ڈاکٹر انور سجاد کی قامت اور ہمارا محاسبہ
کیا اپنامحاسبہ ہوسکتا ہے؟ جی ہاں۔ بالکل ہو سکتا ہے۔ ممکن صرف اس صورت میں ہے جب ایک شخص خود شناس ہو خود پسند نہیں۔
ماہ رمضان میں خود شناسی کا موقع بھی ملتا ہے اور حسن سلوک کی نئی روایات سحر و افطار دسترخوان کی صورت بھی نظر آتے ہیں۔ عید صرف اللہ کا روزدار کے لئے انعام نہیں بلکہ عید کی خوشی اور اصل ماخذ روحانی طمانیت کے ساتھ، آپس میں حسن سلوک اور خوشی غمی بانٹنے کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ وہی سچی خوشی تھی جو حسن سلوک کی صورت خدا نے سب کو بخشی ہے۔ اس کی طمانیت محض کرنے والے کو حاصل ہے۔ تو اپنا محاسبہ بھی عین ممکن ہے۔ اپنا محاسبہ کسی اور کا مکافات عمل نہیں ہے۔
بڑھاپا یا بیماری کسی مکافات عمل کا حصہ نہیں ہوتا۔ موت جلد یا با دیر سب کو آنی ہے۔ کس طرح ائے گی؟ کب ائے گی؟ یہ صرف خدا جانتا ہے۔ جو بیماری جھیل کر دنیا سے چلے جائیں گے قدرت نے ان کا حساب کم رکھا ہے۔ اسی ضمن میں ایک تلخ حقیقت سے آگاہ کرتی ہوں۔ ممکن ہے بزرگی کو مکافات عمل کا طعنہ دینے والے جو حسن سلوک سے ناواقف ہیں اپنی ذات کا احاطہ کر لیں اپنا محاسبہ کر لیں۔
پچھلے دنوں ڈاکٹر انور سجاد، کی بیماری اور تنگ دستئی حالات کا سوشل میڈیا پر پرچار رہا۔ یہ چرچا اس لیے بھی زیادہ ہوا کہ حکومت وقت کی طرف سے بیت المال سے ان کی سہولت کے پش نظر امداد جانی تھی ان سے رابطہ درکار تھا۔ جنھوں نے یہ سہولت بہم پہنچائی ان کا شکریہ۔ خود ڈاکٹر صاحب بھی شکرگزار رہے اور حکومت وقت کے لئے دعا گو بھی ہوئے اور انے والے وقت کے لئے حکومت وقت کا یہ عمل حوصلہ افزاء بھی قرار دیا۔ یہ ویڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پر چلا اور اب تک دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر انورسجاد صاحب کے پرستاروں کے لئے یہ خبر افسوسناک تھی۔ محترم استاد کا فین پیج میں نے بڑی ضد کر کے ان کی اجازت سے بنایا تھا۔ یوں ان کا ادبی کام اور شخصیت کے چند پہلو سوشل میڈیا پر ائے لیکن ان کا کام اور شخصیت سوشل میڈیا کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن! ہم ادب سے واقف ہی کم ہیں۔ خیر۔
ڈاکٹر انور سجاد پاکستان ٹیلی ویژن کے بانیان میں سے ہیں۔ ماڈرن فکشن، تھیٹر ڈرامہ، ٹی وی ڈرامہ، ادبی مقالات، کتب، ناول، افسانے ان کی ادبی خدمات میں شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے شاگرد رہے۔ ادبی تعلیم بیرون ملک سے بھی حاصل کی۔ اپنی ادبی فنی صلاحیتوں کے بھوپور استعمال کے لئے مصوری، کلاسیکی رقص بھی سیکھا۔ اداکاری بھی کی صداکاری بھی۔ ڈاکٹر انور سجاد پیشے کے اعتبار سے طبیب ہیں۔ ان کا فکشن انڈیا میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا فکشن مغربی زبانوں میں تراجم ہوا۔
کہنے کا مقصد و متن تو بہت ہے شخصیت کا تعارف بھی بہت ہے لیکن یہ تعارف میں نے اپنی یادداشت کے سہارے لکھا ہے۔
پاکستان کی ادبی اور قد آور شخصیت پر کچھ کہنے سے پہلے ادب کا دلدادہ شخص بھی کئی بار سوچے گا۔ لیکن ان کی ویڈیو پر نیچے موجود چند کمینٹس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ دیا۔ کچھ تو کمنٹ کرنے والے اپنی دانست میں ٹی وی کے کھیل لکھ رہے ہیں، لیکن اصل میں صفحات کالے کر کے لوگوں کے ذہن سے کھیل رہے ہیں۔
سوچا چند ایک کا احاطہ کر کے یہیں حساب بے باق کروں جن کے لئے خودشناسی اب خود فریبی ہے، اپنا محاسبہ کسی اور کا مکافات عمل ہے اور خود پسندی خود غرضی کی بھیانک شکل پر آ ٹھہری ہے۔ استاد محترم ڈاکٹر انور سجاد کی اس ویڈیو پیغام کے نیچے جہاں ان کے پرستار دعاگو تھے وہیں ایک کمنٹ میں ان کے غرور پر محاسبہ کیا ہوا تھا تو دوسرا کمنٹ ان کے مکافات عمل پر احاطہ کیے تھا۔
دونوں کمنٹ کرنے والے دنیاوی علوم میں پتہ نہیں کہاں ہوں گے، کچھ ہیں بھی یا نہیں لیکن دین میں ان کی بصارت، قیامت خیز ہے جو بڑھاپے کی ضعیف و نحیف عمر سے ہمدردی کے بجائے بڑھاپے کو مکافات عمل کا حصہ بتا رہے تھے۔ شاید عبرت دلا رہے تھے۔
(سچ ہے، علم بعضوں کو منہ بھی نہیں لگاتا اس کا ادراک ہونا اور فہم و فراست کی منازل طے کرنا تو دور کی بات ہے۔ علم ان جیسے کمینٹس کرنے والوں سے بے شک کوسوں دور ہے ) ۔
بڑھاپا جلد یا با دیر، ان پر بھی آیا ہی آیا تب وہ خود جلد اپنی اس سوچ کے مطابق مکافات عمل پر چڑھنے والے ہیں۔ ان کے ساتھ جو ہو سو ہو۔ ان کے گھر کے بوڑھوں کی خیر ہو جو ان کی اس ذہنیت کی بھینٹ چڑھنے والے ہیں۔
کمنٹ میں یہیں بس نہیں ہوا۔ مکافات عمل کو ثابت کرنے کے لئے استاد محترم ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ ملاقات کا احوال بھی لکھا گیا جس کے مطابق خاتون مالی مشکل میں گھری تھیں اور اسکرپٹ لکھنا چاہتی تھیں لیکن ان کو داخلہ نہیں دیا گیا۔ کہا گیا کہ ”داخلے بند ہیں جب ہوں تب تشریف لائیں“ یوں قواعد و ضوابط پر پابند ہونے پر بھی محترم استاد مکافات عمل سے گزر رہے ہیں۔
محترم استاد تو جواب کیا ہی دیتے، جو جانتے تو مجھے بھی جواب لکھنے کو منع کر دیتے۔ میں نے جواب وہاں دینا مناسب بھی نہیں سمجھا کہ جوہڑ میں پتھر پھینکوں کیوں؟
لیکن جواب میں یہاں لکھ رہی ہوں کیونکہ نا یہ فورم جوہڑ ہے نا میرے ہاتھ میں پتھر۔ آپ جیسوں کے لئے قلم کا محاسبہ بہت ہے۔ مستند اراء لکھنے کی کسی بھی صنف کے بارے میں یہی ہے کہ لکھنا، محض قلم چلانا اور اوراق کالے کرنے کا نام نہیں ہے اس میں ڈرامہ نگاری کا فن بھی شامل ہے۔ جس کو ہر دوسرا تیسرا سیکھے بغیر رگیدنا چاہتا ہے۔
آپ طبیب بننا چاہیں تو چار پانچ سال میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ورنہ آپ خطرہ جان ہوں گے یہی حال تمام علوم سیکھنے کا ہے تو پھر ڈرامہ نویسی یا ناول نگاری یا لکھنے کی کوئی اور صنف کیوں سیکھی نہیں جاتی۔ کیوں کر جاہلوں کے ہتھے چڑھ گئی۔ کیوں نیم نویس ذہنوں کو بگاڑ نے پر مامور ہوئے؟
اس کا احاطہ کون کرے گا؟ ان کا محاسبہ کیسے ہوگا؟
مصنف یا مصنفہ بننے کے لئے بھی تعلیم ریاضت، قابلیت، اہلیت اور ایک اضافی خوبی تخلیق کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس تخلیقی خوبی سے صرف فنون ہی آراستہ ہیں۔ باقی ماندہ تعلیم لگی بندھی۔ ان کو داخلہ نہیں ملا؟ اور آگے عذر پیش کیا نا ہی ان کے پاس تعیلم لینے کا وقت تھا نا ہی مشق کرنے کا۔ تو اپنے نکمے پن کو آپ کسی کے سر بھی تھوپ دیں گے؟
آپ کسی دن منہ اٹھا کر کسی بھی درسگاہ کی طرف روانہ ہو جائیں اور بضد ہو کے داخلہ ابھی چاہیے۔ تو ملے گا؟
ظاہر ہے ٹکا سا جواب ہی ملے گا وہاں سے بھی ایسا ہی ہوا۔ لاپرواہی، واجبی تعلیم و تربیت اور مالی تنگی جس کی دی ہوئی ہیں اس سے پوچھیں؟ احاطہ اس کا کریں۔ اپنی نا اہلی اور مکافات عمل اوروں کا!
واہ ری جہالت! اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کے بجائے کسی اور پر قلم چلا دیں؟ وہ بھی کوئی ایرا غیرا نہیں ملک کا دانشور و مفکر، مصنف اور استاد۔ ضعیفی کی جو کیفیت اپ کو مطمئین کررہی ہے اس ذہنیت کو دیکھتے ہوئے میں یقین سے کہہ سکتی ہوں۔ عیادت و ہمدردی آپ کے خاصے کی چیز نہیں۔ علم بھی ہر ایک کو منہ نہیں لگاتا سو آپ کو بھی نہیں لگایا۔ آپ کے ساتھ جو ہوا بالکل ٹھیک ہوا۔
حسن سلوک ایسوں کو کہاں پلے پڑے گا یہ تو محتاج علم و اگہی کے بھی ہیں اور حسن سلوک کے مستحق بھی نہیں۔
اس پر تف!
کف افسوس!
کہ یہ لکھ ریے ہیں۔
اپنے اور محترم استاد ڈاکٹر انورسجاد کے متعلق یہ بتا دوں کہ میں نے ان سے اسکرپٹ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ جن نامسائد حالات میں محترم استاد ڈاکٹر انور سجاد نے نیشل اکیڈمی میں تعلیم کی ترویج جاری رکھی تھیں اس کا ثبوت ان کے شاگرد ہیں۔ اس نامسائد حالات کی ہلکی سی جھلک بھی لکھتی ہوں۔
میں دوران تعلیم اکثر استاد محترم سے شکوہ کرتی کہ ”کسی گاؤں کے کچے اسکول کا وہ منظر جہاں بچے درخت کے سائے تلے کھلے آسمان کے نیچے پڑھتے ہیں اہل علم ان بچوں سے ہمدردی کرتے ہیں کلاس کی زبوں حالی پر کڑھتے ہیں کلیجہ ان کے منہ کو آتا ہے ہم بھی اس بڑے شہر میں شہری ہونے کے باوجود ویسی ہی کسی جماعت میں بیٹھے لگتے ہیں کوئی کلاس روم میسر نہیں ہے ریسٹ روم میں کھانے کی میز پر جمع ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ درخت کی چھاؤں آپ کی صورت موجود ہے۔ ہم بچے نہیں تو ہمارا کوئی ہمدرد نہیں“۔
استاد محترم کا حوصلہ اور ہمت قابل دید تھا۔ وہ ایک چھوٹا سا جملہ کہتے، ”مجھے کسی کی پرواہ نہیں میں اپنے بچوں (شاگردوں ) کو پڑھانا چاہتا ہوں“
جتنے عرصے انھوں نے اس اکیڈمی میں پڑھایا حالات کم و بیش یہی رہے۔ وہ اپنے شاگردوں کی خاطرجھیلتے رہے ہمیں بھی علم کا سایہ میسر تھا سو غرض علم حاصل کرنے کی مقدم سمجھی کلاس روم کا حصول نہیں۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قابل اساتذہ بھی خدا کی دین ہیں واللہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتے۔ خود بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ڈرامہ لکھ کر روپیہ کمانا اس میں پیسہ ہی پنپ سکتا ہے پیسہ کی ہی خدمت ہو رہی ہے سو کرتے رہیں پیسہ نام و نشان چھوڑے بغیر ہی چلا جاتا ہے۔
کسی کے حالات پر پھبتی کسنا، ہنسنا آپ کو اپنا احاطہ کرنے کی طرف دھکیل تو رہا ہے لیکن آپ خود غرض بنے اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے اوروں کا مکافات عمل کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ بیٹھے رہیں۔ آپ کی سمجھ کی ممکنہ ہر صورت پر ناعاقبت پسندی حاوی ہے۔ آپ سے اپنی ذہنیت کا احاطہ نا ہوسکے گا۔ آپ اپنا محاسبہ کیے بغیر یونہی جاہل رہ جائیں گے۔ آپ میرے تو کیا کسی کے حسن سلوک کے مستحق نہیں۔ یہاں تک کے علم نے بھی آپ کو محروم رکھا۔


