الطاف حسین انتظامی نہیں، سیاسی مسئلہ ہے


\"altaf-hussain\"وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ کراچی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے بعد کہا ہے کہ حکومت الطاف حسین کے متعلق برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کرے گی اور یہ واضح کیا جائے گا کہ برطانیہ کا ایک شہری لندن میں بیٹھ کر کراچی میں امن و امان کی صورت حال خراب کررہا ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ برطانیہ اپنے قوانین کی روشنی میں اس معاملہ پر کارروائی کرے گا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا ہے کہ اسے الطاف حسین کی تقریر اور اس کے بعد اے آر وائی پر حملہ کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ وہ اس معاملہ کی تفتیش کررہے ہیں۔ تاہم پاکستانی سیاستدانوں اور عوام کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ الطاف حسین کی تقریریں اور حرکتیں انتظامی نہیں سیاسی مسئلہ ہے۔

پاکستانی سیاستدان گزشتہ تین دہائیوں سے اس صورت حال سے آگاہ ہیں۔ لیکن اسے سیاستدانوں کی بے عملی کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کا سیاسی زور توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی لئے الطاف حسین منہ زور ہیں اور اسی لئے ان کی پارٹی کے مقامی لیڈرالطاف حسین کی جنبش ابرو کے محتاج رہتے ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار نے منگل کو پریس کانفرنس میں پارٹی کے معاملات پاکستان سے چلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب ہم لندن سے کوئی ہدایت وصول نہیں کریں گے اور نہ ہی الطاف حسین کو اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ پاکستان میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان دشمن تقریریں کریں۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے تو متعدد انٹرویوز میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ پارٹی کی پاکستانی رابطہ کمیٹی نے لندن سے خود مختاری اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے الطاف حسین یا لندن میں دوسری قیادت سے رابطہ بھی نہیں کیا تھا۔

کل شام ڈاکٹر فاروق ستار متعدد ٹیلی ویژن انٹرویوز کے دوران پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوانے پر الطاف حسین کی مذمت کرنے میں ناکام رہے۔ نہ ہی وہ یہ بتا سکے کہ وہ جس خود مختاری کا اعلان کرہے ہیں ، وہ کتنی مدت کے لئے ہے اور اگر الطاف حسین ایک بار پھر پارٹی معاملات چلانے کا اختیار واپس لے لیتے ہیں تو وہ کیا کریں گے۔ ان کی سب سے مضبوط دلیل یہ تھی کہ لندن سے واسع جلیل یا دوسرے رہنماؤں نے خواہ کوئی بیان دیا ہو، الطاف حسین خود ایک بیان میں فاروق ستار کے فیصلہ کو ماننے کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس لئے اب اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنا چاہئے کہ وہ باختیار ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے فاروق ستار اسی سچائی کا اقرار کررہے تھے جو ان کا اور ایم کیو ایم کا حقیقی مسئلہ ہے کہ اصل فیصلہ بہر حال الطاف حسین کو کرنا ہے۔ پارٹی کا کوئی ادارہ یا شخص اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ الطاف حسین کی مرضی کے بغیر کوئی قدم اٹھانے کا حوصلہ کرسکے۔

خبروں کے مطابق الطاف حسین نے سوموار کو کراچی کے اشتعال انگیز خطاب کے بعد منگل کو امریکہ میں ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان دشمن باتیں کیں اور جن لوگوں نے یہ تقریر سنی ہے، ان کے مطابق یہ تقریر کراچی میں کی جانے والی تقریر سے بھی زیادہ زہریلی تھی۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کا یہ اصرار ہے کہ وہ خود مختار ہیں اور الطاف حسین کے مشورے کے بغیر پارٹی معاملات چلانا چاہتے ہیں ، انہیں اس کا موقع ملنا چاہئے۔ دریں حالات فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کی بات میں زیادہ وزن نہیں ہے۔ وہ الطاف حسین کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور ان کی باتوں سے دستبرداری بھی صرف اس بنیاد پر اختیار کرتے ہیں کیوں کہ الطاف حسین خود اس بیان پر معافی اور شرمندگی کا اظہار کرچکے ہیں۔

پاکستان میں ایم کیو ایم کی قیادت اگر اپنے مؤقف میں سچی ہے تو اسے سب سے پہلے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں الطاف حسین سے علیحدگی کا باقاعدہ فیصلہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد پارٹی کے اس آئین کو تبدیل کرنا ہو گا جس کے تحت الطاف حسین کو پارٹی کے ہر شخص اور ادارے پر پورا کنٹرول اور اختیار حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ واضح کیا جائے کہ ڈاکٹر فاروق ستار ہی پارٹی کے اصل لیڈر ہیں اور ایم کیو ایم کے نام سے برطانیہ یا دوسرے ملکوں میں کام کرنے والی پارٹیوں سے پاکستان ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ فاروق ستار سمیت پاکستان میں پارٹی کا کوئی لیڈر یہ فیصلے کرنے کی ہمت نہیں رکھتا کیونکہ ان کی ساری طاقت الطاف حسین کی مہربانیوں کی مرہون منت ہے۔ وہ ان سے علیحدہ ہونے کے بعد اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت اور حوصلہ نہیں رکھتے۔

ان حالات میں ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کی باتیں ایک اشتعال انگیز تقریر اور ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملہ کے بعد سامنے آنے والے قومی رد عمل کے ڈیمیج کنٹرول سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ الطاف حسین نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت رینجرز اور کراچی انتظامیہ کو چیلنج کرنے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں ناکام ہونے کے بعد صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو آگے کردیا گیا ہے۔ الطاف حسین متعدد عوارض کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایک شاطر اور تجربہ کار سیاست دان ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں کب کون سی بات کہنی چاہئے۔ سوموار کو کی جانے والی تقریر نہ تو اتفاقیہ تھی اور نہ ہی اے آر وائی پر حملہ کرنے کا فیصلہ اچانک کرلیا گیا تھا۔ یہ الطاف حسین کی طرف سے رینجرز کے مقابلے میں اپنی طاقت کے مظاہرے کا ایک طریقہ تھا جو ناکام ہو گیا۔ اب وہ اتنی ہی مہارت سے اس سے ہونے والے نقصان سے پارٹی کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الطاف حسین کو اپنے گناہوں اور جرائم کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن ان کی طاقت کراچی اور حیدر آباد کے ووٹر ہیں۔ جب تک کوئی سیاسی قوت ان ووٹروں کی شکایات دور کرکے انہیں الطاف حسین کو مسترد کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی، کوئی انتظامی اقدام یا سزا الطاف حسین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ موجودہ حالات میں تو کسی عدالت سے سزا پانے کی صورت میں وہ زیادہ طاقتور ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali