عدالت میں ننگے پاؤں پہنچنے والی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے اب تک دیکھا اور سنا تھا کہ لوگ پیروں اور مزاروں پر ننگے پاؤں جاتے ہیں مگر سندھ میں ایک نوجوان لڑکی نے انسداد دہشت گردی عدالت میں ننگے پاؤں آکر ایسا قدم اٹھایا ہے جیسے اس نے اپنے پاؤں سے اتارا ہوا جوتا ہمارے ملکی نظام پہ دے مارا ہو اور خود ننگے پاؤں جج آنند رام کی عدالت پہنچی ہو۔

ویسے تواس لڑکی نے سندھ میں سب سے طاقتور قبیلے چانڈیو کے سرداروں کو چیلنج کیا ہے۔ لیکن ایک دن پہلے اس لڑکی نے ایک خاموش احتجاج کرکے پورے سندھ کو ہی جھنجھوڑ ڈالا اور چیلنج کر دیا ہے۔ ام رباب ملک کے فرسودہ عدالتی نظام کے خلاف کل سکھر میں انسداد دہشتگردی عدالت میں ننگے پاؤں آئی اور عدالتی کارروائی کے بعد ننگے پاؤں ہی روانہ ہو گئی۔ عدالت میں وکیل، میڈیا، جج، سب اس لڑکی کے اس احتجاج کو دیکھتے رہ گئے۔ سوشل میڈیا پر ام رباب کے احتجاج کے پرامن طریقے کو سراہا جا رہا ہے۔ ام رباب کل جب انسداد دہشتگردی عدالت میں آئی تو ننگے پاؤں تھی۔ اس نے ایسا ہمارے کمزور عدالتی نظام کے خلاف، انصاف نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کیا ہے۔

میں نے اس کیس پر پہلی مرتبہ قلم اٹھایا ہے۔ اس نہتی لڑکی نے قدم ہی ایسا اٹھایا ہے کہ میرا قلم حرکت میں آنے کے لئے مجبور ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس لڑکی کے باپ دادا اور چچا کو ایک ساتھ قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کا الزام سندھ اسمبلی کے دو ممبر بھائیوں سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو پر لگا ہے۔ یہ لڑکی خود قانون کی طالبہ ہے اور اس نے ہمت کر کے ان وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جو اپنی نجی عدالتیں جرگے اور جیل چلاتے ہیں۔ اس لڑکی کا نام ام رباب چانڈیو ہے ام رباب کیس اس وقت میڈیا میں آیا جب رباب نے چیف جسٹس آف پاکستان کی گاڑی بیچ سڑک پر روک کر اپنے دادا باپ اور چچا کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے ام رباب چانڈیوکے خاندان کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی ”سندھ پولیس کے حکام عدالت میں پیش ہوئے تھے اورعدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ باپ، بیٹا، پوتا سب قتل ہوگئے مگر قاتل گرفتار نہیں ہوئے۔

ام رباب نے بلند حوصلے، اٹل ارادے اور بے باکی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا ہے، جن سرداروں پر ام رباب کے باپ، دادا اور چچا کے قتل کا الزام ہے وہ سندھ میں حکمران پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنے قبیلے کے طاقتور سردار ہیں ان کے خلاف کھڑا ہونا معمولی بات نہیں۔ عدالتوں کی شنوائیاں، مجرموں کا دباؤ اور مختلف طریقوں سے کیس پہ اثر اندازی، لیکن ام رباب نے ہار نہیں مانی۔ وہ قاتلوں کو سزا دلوانے اور سرداری نطام کو چیلنج کرتے ہوئے جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ام ررباب کا کہنا ہے کہ اس کو مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں جس کے اس کے پاس ثبوت موجود ہیں مگر وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں، زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے والد، دادا اور چچا کے قاتلوں کو قانون سے سزا دلوا کر رہیں گی.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •