کرکٹ عالمی کپ 2019 کون سی ٹیم جیت سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ عالمی کپ دو ہزار انیس کی جنگ چھڑنے میں اب صرف چند گھنٹے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ دنیا کی دس بہترین ٹیمیں اس ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی ہیں جن میں پاکستان، بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، آسڑیلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور میزبان انگلینڈ شامل ہیں۔ ان دس ٹیموں میں سے اگر بنگلہ دیش، افغانستان اور سری لنکا کو نکال دیا جائے تو باقی سات ٹیمیں بچتی ہیں۔ ان سات ٹیموں کو یعنی کہ پاکستان، بھارت، آسڑیلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کو آن پیپر دیکھا جائے تو ساتوں ٹیموں کہ پاس دو سے تین ایسے میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں جو کسی بھی حالات میں میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں لیکن میزبان انگلینڈ کی ٹیم کو کرکٹ حلقوں میں موجودہ کارکردگی، بہترین ٹیم سکیم اور ہوم گراؤنڈ کی وجہ سے سب سے زیادہ فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے لیکن کرکٹ کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم پریشر برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

خصوصی طور پہ اگر بڑے ٹورنامنٹس میں برطانوی کھلاڑیوں کی بات کریں تو ان کے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں۔ کبھی سٹورٹ براڈ گھبرا کہ اوور میں چھ چھکے کھا لیتے ہیں، کبھی بین سٹوکس لگاتار چار چھکے کھا کہ جیتا میچ ہروا دیتے ہیں، کبھی مائیکل یارڈی ڈپریشن کی وجہ سے عالمی کپ ادھورا چھوڑ کہ کائروں کی طرح بھاگ جاتے ہیں، کبھی مستند بلے باز جاناتھن ٹراٹ اور مایاناز سجیلے اوپنر ٹریسکاؤتھک پریشر کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور کبھی پوری کی پوری ٹیم ناک آؤٹ مرحلے میں جا کہ ہمت ہار جاتی ہے لیکن ورلڈ کپ اپنے نام نہیں کرتی۔ کرکٹ انگلینڈ کہ ماضی کو دیکھتے ہوئے میرا کرکٹ پنڈتوں سے کھلا اختلاف ہے اور مجھے انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ جیتتی نہیں نظر آتی ہاں البتہ گروپ میچز میں انگلیڈ کی ٹیم مخالفین کو کڑی آزمائش دے گی۔

پیچھے رہ گئی چھ ٹیمیں جن میں سے دو ٹیمیں ایسی ہیں جن کی ہر ورلڈکپ میں بہترین تیاری، ٹیم اور کپتان ہوتے ہیں یعنی کہ ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ لیکن دونوں ملک ورلڈ کپ میں اپنے ساتھ شاید نحوست کہ بادل بھی لے کر آتے جو ان کو شاندار کارکردگی دکھانے کہ باوجود ورلڈ کپ جیتننے نہیں دیتے یا پھر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ٹیمیں بڑے ٹورنامنٹس کی بدقسمت ٹیمیں ہیں جو ناک آؤٹ راؤنڈز ہار جاتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو ”چوکرز“ بھی کہا جاتا ہے جن کو گریم سمتھ اور سٹیفن فلیمنگ جیسے عظیم کپتان بھی ورلڈ کپ نا جتوا سکے۔ بہترین کھلاڑیوں سے سجی دونوں ٹیمیں عالمی کپ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ تو کریں گی لیکن میرے نزدیک ہمیشہ کی طرح اس عالمی کپ میں بھی فائنل راؤنڈ میں دونوں ٹیمیں چوکرز کا داغ دھونے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

اگر ہم دو مرتبہ کی عالمی چمپئن کالی آندھی کی بات کریں تو آن پیپر جس طرح کہ ان کہ پاس ہارڈ ہٹر موجود ہیں وہ دیکھ کہ یقیناً ہر ٹیم خوف کھانے لگے لیکن ویسٹ انڈیز ٹیم کی بد قسمتی یہ ہے کہ ان کے زیادہ تر کھلاڑیوں کا ٹی ٹونٹی لیگز کھیل کھیل کر پچاس اوور کی کرکٹ کا ٹیمپرامنٹ نہیں رہا۔ ورلڈ کپ کا حصول اگر دو تین میچز کی گیم ہو تو میرے نزدیک ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے جارحانہ انداذ کی وجہ سے سب سے زیادہ فیورٹ ہوتی لیکن ورلڈ کپ ایک لمبی ریس ہے جس میں ہر ٹیم کو فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لئے دس میچ کھیلنے پڑیں گئے۔ سو اوور کی گیم، دس میچز کی دوڑ، ویسٹ انڈیز کا ٹی ٹونٹی انداز اور فائنل تک رسائی۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔

اب پیچھے بچتی ہے پانچ مرتبہ کی عالمی چمپئن آسڑیلیا، دو مرتبہ کی چمپئن بھارت اور ایک مرتبہ کی چمپئن پاکستان کی ٹیمیں۔ اگر بھارت اور آسٹریلیا کی بات کریں تو دونوں ہی ٹیموں کا ورلڈ کپ کے حوالے سے ٹریک نہایت شاندار ہے اور دونوں کی موجودہ ٹیموں میں بہترین میچ ونر بلے باز، گیند باز اور منجھے ہوئے وکٹ کیپر شامل ہیں جو جادو کی طرح میچ کو پلٹنے صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں ٹیموں پر نا ہی ”چوکر“ کا دھبا ہے اور نا ہی دونوں ٹیموں کہ بڑے ٹورنامنٹس میں ہاتھ پیر پھولتے ہیں بلکہ دونوں ٹیموں کہ سٹار کھلاڑی خصوصی طور پہ اگر ڈیوڈ وارنر، سٹیو سمتھ، ویرات کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی کی بات کریں تو یہ وہ کھلاڑی ہیں جو خود کو اتنا بڑا کھلاڑی بنا لیتے ہیں جتنا بڑا میچ ہوتا ہے۔

لہذا دونوں ملکوں کے ورلڈ کپ فائنل کھیلنے اور کپ اپنے نام کرنے کے چانسز بہت زیادہ ہیں لیکن ان ٹیموں کا سامنا ورلڈ کپ میں ایک ایسی ٹیم سے بھی رہے گا جس کا سب سے بڑا ڈی میرٹ ہے کہ وہ ناقابلِ پیش گوئی ہے جبکہ سب سے بڑا میرٹ بھی یہ ہے کہ وہ ناقابلِ پیش گوئی ہے یعنی کہ پاکستان۔ ہمیشہ کی طرح پاکستان ٹیم اس عالمی کپ میں بھی سب سے بڑا جوا ثابت ہو گی جو اپنی انپریڈکٹ ابیلٹی وجہ سے شاید آسٹریلیا، بھارت، انگلینڈ جیسی ٹیموں کو ہرا دے اور خود افغانستان، بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیموں سے ہار جائے۔

آن پیپر اگر پاکستان کی ٹیم کو دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹیم انتہائی مضبوط ہے۔ انگلینڈ کے گراؤنڈز پر پاکستان کا ماضی بھی اچھا رہا ہے۔ بہترین اوپنر، مستند و تجربہ کار مڈل آرڈر، فاسٹ، سوِنگ، سِیم، سِپن باؤلنگ سب کچھ ہی معیاری پاکستان کے پاس موجود ہے پر سب سے بڑا ہتھیار جو پاکستان کہ پاس موجود ہے وہ ہے ”کپتان کا لک“ یعنی ”سرفراز کا لک“ لیکن ان تمام چیزوں کہ باوجود سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان بغیر کسی وجہ کہ کسی بھی ٹیم سے کوئی بھی میچ ہار سکتا ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنی صلاحیتوں کہ اعتبار سے نا صرف فائنل میں پہنچ سکتی ہے بلکہ فائنل جیت بھی سکتی ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نام ہے ”انپریڈکٹ ابیلٹی“ کا۔

ماضی کے حالات و واقعات مد نظر رکھتے ہوئے مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان، بھارت اور آسٹریلیا عالمی کپ کے لئے سب سے زیادہ فیورٹ ہیں لیکن کرکٹ ایک کھیل ہے اور کھیل وہی جیتتا ہے جو کھیل کہ دن اچھا کھیلتا ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا چوکرز اپنے اوپر لگے داغ دھونے میں کامیاب ہو سکیں گئے؟ کیا اس عالمی کپ میں برطانوی ٹیم خود سے وابستہ امیدوں کا دباؤ برداشت کر پائے گی یا پھر کالی سبکو بچھاڑ دے گی؟ انپریڈکٹ ابیلٹی پاکستان کا میرٹ ثابت ہو گی یا پھر ڈی میرٹ؟

کرکٹ کا عالمی تاج بھارت کا ہو گا یا چھٹی بار بھی تاج سجے کا آسٹریلیا کے سر؟ یا پھر ٹورنا منٹ کی کمزور ٹیمیں اپنی کارکردگی سے کرتی ہیں سبکو حیران۔ یہ سب جاننے کے لئے کرنا ہو گا تھوڑا انتظار لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ انگلینڈ کے خوبصورت میدانوں میں شائقین کرکٹ کو دنیا کی دس بہترین ٹیموں کے درمیان بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی جو کرکرکٹ کے عالمی فروغ کے لئے بہت اچھی بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمر شبیر گھمن کی دیگر تحریریں