علما اور دانشور حضرات سے اپیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کے ہندو صدیوں سے یہاں آباد ہیں، خصوصاً شیڈول کاسٹ کے ہندوؤں کو تو سندھ کے مالک کہا جاتا ہے، باقی ذاتیں سید، قریشی، ہاشمی، بلوچ ہجرت کرکے سندھ منتقل ہوئی ہیں یا ان میں سے کنورٹ ہوئی ہیں۔ میرے کافی احباب ہندو ہیں جو روزے بھی رکھتے ہیں اور کچھ کو تو اسماء الحسنی سارے یاد ہیں (مجھ سمیت کافی مسلمانوں کو شاید اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام یاد نہ ہوں ) اور روزانہ ان کی تسبیح بھی پڑھتے ہیں۔

شودر ذات کے ہندو تقریباً غریب اور ان پڑھ ہیں اور کھیتی باڑی اور مزدوری تک محدود ہیں جبکہ اونچی ذات کے ہندو (برہمن، ٹھاکر، کھتری، لوہانا/ بنیا اور مالہی) اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کاروبار سے منسلک ہیں۔ یہ لوگ پرامن ہیں، جھگڑے فساد سے دور بھاگنے والے ہیں۔

پارٹیشن سے پہلے کا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ لوگ کیسے تھے لیکن میں نے اپنی عمر میں جتنا دیکھا ہے تو ان کا ایک ہی مقصد ہے تعلیم اور تجارت۔ ہمارے میرپور خاص ڈویژن میں ہندو ایک چوتھائی کے برابر آباد ہیں۔ اور مٹھی، ننگرپارکر اور اسلام کوٹ کی طرف تو تعلقہ ناظم، ضلع ناظم تک بھی ہندو رہے ہیں۔

دو ہزار پانچ کی بات ہے، میں رینجرز اسکول میں ٹیچر تھا۔ اسکول میں ساٹھ فیصد ہندو بچے تھے، بچے شریر ضرور تھے لیکن ادب کا یہ عالم تھا کہ ان کے ڈیسک سے کوئی بھی کتاب ( انگلش فزکس کیمسٹری میتھس) گر جاتی تو اٹھا کر دس بار اسے چومتے تھے۔ اور آج وہی بچے ماشاءاللہ کامیاب ہیں، آج بھی جب ملنے آتے ہیں تو اپنے والدین کی طرح ہمارے پاؤں چھو کر ملتے ہیں۔

کل جو پھلہڈیوں شہر (ہم سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر) میں واقعہ ہوا ہے اس کے بارے میں دونوں طرف کے حامیوں کی طرف سے صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں جس کا مقصد تفتیش پر اثر انداز ہونا ہے۔ اس لئے میں اس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، قانون نافذ کرنے والے ادارے فری اینڈ فیئر تفتیش کریں۔

اپنے مسلمان دوستوں، علماء سے ایک اپیل کروں گا کہ قرآن پاک میں حکم ہے

’’ اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔‘‘

حدیث مبارکہ

”خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری پر ظلم کیا یا اُس کا حق مارا یا اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا یا اُس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے چھین لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کرو ں گا۔“

اس آیت کی رو سے جلاؤ گھیراؤ سے پہلے معاملہ کے تحقیق لازمی ہے اور اگر ان کے کاروبار کی ترقی سے حسد کی وجہ سے ہم مذہب کارڈ کھیل کر غیر مسلم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچائیں گے تو کل کس منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھیں گے؟

مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہندو اوراق مقدسہ کی توہین پر کر سکتے ہیں۔ ایسے واقعات اکثر لاعلمی کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔

نیوز پیپرز میگزین نصابی کتب میں آپ کو ہر جگہ قرآنی آیات نظر آئیں گی، اگر غیر ارادی طور پر کوئی پیج کسی سے نیچے گر گیا ہو یا کسی ریڑھی والے نے سامان لپیٹ کر دیا ہو تو اس کو توہین مذہب کا رنگ دینے سے اجتناب کریں۔

امتحانات کے دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا بورڈ ٹیم آنے کے ڈر سے اسلامیات کے نوٹس کی کس طرح بے حرمتی کی جاتی ہے۔ کیا کسی نے ان طلبہ اور ممتحنین پر توہین کا کیس دائر کیا؟

ہاں اگر کوئی توہین کے ارادے سے یہ سب کر رہا ہو تو اس کو قانون کے حوالے کریں اور ہنگامہ آرائی کے بجائے اپنا مقدمہ ثبوتوں سے لڑیں۔ اور اس میں ہندو بھائی تعاون کریں، ایسے شرپسند عناصر کو سزا دلوانے میں ساتھ دیں جو پر امن معاشرے میں نفرت کی آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔

اور لبرل حضرات اور نئے ابھرنے والے دانشور حضرات سے بھی اپیل ہے کہ ایسے واقعات اکثر ذاتی دشمنی کے بجائے غلط فہمی کی وجہ سے رونما ہوجاتے ہیں، لہٰذا اس کی آڑ میں اسلام پر یا مسلمانوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے سے گریز کریں، یہ فتویٰ جاری کرنا کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کا حصہ اور ان ہندوؤں کو سندھ سے بھگانے کی کوشش ہے وغیرہ وغیرہ جیسے الزامات لگانے سے بچیں اور اپنے مہذب ہونے کا عملی ثبوت دیں۔

(محترم بھائی محمد صالح مسعود کی تحریر شائع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے نہایت اچھے طریقے سے امن اور رواداری کی بات کی ہے۔ آج کل پاکستان میں طاقتور کی مخالفت کرنے والوں کے لئے نئی گالی لبرل اور دانشور ایجاد کی گئی ہے۔ چلتے چلتے صالح مسعود نے اس مظلوم طبقے پر چھینٹا اڑانا ضروری سمجھا۔ اس پر تفصیلی بات عید کے بعد کسی موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال صرف یہ عرض ہے کہ پاکستان کے متعدد “لبرل دانشوروں” نے توہین کے معاملات پر مظلوم کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ دے کر “اپنے مہذب ہونے کا ثبوت” دیا۔ عارف اقبال بھٹی، سلمان تاثیر اور راشد رحمان سامنے کے نام ہیں۔ آپ بھی فرمائیے کہ کسی مذہبی رہنما کو توفیق ہوئی کہ ان افراد کے خلاف کم از کم قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ ہی کرے جن کے لگائے ہوئے الزامات ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں جھوٹے پائے گئے۔ و-مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •