سانحہ خار قمر: خوف اور گھٹن کی فضا میں اپوزیشن کی ذمہ داری کیا ہے؟


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اتوار کو شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم ) کے مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ البتہ یہ خبر دینے والے ادارے وائس آف امریکہ اردو سروس پر پاکستان میں پابندی عائد ہے اور اس کی ویب سائٹ کو کھولا نہیں جاسکتا۔ پی ٹی ایم کی طرف سے گزشتہ تین روز سے میران شاہ میں اتوار کو ڈوگا گاؤں میں ہونے والے سانحہ کے خلاف دھرنا جاری ہے جبکہ فوج اور سیکورٹی ادارے ملک بھر سے اس دھرنے میں شرکت کے لئے آنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے میں مصروف ہیں۔ البتہ اس بارے پاکستانی میڈیا کو بولنے یا خبر دینے کی اجازت نہیں ہے۔

پشتو زبان کے سب سے بڑے ٹیلی وژن چینل خیبر نیوز کے ایک صحافی گوہر وزیر کو قومی اسمبلی کے رکن اور میران شاہ دھرنے کی قیادت کرنے والے پی ٹی ایم کے لیڈر محسن داوڑ کا ایک انٹرویو کرنے کے بعد گرفتار کرکے غائب کردیاگیا ہے۔ خیبر نیوز کا کہنا ہے کہ اس کے ایک نمائندے کو بنوں شہر میں پولیس کی طرف سے گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ بنوں میں رپورٹر گوہر وزیر پیر کی شام پی ٹی ایم کے احتجاج کی کوریج کے بعد گھر جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے گرفتار کر کے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے گوہر وزیر کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لاپتہ ہونے والے صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ گوہر وزیر نے پیر کو ایم این اے محسن داوڑ کا ایک مفصل ویڈیو انٹرویو کیا تھا جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی میں اس حوالے سے دو واقعات دیکھنے میں آئے۔ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی امور نے ایک متفقہ قرار داد میں اتوار کو پیش آنے والے سانحہ کی مذمت کی ہے۔ اس موقع پر ڈیفنس سیکرٹری لیفٹینٹ جنرل (ر) اکرام الحق نے بتایا کہ ’گزشتہ ماہ کے دوران شمالی وزیرستان کے قصبہ ڈوگہ پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا۔ 25 مئی کو اس حوالے سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 26 مئی کو پشتون تحفظ مومنٹ نے دھرنا دیا۔ دھرنا دینے والوں سے بات چیت کے نتیجے میں ایک مشتبہ کو رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں مظاہرہ ختم کرنے کا فیصلہ ہؤا۔

تاہم قومی اسمبلی کے ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ نے دھرنا دینے والے لیڈروں کو مظاہرہ جاری رکھنے پر اکسایا۔ یہ دونوں موقع پر پہنچ گئے اور فوجی افسروں سے جھگڑنے لگے۔ ان دونوں نے مظاہرین کے ساتھ مل کر فوجی چیک پوسٹ پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ بھی کی۔ اس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوگئے۔ فوج نے اس کے باوجود انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا لیکن بعد میں ہجوم نے چیک پوسٹ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں جوابی کارورائی لازمی ہوگئی تھی‘ ۔ کمیٹی نے اس موقع پر خارقمر چیک پوسٹ پر حملہ کے خلاف قرار داد منظور کی اور متنبہ کیا کہ چند عناصر کو امن و امان کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انتہاپسندوں کو پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ انتہاپسندوں کے خلاف مکمل آپریشن کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں ہی پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر نے علی وزیر کی گرفتاری پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں قومی اسمبلی کے قواعد پر عمل نہیں کیا گیا۔ اتوار کو فوج نے علی وزیر کو گرفتا رکیا اور بعد میں بنوں میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں 8 روز کے ریمانڈ پر بھیج دیا۔ نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو مطلع کیا جانا ضروری تھا۔ انہوں نے متعلقہ قواعد بھی اسپیکر کے سامنے پیشکیے ۔ جس کے بعد اجلاس کی صدار ت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کو اس معاملہ کو دیکھنے کی ہدایت کی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں منظور کی جانے والی قرار داد کا متن اور وہاں سیکرٹری دفاع کی بریفنگ ہی دراصل اس معاملہ پر حکومت کا جواب سمجھنا مناسب ہوگا۔ کیوں کہ عام طور سے معمولی سی بات پر متعلقہ اور غیر متعلقہ امور پر بیان جاری کرنے والے وزیر یا تحریک انصاف کے ترجمان شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے سانحہ اور اس کے بعد اس حوالے سے سیکورٹی حکام کی جانب سےکیے جانے والے اقدامات پر خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔

اتوار کو اس تصادم کی خبر سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عوام کے ساتھ تصادم کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعہ کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ سوموار کو مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف قومی اسمبلی میں بھی یہ تجویز بھی پیش کی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو خود ایوان میں آکر ڈوگا گاؤں سانحہ پر ارکان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ عمران خان نے اس حوالے سے ایک لفظ بھی کہنا ضروری نہیں سمجھا حالانکہ چند ہفتے پہلے ہی وہ خود کو قبائلی علاقوں کا شناور قرار دیتے ہوئے ان کے تمام مسائل حل کرنے کے بلند بانگ دعوے کرچکے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali