کوئی آشوب لادوا نہیں ہوتا


\"mujahid الطاف حسین کے حالیہ مذموم فعل کے بعد ایک بات جو مختلف افراد کی جانب سے تواتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے وہ یہ کہ ایک شخص کی لغزش کی سزا پوری جماعت کو نہیں دی جانی چاہیے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ یہ جماعت الطاف حسین کے بغیر جماعت نہیں رہ سکتی۔ دونوں بیانات متضاد تو ہیں ہی لیکن یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ جو افراد جماعت کو براہ راست نشانہ بنانے کے مخالف ہیں وہ دوسرے معنوں میں جماعت کو الطاف حسین سے علیحدہ کرکے گرانا چاہتے ہیں۔

سب جانتے ہیں متحدہ قومی تحریک جو سابقہ مہاجر قومی تحریک تھی، ایک گندھا ہوا ڈھانچہ ہے جس میں جزو مل کر کل بنتا ہے اور کل کو اجزاء سے سوا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس تنظیم کا سخت ترین نظم و ضبط اور اس کو قائم و دائم رکھنے کی خاطر تشدد تا حتٰی عدم برد کر دیا جانا بھی ایک ریت بن چکا ہے۔ جماعت لاکھ انکار کرے مگر بانی و قائد کے کھلے عام بیانات غماض ہیں کہ مخالفین کے ساتھ چاہے وہ جماعت سے باہر کے ہوں یا جماعت کے اندر سے کیونکر نمٹا جاتا ہے۔

اس جماعت میں انتہائی سختی برتنے والے جسے عرف عام میں \”میلیٹنٹ گروپ یا جنگجو گروہ\” اور اعتدال پسند یا نرم خو گروہ علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں بلکہ اوّل تا آخر ایک ہیں چاہے وہ خود قائد تحریک ہوں، رابطہ کمیٹیوں کے اراکین ہوں، زونوں سیکٹروں وغیرہ کے انچارج ہوں یا عام کارکن ہی کیوں نہ ہوں۔ سب سب کے بارے میں اور سب سب کے اعمال و افعال سے متعلق جانتے ہیں۔

منحرف مصطفٰی کمال، تحریک کی موجودہ قیادت کو \”شرکائے جرائم\” گردانتے ہیں اور خود \”شریک جرم\” رہنے سے انکاری ہیں۔ ان کا یہ کہنا اپنے طور پر ایک طرفہ تماشا ہے۔

ویسے ہی کراچی میں \”پاکستان مردہ باد\” کے نعرے لگوانے کے بعد جن میں مصلحت اندیشوں نے منہ نیچے کرکے ہلکی آواز میں نعرے لگائے اور مصلحت نا آشنا لڑکیوں نے باآواز بلند نعرہ لگایا، میڈیا ہاؤسز پر حملہ کرنے کے حکم پر نوجوانوں نے \”جا رہے ہیں قائد \” \”جا رہے ہیں بھائی\” کہہ کر باآواز بلند صاد کیا، جس طرح الطاف حسین نے امریکہ میں کارکنوں سے خطاب کرکے ان کے اپنے طور پر اٹھائے گئے حلف سنے، اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ اگر کراچی میں حکومتی اداروں بلکہ ایک نیم عسکری ادارے کی جانب سے ردعمل کا خدشہ نہ ہوتا تو وہاں بھی یہ لوگ پاکستان کے ٹکڑے تکڑے کرنے، اسرائیل ایران افغانستان بھارت اور امریکہ سے مدد مانگنے کے لیے بات کرنے اور داعش القاعدہ و پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کی خاطر \”قائد\” کے، جو خود جانے کی بات کرہے تھے، ساتھ جانے کی بات ضرور کرتے۔

 یقیناً کسی بھی جماعت پر پابندی لگا دینے سے نہ تو شکایات کا ازالہ ہوتا پے اور نہ ہی معاملے کا حل لیکن ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ  انتشار پھیلانے والوں اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی جائے۔

 تو پھر اس آشوب کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے روابط مانیٹر کیے جانے چاہییں۔ لندن میں مقیم قیادت سے اگر نام نہاد متحدہ قومی تحریک پاکستان کے کسی بھی رہبر کا، کسی بھی کارکن کا رابطہ ہو تو اس کے افعال و اعمال پر کڑی نظر رکھی جانی چاہیے۔ اس جماعت سے وابستہ تمام غنڈہ عناصر کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مضبوط مقدمات تیار کرکے سزائیں دلائی جانی چاہییں۔ اس جماعت کی جانب سے ایک بھی مزید بے جا ہڑتال، ایک بھی مزید متشدد سرگرمی ہونے کے بعد، اشتعال دلانے والی جماعت کے طور پر تعزیری و تحدیدی کارروائی کی جانی چاہیے۔

  اب معافی قبول کیے جانے کا وقت گذر چکا ہے۔ اگر حکومت نے مناسب اقدامات نہ لیے تو اس جماعت کی جانب سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

 یقینا\” ملک میں اور بھی گمبھیر مسائل ہیں۔ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ اس ضمن میں تزویری گہرائی کا معاملہ ہے۔ ناانصافی اور بااثر لوگوں کی جانب سے عام لوگوں کے خلاف تشدد اور دھونس جمانے کا مسئلہ ہے، غرض بہت زیادہ مسائل ہیں تاہم اہم ترین مسئلہ کسی ملک کی آزادی کو چیلنج کیا جانا اور اس کی سالمیت کے خلاف دوسرے ملکوں سے امداد طلب کیے جانے کی باتیں کرنا ہے۔ اگر اس اہم ترین معاملے سے مناسب طور پر نہ نمٹا گیا تو دوسرے قوموں کے قوم پرستوں کو بھی شہہ ملے گی۔ قوم پرستی بہر طور متشدد اور جارح ہو جایا کرتی ہے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن جاتا ہے، یوگو سلایہ تین حصوں میں اور چیکو سلاویہ دو حصوں میں بنٹ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS