سانحہ خار قمر: خوف اور گھٹن کی فضا میں اپوزیشن کی ذمہ داری کیا ہے؟


گزشتہ روز پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں پی ٹی ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے تنظیم اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔

اپوزیشن اور انسانی حقوق کمیشن کے مطالبہ اور تشویش پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیارکیے رکھی ہے۔ آج انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں اتوار کو فورسز کی مبینہ فائرنگ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کے واقعہ کی فوری آزادانہ تحقیقات کروائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس وقت فائرنگ ہوئی اس وقت پی ٹی ایم کے دو رہنما اور رکن پارلیمنٹ شمالی وزیرستان میں افغان بارڈر سے متصل علاقے خرقمر میں ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ اس دوران اچانک فائرنگ شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں تین کارکن ہلاک ہو گئے۔

اس دوران شمالی وزیرستان میں کرفیو کا سلسلہ جاری ہے اور سڑکوں کو آمد و رفت کے لئے جزوی یا مکمل طور سے بند کیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر سے ان کے کارکن میراں شاہ دھرنے میں شرکت کے لئے آرہے ہیں لیکن سیکورٹی فورسز انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ اس مقصد کے لئے پی ٹی ایم کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاری کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ علاقے میں موبائل سروس اور ٹیلی فون سہولتیں مسلسل بند ہیں اور فوج غیر رہائشیوں کو علاقے میں جانے سے منع کررہی ہے۔

 بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد کو بھی شمالی وزیرستان جانے سے ضرور روکا گیا تھا۔ اے این پی کے ذرائع کے مطابق وفد پارٹی کے سربراہ کی خصوصی ہدایت پر خارقمرکے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کے لئے جا رہا تھا تاہم اس وفد کو ضلع کی حدود سیدگئی پوسٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔

معلومات کی فراہمی کے اس دور میں جبکہ پاکستان کا میڈیا باخبر اور بے باک قرار دیا جاتا ہے اور آئی ایس پی آر کے سربراہ اس سے قومی تشکیل نو کا کام بھی لینا چاہتے ہیں لیکن اس میڈیا کو پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف سامنے لانے یا واقعات کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا حق حاصل نہیں ہے۔ بنوں میں خیبر نیوز کے صحافی کی پر اسرار گرفتاری سے یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اس ریڈ لائن کو عبور کرنے ولا عتاب کا شکار ہوگا۔ آخر وہ کون سے اسباب ہیں کن کی وجہ سے ملک کی فوج ملک کے نوجوانوں کی ایک تحریک کے خلاف اس قسم کا معاندانہ اور جابرانہ برتاؤ درست سمجھتی ہے۔ اور ملک کی حکومت یا پارلیمنٹ کو اس پر رائے دینے یا مداخلت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔

مسلم لیگ (ن) کی لیڈر مریم نواز نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پر شمالی وزیرستان کے سانحہ سے پہلو تہی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ بطور وزیر اعظم ان کا فرض تھا کہ وہ اس معاملہ پر قوم کو اعتماد میں لیتے لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا اپوزیشن بھی صرف ایک ایسے وزیر اعظم کو تختہ مشق بناکر تنقید کرنے اور کسی معاملہ پر احتجاج کا شوق پورا کرلے گی جسے نامزد یا خفیہ طاقتوں کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے۔ ان قوتوں کی چیرہ دستیوں پر کھل کر کون بات کرے گا جو اس وقت پاکستان میں کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہیں اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اس یک طرفہ مؤقف کی تائید کرکے اپنے قومی فرض سے سبکدوش ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

اس سناٹے اور گھٹن کو جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں انتشار، بد اعتمادی اور خوف کی فضا پیدا کی جاچکی ہے۔ اگر ملک کی سیاسی قیادت بھی اس خوف سے نجات دلانے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھائے گی تو وہ کس برتے پر قیادت کا دعویٰ کر سکے گی؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali