نیب اور چئیرمین نیب: اصل معاملہ کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین نیب کی کچھ ”قابلِ اعتراض“ آڈیو اور ویڈیو منظرِ عام پر آنے سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہل چل ہے گو کہ مین سٹریم میڈیا کے ایک چینل سے یہ خبر کچھ دیر چلنے کے بعد غائب ہو گئی اور اس چینل کے مالک کو مشیرِ وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹا بھی دیا گیا۔ اور یہ بھی کہ نیب نے اس خبر کو بلیک میلنگ کی کوشش کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر حسبِ روایت زیادہ طنزیہ اور مزاحیہ قسم کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن کہیں کہیں یہ بحث بھی سر اٹھا رہی ہے کہ کیا یہ واقع چئیرمین نیب کی نجی زندگی سے متعلق ہے یا اس کے کچھ سماجی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔

اس حوالے سے اگر اس معاملے کو دیکھیں تو یو ں لگتا ہے کہ اگر یہ معاملہ کسی عام شخص کا ہو جس نے کوئی اہم سماجی عہدہ سنبھال نہ رکھا ہو تو یہ اس کا نجی معاملہ ہو سکتا ہے جب تک کہ اس میں دوسرے فریق کی طرف سے شکایت نہ ہو یا شواہد سے یہ بات سامنے آئے کہ اس میں زیادتی، جبر، یا جنسی ہراسانی کا پہلو موجود ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس طرح کا معاملہ نہیں ہے۔ تو پھر معاملہ کیا ہے؟ آیئے اس سوال کا جواب اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جدید ریاست اور اس کے مروج اصولوں کی روشنی میں چیئرمین نیب کا اصل قصور یہ ہے کہ انہوں نے بظاہر ایسے لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے یا میل جول بڑھایا جن کے کیسسز ان کے ادارے کے پاس موجود تھے یا افسران کے سامنے زیرِ سماعت بھی تھے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو مہذب دنیا میں کسی بھی قانون کے تحت مفادات کے ٹکراؤ (کانفلکٹ آف انٹرسٹ) ے کے پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ آتی ہے۔

اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ جذباتی تعلق بنانے کی وجہ سے انصاف کا ترازو کسی بھی طرف جھک جائے یعنی تعلق کی کامیابی کی صورت میں ملزم کے حق میں اور ناکامی کی صورت میں ملزم کے خلاف۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کی غیر جانبداری پر حرف آتا ہے اور ادارے کی ساکھ کو ”سر سے پاؤں تک“ ناقابلِ تلافی پہنچتا ہے۔ اب چونکہ چئیرمین نیب ایک اہم ترین سرکاری اور سماجی عہدہ ہے اور اس وقت ملک میں اس ادارے کی سیاسی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے تو یہ معاملہ نجی یا شخصی آزادی کی اجازت سے کہیں بڑھ کر ایک سیاسی اور سماجی مسئلہ ہے۔

اگر آپ غور کریں تو دنیا کے مہذب ممالک جہاں شخصی آزادی معاشرے کی بنیاد ہیں وہاں لوگ اس طرح کے اہم سماجی عہدے نہیں لیتے جنہوں نے اپنے نجی شخصی تعلقات میں اس طرح کی آزادانہ روش اپنانا ہوتی ہے۔ اور اگر وہ عہدے کی مدت میں ایسا کریں تو انہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مجھے یاد ہے مانچسٹر کو پولیس چیف کے اس طرح تعلقات منظرِ عام پر آ گئے اور کچھ دن بعد ہی اس کی لاش دور کسی پہاڑی پر خود کشی کی شکل میں ملی۔ پاکستان میں چونکہ اخلاقیات اور قانون نام کی کوئی چیز سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی اس لئے لوگ سماجی عہدے سے ہی ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم جدید معاشرے کے بنیادی اصولوں سے کوسوں دور ہیں۔

دراصل اہم سماجی عہدے انسان کی بہت سی نفسانی خواہشات کے حصول پر پابندی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ لوگ ان سے بہت سنجیدہ اور انتہائی غیر جانبدار رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن کی بیٹی کی کسی سماجی محفل کی تصویر منظرِ عام پر آئی جس میں ڈرگ مافیا سے متعلق کوئی شخص دور پیچھے سے گزر رہا تھا۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ تھی کہ بِل کی بیٹی کا مافیا کے اس شخص سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ معاملہ اتنا ابھرا کہ کلنٹن کا معافی مانگنا پڑی اور اس کی بیٹی پر آئندہ کسی بھی سماجی محفل میں شرکت میں احتیاط کی پابندیاں لگیں۔

مختصر یہ کہ چونکہ یہ معاملہ جمہوریت کے ایک بنیادی عنصر یعنی احتساب سے متعلق ہے اس لئے اس واقع کی مکمل چھان بین اور اس کے پس پردہ محرکات اور کرداروں کا تعین کرنے کے بعد سخت فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مہذب دنیا میں تو اس طرح کے معاملے میں کسی اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ اس ملک میں سنجیدہ مذاق اور طاقت کی سیاست چلتی ہے اس لئے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سماجی عہدے انسان سے خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کے کئی درجات چھین لیتے ہیں اور عہدے دار کو مکمل غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے تاکہ اس کے فیصلے صرف قانون کے مطابق ہوں ناکہ اندرونی اور نفسیاتی کیفیات کے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ حکمرانی کرنا اول درجے کے ممالک میں کافی مشکل کام ہے۔ یہ صرف ہمارے یہاں کچھ لیڈروں کو آسان لگتا ہے کیونکہ وہ خود تیسرے درجے کے رویے کے ساتھ سماجی اور سیاسی عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •