تقدّس ایوان کس کی ذمّہ داری ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(سید اشتیاق)

\"syedکسی بھی جمہوری معاشرے میں ایوان کا تقدّس سب سے مقدّم ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں اراکین اسمبلی خود ایوان کا تقدس پامال کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں، اکثر قومی اسمبلی کا اجلاس صرف کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے یا شروع ہی نہیں ہو پاتا۔ جہاں تک ایوان سے ہونے والے مالی فوائد اور سہولیات کا تعلق ہے تو اس معاملے میں تمام اراکین اسمبلی متحد ہیں کہ وقتاََ و فقتاََ اس میں متواتر اضافہ ہوتا رہے اور تمام سہولیات جس میں بیرون ملک علاج معالجے کی سہولت بھی حاصل ہے، سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جائے۔ عوام کے دیئے گئے ٹیکس سے اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور سہولیات کے لئے رقم جاری ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے لیکن اراکین کی توانائی قانون سازی سے زیادہ اپنے مخالف رکن کی ٹانگیں کھینچنے میں صرف ہوتی ہے ایوان کی کارروائی کا اگر جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی تقریری مقابلہ کا مقام ہے، اراکین یوں تو عموماََ ایوان سے غیر حاضر ہی رہتے ہیں اگر حاضر ہو بھی جائیں تو ان کا مطمع نظر وزیر اعظم یا وفاقی وزراء سے اپنے ذاتی نوعیت کے کام کرانا ہوتا ہے۔

وزیر اعظم اور وفاقی وزراء تو ایوان میں تشریف لانے کی زحمت کم ہی گوارا کرتے ہیں چہ جائیکہ کوئی اہم نوعیت کا قومی مسئلہ درپیش ہو یا قوم کسی سانحے کی وجہ سے صدمے سے نڈھال ہو، لیکن اس موقعے پر بھی اراکین کا رویہ مناسب نہیں ہوتا، تقریری مقابلے ہوتے ہیں مسائل کے حل کی طرف توجہ ہونے کی بجائے ایک دوسرے پر لعن و طعن کرنے میں سارا وقت صرف ہوجاتا ہے، وزیر اعظم اپنی تقریر میں قوم کو دلاسہ دے کر جب ایوان سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے ہمنوا اراکین اسمبلی بھی ایوان سے ان کے پیچھے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ کورم کی نشاندہی ہوتی ہے اور یوں اجلاس ختم۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد بھی ایوان میں وزیراعظم، وفاقی وزراء اور اراکین اسمبلی کا یہی رویہ سامنے آیا جو ہر محب وطن کے لئے مایوس کن ہے، قومی اسمبلی کا ایک اجلاس منعقد ہونے میں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم، وفاقی وزراء اور اراکین اسمبلی کو اس کا قطعاََ کوئی احساس نہیں ہے کیونکہ پیسہ تو قوم کی جیب سے خرچ ہورہا ہے۔

اب جب کہ پیپلز پارٹی اپنا دور حکومت مکمل کر چکی ہے موجودہ حکومت بھی اپنے اقتدار کا نصف سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہے اور بیشتر اراکین تو دوسری، تیسری دفعہ منتخب ہو کر ایوان کا حصّہ بنے ہیں ان سب کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہئے اور اس میں مثبت تبدیلی لاتے ہوئے ایوان کو عوام کا ترجمان ادارہ بنائیں اور ایوان میں قانون سازی کے ساتھ، خارجہ پالیسی، امن و امان، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بحث کریں اور وہ فیصلے کریں جو قومی امنگوں کے مطابق ہوں اسی طرح ایوان کا تقدس عوام اور دیگر قومی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی قائم ہوگا۔ اگر اراکین اسمبلی اپنا رویّہ تبدیل نہیں کریں گے اور موجودہ ڈگر پر ہی چلتے رہیں گے تو عوام کی نظر میں حکومت اور ایوان کی وقعت مزید گر جائے گی۔ عوام کی اکثریت تو ویسے ہی ووٹ دینے سے اجتناب کرتی ہے اور اسے وقت کا ضیاع سمجھتی ہے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کہیں ایسا نہ ہوکہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 2013 سے بھی کم ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply