امام مسجد کی کھجوریں اور جنت کی حوریں


پاکستان میں روزگار کمانے کے لیے ویسے تو بے شمار پیشے ہیں۔ مگر آج کل ایک پیشہ جو کہ مولویوں کا ہے۔ یعنی مدرسہ بنانا، جسے نہایت معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ کام دیہاتوں سمیت شہروں میں بھی خوب تیزی سے جاری ہے۔ کوئی بھی مولوی جب دیکھتا ہے کہ اب علاقے میں اس کا نام ہو گیا ہے۔ اور جان پہچان بھی کافی بن گئی ہے۔ وہ اپنا الگ سے مدرسہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اور اس کے لیے رقم اکٹھی کرنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنا شروع کر دیتا ہے۔

مولوی پہلے تو لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں۔ کہ صرف ان کا فرقہ جنت میں جائے گا۔ اور باقی ہر کوئی کافر ہے، ہر کوئی شرک کرتا ہے۔ اور پھر مدرسے کے لیے چندہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب ایسے مدرسوں سے مسلمان سے زیادہ مسلک پسند بن کر نکلتے ہیں۔ جن کو باقی فرقوں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ویسے بھی مسجدیں اور مدرسے تو پہلے ہی کافی تعداد میں موجود ہیں۔

شہروں میں جگہ جگہ اور دیہاتوں میں تو ایک دیہات میں چار چار مسجدیں ہیں۔ چار مختلف مسالک کی۔ اور مدرسے الگ سے بنے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو آباد کیسے کیا جاے۔ مدرسوں کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کو بہت بابرکت کام سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ پچھلے جمعہ ہی مولوی صاحب فرما رہے تھے۔ کہ مسجد اور امام مسجد کی خدمت کرنے والوں کو جنت میں خوبصورت حوریں ملیں گی۔ چاہے مسجد کی پچھلی گلی میں ایک بیوہ ماں کے بچے بھوک سے مر رہے ہوں۔ اور وہ اپنے بچوں کے دودھ کے لیے مارے مارے پھر رہی ہو۔

ایک کام اور بہت فضیلت والا سمجھا جاتا ہے۔ مطلب اگر آپ کے آباؤ اجداد یعنی دادا یا پردادا میں سے کوئی سیدھا سادھا، کم گو اور تھوڑا بہت نمازی پرہیزی تھا۔ اور وہ نہانے میں اور بال کٹوانے میں کنجوسی کرتے رہے تھے۔ تو وہ اس دور کی معتبر ہستی کا خطاب لے سکتے تھے۔ اور آج تک تو ان کا دربار بن گیا ہوتا۔ وہ دیکھنے میں تو دربار ہے۔ مگر صحیح معنوں میں وہ کسی کینیڈا یا امریکہ کے ویزے سے کم نہیں ہے۔

میرے جاننے والوں میں سے ایک کے پردادا کا دربار ہے۔ اور دربار کی گولک سے ان کی روز کی بارہ سے چودہ ہزار آمدن آتی ہے۔ افسوس ہمارے معصوم عوام اپنی خون پسینے کی کمائی سے بجائے اس کے اپنے والدین اور بچوں کی ضروریات پوری کریں۔ یا کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کریں۔ وہ عرس کروانے، درباروں کے مقبرے بنانے اور ان درباروں کی گولک بھرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ان کا یقین ہے کہ ایسا کرنے سے اللہ ہمیں کشادہ رزق دے گا۔ ایسے جعلی پیروں اور بابوں کی وجہ سے اچھے لوگ بھی بدنام ہو رہے ہیں۔ یہ اندھی تقلید آپ کو جنوبی پنجاب اور سندھ میں زیادہ ملے گی۔

مسجد کے امام صاحب چاہے علم اور تعلیم میں نمازیوں سے کم پڑھے لکھے ہوں۔ لیکن آپ کبھی بھی ان سے سوال نہیں کر سکتے۔ جب میں نے ایک بار ایک مولوی سے کہا آپ لوگ نیک ہیں، لوگوں کو جنت کے ٹکٹ بانٹتے پھر رہے ہیں۔ پھر بھی سب سے زیادہ بد فعلی مدرسوں میں کیوں ہوتی ہے۔ تو وہ مولوی صاحب لال، پیلے ہو گئے اور مجھے چپ رہنے کو اور استغفار پڑھنے کو کہا۔

مولوی حضرات اللہ کی ایک صفت پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ کہ اللہ معاف کرنے والا ہے جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر سو کر دیے تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی معاف کر دیا۔ حالانکہ ایک جگہ یہ بھی ہے کہ ایک ناحق انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ لیکن ان کو یہ نہیں پتا کہ اللہ کی ایک صفت جبار بھی ہے۔ اور حقوق العباد بھی کوئی چیز ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سو ناحق لوگوں کو مارنے والا معاف کر دیا جائے۔

یا پھر جو ساری زندگی یتیموں اور مسکینوں کی حق تلفی کرتا۔ اور لڑکیوں کی عصمت دری کرتا ان کی عزتیں اچھالتا اور معاشرے میں ان کو رسوا کرتا رہا۔ اور ایسے لوگ جو آٹھ، دس سال کی معصوم بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعد بے دردی سے مار بھی دیتے ہیں۔ شاید ایسے لوگوں کو یقین ہوتا ہے۔ انہی مولویوں کی وجہ سے کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے۔ وہ معاف کر دے گا۔ لیکن ان والدین کو کون حساب دے گا۔ اور ان ننھی زندگیوں کو جن کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا گیا۔ ان کا تو حساب ہو گا نا؟ کیوں کہ کہتے ہیں کہ اللہ اپنے حقوق معاف کر دیتا ہے، لیکن بندوں کے معاف نہیں کرتا۔ کہ جب تک بندہ خود نا معاف کر دے۔

میں یہی نہیں کہتا کہ سب علماء یا مولوی ایسے ہیں۔ اچھے بھی موجود ہیں۔ لیکن مجھے افسوس اور دکھ ان پڑھے لکھے نوجوانوں پہ ہوتا ہے۔ جو اندھی تقلید کرتے ہیں۔ اور ذہنوں میں سوالات ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ مسجدوں یا مدرسوں کی تعمیر کے لیے چندا نا دو۔ ضرور دو مگر اپنے ارد گرد ایسے سفید پوش لوگوں کو بھی دیکھو جو بیمار ہیں لیکن علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ بیٹی جوان ہے شادی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ کسی یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھ دو، اس کی کفالت کر دو، اسے روزگار دلوا دو، یہ بھی دین ہی ہے۔ اور اس کا بھی اجر ہے۔ ان چیزوں سے بھی انشاءاللہ جنت ملے گی۔ شاید کسی مسکین کی دعا ہی کام آ جائے۔

Facebook Comments HS