محتسب کی ڈائری کا ایک ورق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بادشاہ میرے دربار میں حاضر ہوتے ہیں اور تھر تھر کانپتے ہیں، ایسا لرزہ طاری ہوتا ہے کہ ملک سنبھالنے والوں کے لیے چائے کے کپ کو سنبھالنا نا ممکن ہوجاتا ہے۔ میں بہت لطف اندوز ہوتا ہوں۔ شہزادوں کو اپنے نوکروں کے سامنے با ادب بیٹھے دیکھتا ہوں تو اپنی طاقت پر رشک آتا ہے۔ کبھی کسی شہزادے سے پوچھ گچھ کی تصویر عام ہوجائے تو دنیا عبرت حاصل کرتی ہے۔ اکثر وزرا کو محض اس لیے بخش دیتا ہوں کہ میرے خوف سے کہیں مر ہی نا جائیں۔ اعلی افسران تو مجھ سے گھبراکر خودکشی بھی کرگزرتے ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری افراد سر جھکاتے ہیں۔ اکثر بزدل سرمایہ دار ملک چھوڑجاتے ہیں۔ میں اربوں روپے ملک کے خزانے میں جمع کراتا ہوں۔ میں محتسب ہوں۔

میں ہمیشہ خطرات میں گھرا رہتا ہوں مگر ہمہ وقت تیار اور ہوشیارباش۔ مگر ایک عورت پر بھروسا ہوجاتا ہے۔ وہ عورت شادی شدہ ہے۔ میں اس کے لیے بھرپور جذبات رکھتا ہوں۔ یہاں تک کہ عورت سے اس کے خاوند کی خیریت بھی دریافت کرتا رہتا ہوں۔ سلام بھی بھجواتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر شرافت بھلا کیا ہوگی؟ ہاں اس بیوی کو اپنے خاوند کو پیار دینے سے ضرور روک دیتا ہوں۔ اتنا حق تو میرا بنتا ہی ہے آخر میں عاشق ہوں۔ رقابت بھی تو ایک حقیقت ہے۔

میں جسے بے حد معصوم سمجھ کر اس کی آنکھوں میں ڈوب جاتا ہوں۔ جس کی ناراضی مجھے تڑپا دیتی ہے۔ دراصل مجھے اس کی ناراضی پسند بھی آتی ہے۔ یہ بات وہ بھی جانتی ہے۔ اس ہی لیے تو بار بار روٹھ جاتی ہے۔ اس کے روٹھ جانے پر مجھے بہت پیار آتا ہے۔ میں اسے چومنا چاہتا ہوں۔ سر سے پاوں تک اس کے جسم کے ایک ایک حصے کو چومنا چاہتا ہوں۔ اس کے حسین جسم کا خیال ہی مجھے ایسا مدحوش کردیتا ہے کہ دنیا سے بے نیاز ہوجاتا ہوں۔ بھول جاتا ہوں میں کون ہوں؟ اور کیا کر رہا ہوں؟

میں بے چارہ ایک عورت پر بھروسا کرتا ہوں، وہ میرا بھروسا اور دل توڑ دیتی ہے۔ مجھے دھوکا دیتی ہے۔ میرے سامنے مسکراتی ہے مگر پیٹھ پیچھے خنجر چلاتی ہے۔ میری ریکارڈنگ کرکے میڈیا کو دے دیتی ہے۔ مجھے رسوا کراتی ہے۔

سیکس کی بھوک، ساتھی کی محرومی، پیار کی کمی تو کسی کو بھی پاگل کرسکتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں تو کوئی بھی عورت کے پاؤں تک چوم کر لطف لے سکتا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں باقی مردوں کے معاشقے نہیں ہوتے۔ کیا وہ شادی شدہ عورتوں کے گھر نہیں اجاڑدیتے؟ کیا سرعام عورت کو پاؤں کی جوتی کہنے والے، حسین چہروں پر تیزاب پھینکنے والے، غیرت کے نام پر قتل کردینے والے، خود کو برتر جنس قرار دینے والے، تنہائی میں عورتوں کی قدم بوسی نہیں کرتے؟ انہیں بستر پر خوش کرنے کے لیے، اپنی کمزوری چھپانے کے لیے، شرمندگی سے بچنے کے لیے حکیموں کے چکر نہیں لگاتے؟ میں اس ملک کے طاقتور مردوں میں سے ایک ہوں۔ میری غلطی اتنی ہے کہ میں بے نقاب ہوگیا ہوں۔ وگرنہ اس حمام میں تو بہت سے ننگے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •