کبھی کبھار کچھ لوگوں سے مل کے آپ ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس میں رشک، حیرت اور محبت تینوں شامل ہوتی ہیں۔ اس سال رمضان کی بات ہے جب میں حسبِ معمول تیزی سے اپنی موٹر سائیکل پر گھر کی طرف رواں تھا۔ کافی دیر ہو چکی تھی اور میرا افطار تک گھر پہنچنا تقریباً ناممکن ہو چلا تھا۔ آدھے راستے میں تھا کہ موٹر سائیکل اچانک سے بند ہوگئی۔ عادتاً، سب سے پہلے پیٹرول چیک کیا لیکن ٹینکی میں کافی پیٹرول تھا۔
افطار میں اب فقط دس منٹ رہ گئے تھے اور اس وقت کسی مستری کا ملنا تقریباً ناممکن۔ میں اپنے موٹر سائیکل کو گھسیٹتے ہوئے کچھ دور چلا تھا کہ ایک دکان پر نظر پڑی۔ مستری نے موٹر سائیکل کھڑی کرنے کا کہا اور مجھے اپنے ساتھ افطار کرنے کی دعوت دی۔ میں شکریہ ادا کرکے سائیڈ پر ہوگیا تاکہ وہ تسلی سے اپنا افطار کر سکیں۔ کچھ دیر بعد اذانیں شروع ہوئی اور مستری کے دکان سے ایک بچہ ایک گلاس شربت کا تھما گیا۔ شربت پی کے نزدیکی پرچون دکان سے میں نے پانی کی بوتل خریدی اور وہیں پر انتظار کرنے لگا۔
Read more