جو لوگ”چمی کی برکت” کا رونا رو رہے ہیں۔ جنہوں نے اس کی تعداد بھی بتا دی ہے۔ جب کہ کرنے والے کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہو گا کہ اس شجر پہ کتنی کلیا ں لگی اور کتنی پھول بنیں۔ یہ سب محکمہ مردم شماری والے حسرتوں کے جنازے لئے پھر رہے ہیں۔ یہ جو لوگ روز معصوم بچیو ں کی زیادتی کے بعد اور پہلے کی تصاویر لگا لگا کر دکھ کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ دکھ بھی دو قسم کا ہے۔ یہ خوف بھی دو قسم کا ہے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ اتنا شور مچانے سے ہو گا یو ں کہ ”چور آگیا، چور آگیا۔۔۔” اور جب چور آئے گا تو کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی۔ کیو نکہ سب بے اثر ہو چکا ہو گا۔

ہم ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے کی جنگ میں ہیں۔ تاکہ سب ہم لباس ہو جائیں۔ اور ایک ہی صف میں محمود وایاز کھڑے ہو جائیں۔ یہ وہ کمی تھی جو ہم پوری کر نے جا رہے ہیں۔ تاکہ زمین جنت نظیر ہو جائے۔

Facebook Comments HS