وزیرستان کے حالات کو ہاتھ سے مت نکلنے دیں


آج علی وزیر کے چچا سے ملاقات ہوئی، خیریت دریافت کرنے کے بعد علی کے پوزیشن کے بارے میں پوچھا کہ کوئی خبر ہے؟ کسی نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ یا وہ اس وقت کہاں ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی خبر نہیں لیکن سب سے بڑی حقیقت آپ کو بتاتا جاؤں کہ ہم پوچھیں گے بھی نہیں کیونکہ ہمیں جنازے اٹھانے کی عادت ہے۔ پہلے بھی ایک ہی دن ہمارے گھر سے دس لاشیں نکلیں کسی نے جواب دیا؟ ہم نے پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن ہماری آواز دبا دی گئی تب سے ہم ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہیں، ابھی سننے میں آرہا ہے کہ اس کی حالت اچھی نہیں ہے لیکن ابھی آپ کے صحافی بھائی گوہر وزیر کو اٹھایا گیا ہے کیا آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے یا گرفتار کیا گیا ہے؟

وہاں سے گھر آیا، فیس بک کھولی، ایک طرف اپنے علاقے کے حالات کے تناظر میں آنے والی ویڈیوز دیکھیں دوسری طرف ان لوگوں کے چلائے جانے والے نشتر دیکھ رہا ہوں جن کو زمینی حقائق کے بارے میں کچھ نہیں پتہ، جو ان ویڈیو ثبوتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جو جائے وقوعہ سے آرہے ہیں مگر غداری اور ملک دشمنی کے فتوے دھڑا دھڑ لگا رہے ہیں۔ مجھے اس بات سے سخت نفرت ہے کہ ہمیں اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت بار بار دینا پڑتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فتویٰ سازوں سے ہم زیادہ پاکستانی ہیں۔ جو قربانیاں اس ملک کے لئے ہم نے دی ہیں اس کے بارے میں یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا اور وہ بھی سالوں تک اگر ان کے ساتھ ایک مہینے کے لئے بھی ایسا ہو تو یہ لوگ بغاوت کردیں گے لیکن ہم نے آج تک ملک یا ریاست کے خلاف ایک بات تک نہیں کی۔

مگر ہو کیا رہا ہے کہ آپریشنوں کے بعد ہم نے سوچا تھا کہ ٹھیک ہے ہمارے ساتھ برا ہوا مارے گئے لاپتہ کیے گئے، شاید مجبوریاں ہوں گی شاید کچھ ذمہ داروں کی غلطیاں ہوں گی اور اب ہمیں بتایا جائے گا کہ غلطیاں ہوئی ہیں، ہمیں افسوس ہے، ہم آپ کا ہوا نقصان تو پورا نہیں کر سکتے لیکن ہم آپ کو ایجوکیشن دے کر ازالہ کریں گے، آپ کو صحت کے سہولیات دے کر ازالہ کریں گے۔ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کی جاتی کہ کی جانے والی غلطیاں جان بوجھ کر نہیں تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے بہانے تراشے گیے اور پندرہ بیس سال سے عجیب کشمکش میں مبتلا لوگوں کو لگنے لگا کہ جیسے یہ سب کچھ ہمارے ساتھ جان بوجھ کر کیا گیا اور جان بوجھ کر ہورہا ہے۔

دوربین سے دیکھنے والے ہمارے دوست بہت دور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر الفاظ سے کھیلتے ہیں اور ہمارے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ ہمارے نہتے شہیدوں کو گالیاں دیتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا کوئی لوگ بلاوجہ ہی فوج جیسے ادارے کے سامنے آکر خود کو مروانے پر تیار ہو سکتے ہیں؟ کیا ان کو نہیں لگتا کہ گزشتہ پندرہ بیس سالوں کی بدترین تکالیف کے بعد ان قبائلیوں کا اتنا تجربہ ہوا ہے کہ ان کو ایک ایک قدم پھونک کر اٹھانا پڑے گا؟

لیکن نہیں ان کا بس ایک ہی بیانیہ ہے کہ آپ کے لوگ اداروں کے لئے سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں۔ بے شک استعمال نہیں کرنا چاہیے لیکن زمینی حقائق کے بارے میں بھی تو کچھ پتہ کرو۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”لر او بر“ والے نعرے لگاتے ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ افغان کا معنی کیا ہے صرف یہ کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا کہ اگر کوئی ایسی بات بھی کہہ دیتا کہ افغانستان اس علاقے (فاٹا) پر دعویداری کرتا ہے تو لوگوں کو آگ لگ جاتی کہ وہ آکر دکھا دیں۔ کیا کبھی آپ نے جاننے کی کوشش کی کہ ان لوگوں کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ محبت اور وفا کے پیکر قبائل کے منہ سے نفرت ہی نکل رہی ہے؟

اکثر نعرے لگانے والے صرف ایک بات جانتے ہیں کہ ہمارے ان نعروں سے ہمیں تکلیف دینے والوں کو تکلیف ملتی ہے تب ہی لگاتے ہیں اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی مسئلہ چل رہا ہو درمیان میں اتنی غلط فہمیاں ہو وہ مخالف فریق کے لیے وہی کلمات ادا کرے گا جن سے اس کو ٹھیس پہنچے، لیکن کیا کبھی آپ نے کوشش کی کہ ان کو اپنایا جائے، ان کے مسائل حل کیے جائیں؟ کہا ضرور جاتا ہے کہ ہم نے یہ وہ کیا لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں ہوتی، سیاست اور کھیل کھیلے جاتے ہیں جبکہ اصل ضرورت اخلاص کی ہوتی ہے جو ہمیں حالیہ بدترین دنوں میں بھی نظر نہیں آیا جب اتنے لوگ احتجاج کررہے ہیں۔

میں تعصب سے سخت نفرت کرتا ہوں اور اپنے علاقے میں بھی ان دوستوں کے زیادہ قریب رہا ہوں جنہوں نے مقامی سطح پر تعصب کم کرنے کے لیے کام کیا ہے مگر جس انداز میں قومی میڈیا بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر دوست اس معاملے کے سلسلے میں سامنے آئے ہیں اس میں پاکستانیت سے زیادہ تعصب نظر آتا ہے اور کچھ قابل قدر دوستوں نے فاٹا سے ملک میں ہونے والے خود کش و دیگر حملوں کے بارے میں بھی باتیں کیں اور جتلانے کی کوشش کی کہ ہم نے اس کو نسلی نہیں لیا لیکن ان دوستوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہاں کے مقامی لوگ ان خودکش حملہ آوروں کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ یہ کون تھے؟ کس نے استعمال کیے، وغیرہ۔

میں ان دوستوں کو محمد حنیف رامے کے کتاب پنجاب کا مقدمہ کے تناظر میں زیادہ دیکھتا ہوں جس کو پڑھنے سے کئی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں لیکن میں ان سے مودبانہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ ان حالات کو صرف ایک آنکھ سے نہ دیکھیں، اس ملک کی خاطر ایک محب وطن پاکستانی کا کردار ادا کریں۔ بیشک کئی بار آپ کو اپنے دل اور سوچ پر بھی جبر کرنا پڑے گا مگر اگر آپ نے حقیقت بیانی سے کام لیا تو مستقبل کے پاکستان میں آپ کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔

یہاں بنگال کی باتیں کی جاتی ہیں اور پھر مشرف کی طرح کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں۔ بالکل صحیح، ہمارے منہ میں خاک اگر ہم پاکستان کے خلاف ہوں لیکن یار انسانیت کا سرٹیفکیٹ تو دے دو کہ ہم انسان ہیں، ہمارے بہت زیادہ لوگ مرے ہیں، بہت زیادہ معذور ہوئے ہیں، بہت زیادہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں، ہمارے ساتھ بدترین مظالم ہوئے ہیں لیکن آپ جب اس پوائنٹ پر آتے ہیں تو گم ہو جاتے ہیں۔ آپ کے الفاظ حالات کے مطابق نہیں ہوتے ہمیں۔ احساس ہوتا ہے کہ آپ کہنا تو چاہتے ہیں لیکن کسی وجہ سے کہہ نہیں سکتے۔ اگر آپ کی مجبوریاں ہیں جو کہ ہماری بھی ہیں لیکن ہم مجبور ہیں کیونکہ یہاں ہم نے رہنا ہے تو کم از کم نفرت تو نہ پھیلاؤ، تمہاری فرسٹریشن تو نکل جاتی ہوگی لیکن اس کا نقصان شاید آپ نہیں سمجھ پا رہے یا شاید اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے؟

ملک کی سیاسی جماعتوں کا کردار اس وقت بالکل نظر نہیں آرہا بلکہ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے تہیہ کررکھا ہے کہ معاملے کو وہ سمت ملے جہاں سب کچھ دیکھتے رہیں اور کہتے رہیں کہ ہم تو پہلے سے کہتے رہے کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔ یقیناً ہم ایک دوسرے کو ڈرانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اس وقت جو مجھے نظر آتا ہے شمالی وزیرستان واقعے کے بعد لوگوں کی سوچ نفرت کی انتہاؤں کو چھو رہی ہے جس کا فوری نقصان اگر نہ بھی ہوا تو یہ ہمارے نظام کو ہمیشہ دیمک کی طرح چاٹتا رہے گا۔

اداروں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عوام کے ساتھ ضد نہیں کرتے، ان کو کم تر نہیں سمجھتے، بلکہ ثابت کریں کہ آپ عوام ہی کے لئے ہیں نہ کہ عوام آپ کے لیے۔ شمالی وزیرستان واقعے کی پارلیمانی اور جوڈیشل انکوائری کی جائے اور دونوں اطراف میں جو بھی مجرم ہو اس کو سخت سزا دی جائے۔ علی وزیر کو خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یقین مانیں حالات ہمیشہ کے لیے بہتری کی گنجائش سے نکل جائیں گے۔ ٹھیک ہے عوام مرتے رہیں گے لیکن گولیاں مار مار کر آپ کو بھی تکلیف ہوگی اور ایک وقت آئے گا کہ آپ تھک جائیں گے۔

اسی بارے میں: وزیرستان کا سنگین ہوتا مسئلہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

Facebook Comments HS