کیا حلال یا حرام کی کمائی سے بچے کی شخصیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
کیا حلال یا حرام کمائی کے بچوں پر اثرات ہوتے ہیں؟ یہ کافی بحث اور تحقیق طلب موضوع ہے۔ اسلامی، اخلاقی اور روحانی نقطہء نگاہ سے ہم بالکل اس کے قائل ہیں کہ ہر نیک اور بد عمل کا صلہ اس دنیا میں نہیں تو اگلی دنیا میں ضرور ملنا ہے۔ سائنس اور اس کے ماننے والے اس عقیدے کو اس لئے اہمیت نہیں دیتے کہ یہ سائنسی طریقوں پر پورا نہیں اُترتی۔ سائنس اسباب اور عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لئے روحانی اور اخلاقی کیفیات اور وارداتیں چنداں یا ہیچ اہمیت نہیں رکھتی۔
اگر حرام کی کمائی سے ایک بچے کو بہترین ماحول، بہترین اساتذہ اور ذہنی اور جسمانی ترقی اور پرورش کے تمام اسباب مہیا ہوجائیں تو اس بچے پر اس حرام کمائی کے اثرات اچھے ہوں گے یا بُرے؟ عین اسی طرح اگر اپنی محدود مگر حلال کمائی میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز اور ناگزیر ضرورتوں کو پورا نہ کرپانے والا شخص اگر اپنی اولاد کو محرومی اور تنگدستی کے سوا کچھ نہیں دے سکتا تو ایسی اولاد سے کیا امید رکھنی چاہیے؟
اساتذہ کرام اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ وہ اِن کیفیات اور وارداتوں کو نزدیک سے مشاہدہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ سترہ سالہ تدریس کے دوران بھانت بھانت کے شاگردوں یا صحیح معنوں میں بچوں سے واسطہ پڑا کہ بچے ہی اپنی قدرتی یا طبعی شکل میں قابلِ مشاہدہ ہوتے ہیں اور وہ اپنے بڑوں کی طرح کسی بھی مصنوعیت سے مُبّرا ہوتے ہیں۔ من حیث استاد یا معلم، بچوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا تعلق علم اور ذہن کے ساتھ ہے جس میں لائق، ذہین، کندذہن، غبی اور اسی طرح کے دیگر خواص شامل ہیں۔
دوسری درجہ بندی بچوں کے رویے اور اخلاق پر مشتمل ہے جس میں خوش اخلاق، باحوصلہ، حساس، شرارتی، جھگڑالو، بدتمیز، بے حس اور اسی طرح کی دیگر خصلتیں شامل ہیں یہ خوبیاں یا برائیاں بھی بچوں میں مختلف پیمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ ایسا خوش اطوار اور خوش اخلاق بچہ بھی ہوتا ہے جس کے سب گرویدہ ہوتے ہیں اور ہر جگہ اس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کوئی بچہ ایسا جھگڑالو، تندخو اور بدتمیز ہوتا ہے کہ سب اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں اور اس کاذکر شریف عام طور پر اخلاقیات کے درس میں بچوں کو بداخلاقی سے بچانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
میری ایک بری عادت یہ رہی ہے کہ جدھر کسی بچے میں کوئی انتہاء درجے کی خوبی یا بدی دیکھتا ہوں بلاوجہ کی جستجو میں پڑجاتا ہوں۔ اس جستجو میں سب سے پہلے والد کے ذرائع آمدن دیکھی جاتی ہے۔ اس میں جب بچہ انتہا ء درجے کا خوش اخلاق، خوش اطوار اور ذہین ہو تو ان کے والدین سے ملاقات کا اشتیاق بڑھ جاتا ہے۔ بداخلاق اور تند خو بچوں کے سلسلے میں تھوڑا بہت صبر سے کام لینا پڑتا ہے کہ ایسے والدین سے ملنے کا دل نہیں کرتا لیکن بالاآخر ایسے والدین سے میل ملاقات ہوہی جاتی ہے۔
اکثر کیسز میں حلال اور حرام کمائی کے متعلق جو عقائد اور تصورات ہم پالتے ہیں وہ بچوں کی شکل میں صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ حلال کمائی پر پلنے والے بچے واقعاً ایسی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں جو کہ والدین اور اساتذہ کے لئے روحانی خوشی اور سکون کا باعث ہوں، دوسری جانب حرام کمائی کے بداثرات بچوں میں ضرور دِکھتے ہیں۔ اب کچھ ایسے کیسز کی طرف آتے ہیں جہاں ہمارا نظریہ یا فارمولا کام نہیں کرتا۔ والد کی حرام کمائی کے باوجود بچے میں ایسے اوصاف پائے جاتے ہیں جو کہ حیران کن ہوتے ہیں۔
ایسے تمام واقعات میں دراصل کچھ اور عناصر کام فرما ہوتے ہیں جیسے کہ وقت، اندازِ تجزیہ اور دیگر جن کو ہم نظر انداز کرتے ہیں یا صحیح طور پر تجزیہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ آئیے ان باتوں کو ایک دو مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ کئی سال قبل کا واقعہ یاد پڑتا ہے۔
ایک بچہ بہت ہی خوش اخلاق اور پڑھائی میں بھی ٹھیک ٹھاک ذہین ہونے کی وجہ سے جلد ہی اساتذہ میں پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جانے لگا اور میں والدین سے ملاقات کے اشتیاق میں مبتلا ہوگیا کہ دیکھوں کیسے والدین ہوں گے۔
والدہ سے تو کبھی ملاقات نہ ہوسکی کیونکہ وہ پردے کی وجہ سے گھر تک محدود تھیں مگر والد سے مل کر سخت مایوسی ہوئی۔ نہایت ہی زودرنج، متکبّر شخص جو سکول کے درودیوار تک سے شاکی نظر آتا تھا۔ مزید کُریدنے پر پتا چلا کہ ایک سرکاری محکمہ میں افسر ہیں اور بطور راشی افسر کے بدنام ہیں۔ اس قدر رشوت لیتے ہیں کہ بنگلوں، زرعی زمینوں اور گاڑیوں کی کوئی حد ہے نہ حساب۔ سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہواکہ میرا فارمولا کاملاً ناکام ہوگیا تھا۔
لیکن یہاں وقت کی ضرورت تھی۔ بچہ ابھی ساتویں جماعت میں تھا۔ وقت گزرتا گیا اور جیسے جیسے بچے کی عمر اور جماعت میں ترقی آتی گئی ویسے ویسے اس کی تعلیمی اور اخلاقی درجہ بندیاں گرتی گئیں۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے وہ، وہ بن گیا تھا جس کی توقع تھی۔
ایک اور بچہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ یہ بچہ پڑھائی میں اوسط درجے کا اور عجیب دھیمے مزاج کا تھا۔ والد صاحب نے حلال وحرام ہر طرح سے دولت کا انبار لگا رکھا تھا۔ اس بچے کا دھیما اور پروقار مزاج اور اس کے والد کی کمائی ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ایک دن اس دھیمے مزاج کا بھرم بھی جاتا رہا اور جب یہ آتش فشاں پھٹا تو اگلا پچھلا سارا حساب برابر کردیا اور وہ طوفانِ بدتمیزی اس بچے برپا کیا کہ الامان و الحفیظ۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ شروع میں اس کا ذکر ہوا کہ سائنس صرف اسباب و عمل پر یقین رکھتی ہے اور ہمارے جذبات، اخلاقی اقدار اور مذہبی اقتصادات کی سائنسی دنیا میں زیادہ گنجائش نہیں۔ جب ہم حلال اور حرام کمائی کے بچوں پر اثرات کا سائنسی دوربین سے مشاہدہ کرتے ہیں تو یہاں ایسے اسباب ملتے ہیں جو کہ اس نظریے یا فارمولے کی تصدیق کرتے ہیں جو والدین زیادہ کمانے کے چکروں میں پڑجاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ حلال ہے یا حرام، ان کے لئے اولاد کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے اور جب اولاد کو وقت جیسے بنیادی تحفے سے محروم رکھا جاتا ہے تو بلاشک و شبہ ان کی پرورش میں بے شمار کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں اور یہ عنصر تمام برائیوں کی جڑ بن جاتی ہے۔
حرام کمائی، انسان کے اندر ندامت، پشیمانی، اندرونی شکستگی اور دیگر منفی عوامل کو اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ آدمی وقت کے ساتھ ساتھ بے حس اور بے ضمیر ہو سکتاہے مگر کبھی بھی اپنی حرام کمائی پر شاید فخر نہ کرسکے۔ دوسری جانب، حلال کمائی میں ذہنی اور جسمانی مشقت شاید ہو مگر آدمی کی روح اور ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔ اب آپ اپنے ذہن میں ان دونوں آدمیوں کا خاکہ بنائیں خاص کر جب وہ اپنی اولاد کے ساتھ وقت بِتا رہے ہوں۔ ہر دو طرح کے اشخاص کا اپنی اولاد کے ساتھ رویہ اور اس کے نتیجے میں ان پر ہونے والے اثرات کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
پھر باری آتی ہے اس اخلاقی ترویج کی جس کے نظارے ہمارے اردگرد کچھ زیادہ ہی نظر آتے ہیں۔ جو حلال کمائی کررہا ہو، وہ اپنی اولاد کے سامنے اس کے گُن گاتا ہے۔ حرام کمائی کرنے والا نہ حلال نہ ہی حرام دونوں کی تعریف نہیں کرسکتا۔ اس طرح وہ اپنی اولاد کو وہ فخرو انبساط نہیں دے سکتا جو حلال کمائی کرنے والا ہر لمحہ اپنی اولاد کی ذہن و روح میں منتقل کرتا رہتا ہے۔
عام طورپر میں نے حرام کمائی کرنے والوں کو اندرونی طور پر بہت کھوکھلا اور کمزور پایا ہے۔ اس کمزوری کو وہ تکبّر اور خودپسندی میں ملفوف رکھتے ہیں۔ جب کوئی چوبیس گھنٹے، غرور اور تکبّر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے تو اس کی اولاد میں تکبّر اور غرور کا بدرجہء اتم پایا جانا کسی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔
جہاں والد کی حلال یا حرام کمائی بچوں پر اپنے دوررس اثرات مرتب کرتی ہے، وہیں والدہ کی تربیت اور شخصیت بچوں کی شخصیت کو اس کی اصل شکل عطا کرتی ہے۔ بچوں میں خوش اخلاقی، سخاوت، جراٗت و اعتماد، پیار لینے اور دینے کی خصوصیات اور اس جیسی بے شمار خوبیاں والدہ کی شخصیت کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ اسی لئے تو خواتین کی تعلیم مردوں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
آخر میں حرام کمائی کی ایک مختصر مگر خوفناک مثال، ایک ڈاکٹر صاحب بطور قصاب شہرت رکھتے تھے۔ ان کے ہاں جو اولاد ہوئی اس کے نہ دست و پا صحیح تھے نہ ہی اعصاب۔ ڈاکٹر صاحب کا تجربہ، کروڑوں کی دولت اور امریکا و یورپ کے ڈاکٹرز مل کر بھی بچے کو وھیل چیئر سے نہ اٹھا سکے۔ اس بچے کی مثال دی جانے لگی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ڈاکٹر کے ظلم و شقاوت کی سزا اللہ نے اس بچے کی صورت ہمیشہ ہمیشہ کلنک کے ٹیکے کی طرح ان کے ماتھے پر لگا دی ہو اوراب آدمی اپنے ماتھے کو تو پھوڑ نے سے رہا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطاء کرے اور اپنی عافیت میں رکھے۔ آمین ثمہ آمین


