نورانی چہرے

آج سے تین سال پہلے کی بات ہے۔ رمضان کا مہینہ تھا اور گرمی اپنی شدت سے روزہ داروں کو آزما رہی تھی۔ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے تو نمازی حضرات چار اور پانچ کی ٹولیوں میں بٹ کر خوش گپیوں میں مشغول ہوگئے۔ ویسے بھی عصر اور مغرب کی درمیان…

Read more

دل کے غنی

کبھی کبھار کچھ لوگوں سے مل کے آپ ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس میں رشک، حیرت اور محبت تینوں شامل ہوتی ہیں۔ اس سال رمضان کی بات ہے جب میں حسبِ معمول تیزی سے اپنی موٹر سائیکل پر گھر کی طرف رواں تھا۔ کافی دیر ہو چکی تھی اور میرا افطار تک گھر پہنچنا تقریباً ناممکن ہو چلا تھا۔ آدھے راستے میں تھا کہ موٹر سائیکل اچانک سے بند ہوگئی۔ عادتاً، سب سے پہلے پیٹرول چیک کیا لیکن ٹینکی میں کافی پیٹرول تھا۔

افطار میں اب فقط دس منٹ رہ گئے تھے اور اس وقت کسی مستری کا ملنا تقریباً ناممکن۔ میں اپنے موٹر سائیکل کو گھسیٹتے ہوئے کچھ دور چلا تھا کہ ایک دکان پر نظر پڑی۔ مستری نے موٹر سائیکل کھڑی کرنے کا کہا اور مجھے اپنے ساتھ افطار کرنے کی دعوت دی۔ میں شکریہ ادا کرکے سائیڈ پر ہوگیا تاکہ وہ تسلی سے اپنا افطار کر سکیں۔ کچھ دیر بعد اذانیں شروع ہوئی اور مستری کے دکان سے ایک بچہ ایک گلاس شربت کا تھما گیا۔ شربت پی کے نزدیکی پرچون دکان سے میں نے پانی کی بوتل خریدی اور وہیں پر انتظار کرنے لگا۔

Read more

ہم تاریخ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

تاریخ کا مطالعہ مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہے۔ طالب علم ڈھیر ساری تاریخوں، شخصیات سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ اکثر یہ آپس میں گڈمڈ ہوجاتے ہیں اور پھر ان بھول بھلیوں میں شاگرد خود کہیں گم ہو جاتا ہے۔ پھر باری آتی ہے ان کی جو تاریخ سے لطف اندوز ہونے کے لئے…

Read more

کیا حلال یا حرام کی کمائی سے بچے کی شخصیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

کیا حلال یا حرام کمائی کے بچوں پر اثرات ہوتے ہیں؟ یہ کافی بحث اور تحقیق طلب موضوع ہے۔ اسلامی، اخلاقی اور روحانی نقطہء نگاہ سے ہم بالکل اس کے قائل ہیں کہ ہر نیک اور بد عمل کا صلہ اس دنیا میں نہیں تو اگلی دنیا میں ضرور ملنا ہے۔ سائنس اور اس کے ماننے والے اس عقیدے کو اس لئے اہمیت نہیں دیتے کہ یہ سائنسی طریقوں پر پورا نہیں اُترتی۔ سائنس اسباب اور عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لئے روحانی اور اخلاقی کیفیات اور وارداتیں چنداں یا ہیچ اہمیت نہیں رکھتی۔

اگر حرام کی کمائی سے ایک بچے کو بہترین ماحول، بہترین اساتذہ اور ذہنی اور جسمانی ترقی اور پرورش کے تمام اسباب مہیا ہوجائیں تو اس بچے پر اس حرام کمائی کے اثرات اچھے ہوں گے یا بُرے؟ عین اسی طرح اگر اپنی محدود مگر حلال کمائی میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز اور ناگزیر ضرورتوں کو پورا نہ کرپانے والا شخص اگر اپنی اولاد کو محرومی اور تنگدستی کے سوا کچھ نہیں دے سکتا تو ایسی اولاد سے کیا امید رکھنی چاہیے؟

Read more