پرائیویٹ سکول ٹیچر کی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے بات کرنی ہے ایک پرایؤیٹ ٹیچر کی زندگی کی۔ پرائیویٹ اساتذہ کی نوکری کے اوقات کار۔

اسمبلی کے وقت سے ہی پرائیویٹ ٹیچر کی جسمانی اور ذہنی بربادی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خود وقت سے پندرہ منٹ پہلے پہنچو تاکہ قوم کے معماروں کا استقبال کرنے کے لئے پہلے سے موجود ہو۔ ایک منٹ تاخیر ہوئی تو حاضری رجسٹر پر دائرہ لگ جائے گا۔ اور ایسے تین دائروں کا مطلب ایک مکمل غیر حاضری۔ مطلب ایک دن کی پوری تنخواہ کاٹ لینے کا صیہونی جواز۔

طلبا کو صبح سویرے کلاسوں سے باہر نکالو۔ پھر لائن میں ان کے ساتھ کلاسوں میں جاؤ۔ بریک ٹائم میں بھی سائے (چوکیدار) کی طرح ساتھ رہو۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ چوکیدار ہی تو ہو تم۔ چھٹی کے وقت بھی کلاسوں سے انخلا سے لے کر گیٹ سے باہر جانے تک ذمہ داری ایک پرائیویٹ ٹیچر کی ہے۔ یہ سب بھی تو وہ ہے جو پڑھانے (جس کی تنخواہ دی جاتی ہے ) کے علاوہ ہے۔ گویا بلامعاوضہ ہے۔

پرائیویٹ استاد کی مظلومیت کی اصل داستان تو کلاس روم میں شروع ہوتی ہے۔ ایک طویل عرصہ معلمی کے دوران میں تو ایسے بچے (طلبہ) ڈھونڈتا ہی رہا۔ جو فرشتے ہوتے ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں۔ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا تھا۔

وگرنہ ان انگریزی میڈیم سکولوں میں تو پائے جانے والے بچے ما شائاللہ اپنی ذہنی استعداد، صلاحیتوں اور ”ہنر“ میں اساتذہ سے کئی ہاتھ آگے تھے۔ فیشن کی باتیں ہوں یا فلموں اور ڈراموں کے مشہور کرداروں کے قصے۔ عریاں ویڈیوز کے مناظر ہوں یا فحش اداکاراؤں پر تبصرے۔ خدا کی قسم! ان ”فرشتوں“ کی معلومات، حس مزاح اور چھیڑ چھاڑ کوکبھی کوئی استاد نہ پہنچ سکا۔

معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نونہال اساتذہ کے لب ولہجے، ملبوسات، شکل و صورت چال ڈھال کی نقالی اور تضحیک میں بڑے ہی تاک تھے۔

بڑ ے گھروں سے تعلق ہونے کا تکبر، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر بات کا جواب دینا، اپنے والدین کے بڑے عہدوں اور سکول انتظامیہ سے تعلقات کا رعب جمانا، اپنے ہم عصروں میں چالاک اور پر اعتماد مشہور ہونے کے لئے کلاس میں بدنظمی کو منظم انداز میں فروغ دینا،

گروپوں کی صورت میں کلاس روم کا ماحول تہس نہس کرنے کی تگ و دو کرنا اور دوسروں کو اس کے لئے متحرک رہنے کی ترغیب دینا، آوازیں نکالنا،

فحش گوئی کرکے دوسروں کو محظوظ کرنا، دھڑلے سے موبائل فون لے کرآنا، جھٹ سے اپنے ناپسندیدہ استاد کے خلاف سبق یا زبان سمجھ نہ آنے کی جھوٹ موٹ درخواست لکھ دینا، ماں باپ کو بلا کر لانے کی دھمکیاں دینا اور پھر اپنی ہی کسی بدسلوکی پر استاد کے ردعمل کی شکایت کر دینا،

استاد کو سکول سے نکلوا تک دینا اور پھر ہم جماعتوں کے ہاتھوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہنا کہ ”دیکھا؟ بڑا ٹیچر بنا پھرتا تھا، کیسے چھٹی کروائی ماما پاپا سے کہہ کر“۔ مجھے سمجھائیں کون سے فرشتے، کیسی معصومیت؟ اس پر مستزاد یہ کہ اساتذہ کی نگرانی پر مامور انتظامیہ۔ (کوارڈینیٹر، وائس پرنسپل یا پرنسل) نے استاد کی کلاس میں آمد اور روانگی، پڑھانے کے طریقے یا گزارے گئے وقت کی نگرانی بھی دو تین طلبا ہی کو سونپ رکھی ہوتی ہے جو حقائق سے قطع نظر کچھ بھی کھلواڑ کرتے رہیں۔ ایک معلم کے طور پر میرے پاس انتطامیہ یعنی کوارڈینیٹر، وائس پرنسپل یا پرنسل کے بارے میں بتانے کے لئے بھی بہت کچھ ہے۔ ان لوگوں کی کئی مثالیں ہیں۔ پاکستان میں ان کی ایک مثال ان کووں والی بھی ہے۔ جو ہنس کی چال چل رہے ہوتے ہیں۔ اور ان عربوں والی بھی ہے جو بظاہر بولنے اور دکھنے میں بڑے نرم مزاج اور نفیس لیکن اپنے برتاؤ میں اتنے ہی جابر، سفاک اور ہلاکو خان ہیں۔

ان کی مثال کے لئے میں ”لنڈے کے انگریز“ بھی استعمال کرنا چاہوں گا۔ جو اپنا ظاہر، لباس، زبان اور سٹائل تو انگریزوں والا رکھتے ہیں لیکن اندر سے وہی پنجاب کے پولیس والے، یا چودھری، سندھ کے وڈیرے یا جاگیردار یا قبائلی سردار۔ ان کا سروکار صرف اپنی نوکری، اپنی کرسی کے بچاؤ، اور ادارے کے لئے پیسے تک ہے۔ جو ظاہر ہے آئے گا تو نوکری بھی لگی رہے گی اور تنخواہ بھی ملتی رہے گی۔

ان کی نگاہوں اور زبانوں کی سارا مٹھاس طلبا اور ان کے والدین کے لئے ہے اور ان کا ہر ہتھکنڈہ اور ہتھیار اساتذہ کے خلاف ہے۔ ان کا تکیہ کلام شاید یہی ہے کہ طلبا پیسے دیتے ہیں اور اساتذہ پیسے لیتے ہیں۔ تو ہمیں فائدہ پیسے دینے والوں سے ہے نہ کہ لینے والوں سے۔ یہ میں مبالغہ آرائی نہیں کررہا اس کی مثال بھی حاضر ہے۔ ان کی ہر نوید اور مسکراہٹ طالب علموں کے لئے ہوتی ہے اور ہر بری خبر اور تیور اساتذہ کے لئے۔

یہ طلبا کے سب برے رویوں، ان کی اوچھی حرکات و سکنات، ان کی ایک ایک غیر اخلاقی عادت سے باخبر رہ کر بھی انجان بنے رہتے ہیں جبکہ اساتذہ کی سب اچھائیاں، ساری محنت، ان کا سارا کمال ان کے لئے بے معنی ہے۔ ان تک شکایت لے کر آنے والا کوئی استاد ہوتو ان کا جواب ہوتا ہے کہ اسی لیے آپ کو رکھا گیا ہے۔ یہی سب کچھ تو کرنا ہے آپ کو۔ بس ہاتھ اور زبان دونوں کے استعمال سے اجتناب کریں (یعنی غیر مسلح ہو کر ہر بدسلوکی، بد نظمی اور بدتمیزی سہتے آئیں ) اور اگر شکایت کسی طالب علم سے آئے تو وارننگ لیٹر، ٹرمینیشن لیٹر، وضاحتی لیٹر اور پتہ نہیں کون کون سا میزائل اساتذہ پر گرانے کے لئے ان کے پاس ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔

ان کی حتیٰ الامکان کوشش ہوتی ہے کہ والدین یا ڈائریکٹر لیول تک کوئی بھی بات جس سے ہماری نوکری کو خطرہ ہو پہنچنے ہی نہ پائے اس سے پہلے ٹیچر بھلے اس طرح بدل لو جیسے کچن میں ایک کپ ٹوٹا اور اس کی جگہ دوسرا رکھ دیا۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اساتذہ کو نکال کر یہ اپنا سسٹم کیسے چلاتے ہیں تو یہ بھی جان رکھیے کہ ان کی دراز میں ملازمت کے خواہشمند پڑھے لکھے نوجوانوں کی سی ویز کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور اکثر متبادل ٹیچر کا بندو بست پہلے والے کو برخاستگی کا لیٹر تھمانے سے بھی پہلے ہوجاتا ہے۔

خود غرضی اور منافقت کا ان سے بڑا کوئی مظہر نہیں ہو سکتا۔ تعلیم کو اپنے بلند ترین معیار تک لے جانے کے لئے حیوانوں کی طرح استا د کو کام کے بوجھ تلے لاد دو تاکہ اس کی کمر کا کڑاکا ہی کیون نہ نکل جائے، ان کی مشن سٹیٹمنٹ ہے۔ گھر میں شام کو گھنٹوں بیٹھ کر پورے ہفتے اور پھر یومیہ اسباق کی تیاری، اسباق کی سرگرمیوں کی تیاری، ذرائع کا انتظام ایک پرائیویٹ ٹیچر کے اس وقت پر بھی ڈاکہ ڈال رہا ہے جو اس کے اہل خانہ کے لئے تھا۔

شادی غمی میں شرکت، دوستوں کے ساتھ گھومنے، خریداری کے لئے تھا۔ کو ئی اورنوکری اس کا تقاضا نہیں کرتی۔ یہ کم بختی ایک پرائیویٹ ٹیچر ہی کا مقدر ہے۔ ایک پرائیویٹ ٹیچر کے لئے چھٹی کا دن عید کی طرح ہوتا ہے اور چھٹی کی شام قصاب کی دوکان پر ذبح ہونے کے لئے تیار کھڑے ایک بچھڑے کی طرح ہوتی ہے۔ ایسے اساتذہ کی آواز بلند کرنا ہی میر ا مشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •