باڑھ، ناخدا، اور ہم

بادل سرکار کے کھیل میں ایک کردار کہتا ہے ”۔ باڑھ آ گئی ہے ہماری فصلیں تباہ ہو گئیں“ معمولی سے پس منظر کے ساتھ کہ یہ پورا کھیل استعارات سے بھرا پڑا ہے گو کہ واقعات روزمرہ زندگی کے ہیں کھیل کا نام جلوس ہے۔ کبھی پڑھنے کا من کرے اس لیے ذکر کر دیا۔ میں ہدایات دیتے وقت باڑھ کے لفظ کو تصور کر کے اپنے شہر کے گرد باڑھ ڈھونڈنے لگی مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ کچھ نئے

Read more

مردود مردے کی دلہن

اس نے ایک عمر جدوجہد اور نسبتاً عام لڑکی کے مقابلے میں نوجوانی۔ کڑے وقتوں میں گزاری۔ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر مخالفین کو خیال آیا کہ شوشہ اٹھائیں۔ ابھی اور کام کرو۔ نا بالغہ ہو۔ وقت گزر گیا شاید وہ مان بیٹھی یوں بھی ظلم کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہوں یہی بہت۔ اکیلے مردانہ وار مقابلہ کر لوں گی۔ زندگی گزار لوں گی۔ شاید وہ یہ سوچتی ہو کامیاب ہو جاؤں گی تو پھر اپنے ہم پلہ۔

Read more

سائنس۔ سم۔ ایک فکشن۔ طنز و مزاح

سم سائنسی فکشن سے نکلی ہوئی بات ہے یا کیا۔ کہ ایک وقت ایسا بھی ہو گا جب انسان کے ایک چپ ( chip) لگا دی جائے گی اور اس کی حرکات و سکنات اس کی روزمرہ کی کارروائی سب پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔ اس بات پہ سنا دنیا میں بڑا شور اٹھا خوف و ہراس پھیلا اور اپنے تئیں عام آدمی نے بھی خوب واہی تباہی بک کر (گویا جس طرح شیطان کو واہی تباہی بک

Read more

معیار کی اصطلاح

میں کچھ دن سے معیار کی اصطلاح پہ سوچ بچار کر رہی تھی۔ معیارات کیوں ہیں کیا ہیں اس سے قطع نظر میرا سوال حکام بالا سے یہ ہے کہ ایک ملک میں اتنے مختلف معیارات کیسے ہوسکتے ہیں حکومتی معیارات حکومت کے لیے اور عوام کے لیے اور ہیں جبکہ یہاں عسکری حکومتیں بھی قائم ہوئی ہیں وہاں بھی ان کے معیارات کچھ اور ہوتے ہیں اور کیونکہ عسکری حکومتیں عوام کو سویلین کہتے ہیں تو سویلین کے لیے

Read more

بدنیتی کے منجن

ہمارے ملک میں کوئی بھی پروجیکٹ جس نیت سے بھی شروع کیا جاتا ہے وہ نیت چند برس کے بعد ہمیشہ بدنیتی پر تمام ہوتی ہے اور پراجیکٹ ناکام یا بدنیتی چند سالوں بعد کھل کر سامنے اتی ہے جس میں پراجیکٹ محض جھانسا ہے۔ نتیجہ ناکامی ناکامی۔ جو کہہ لیں۔ ہوتا یہی ہے۔ ان پروجیکٹ کو شروع کرنے والے گروپس عموماً وہی مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے ناقص طریقہ کار سے، دھوکے بازی سے قوم پہلے ہی کسی

Read more

غچہ دینے والا صاحب کمال اور سادہ لوگ

ایک شخص کو یہ کمال حاصل تھا کہ وہ کبھی بھی کسی کو بھی کوئی چیز بیچ سکتا ہے، کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اور جو وہ کرتا ہے وہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہوتا۔ وہ اپنی چرب زبانی سے غچے دینے کا ماہر تھا جہاں کام دکھانا ہو، مستقل مزاجی سے اس جگہ کی منصوبہ بندی کرتا۔ پھر مجال ہے کہیں چوک جائے۔ یہ کمال اسے ورثے میں ملا تھا۔ جو اس کے پچھلوں نے طاقت، دھونس زور

Read more

شکل اور سمت

علم نجوم اور آسمان پہ موجود اشکال (Constellation/ ستاروں کا جھرمٹ) تو قدیم یونانیوں اور جادوگری مصریوں میں مقبول تھا۔ امریکہ میں سمت، نقشے اور جغرافیہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے (کیوں نہ ہو) ۔ مسلمانوں میں بھی رائج تھی (کیوں نہ ہوتی، ، وہ دور مسلمانوں میں انسانیت کی معراج، تعلیم و تربیت کے حصول کا تھا۔ ) ۔ پاکستان میں سمت کو بھی، اخلاقیات، دینیات کی طرح مضمون (جغرافیہ کا مضمون) سمجھ لیا گیا ہے۔ مضمون پڑھا ہوگا

Read more

کورونا وبا، ایک سبق

انسان کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ تھا ساری آسائشیں اہم ہونے کے باوجود بھی کتنی غیر اہم تھیں۔ جس گھر میں تحفظ ہوتا ہے۔ وہاں بھی خیریت محفوظ نہ تھی۔ جن کو دیکھ کر دن نہ گزرے ان کے بغیر مہینے گزر رہے تھے۔ جو تفریح صرف باہر جا کر محسوس ہوتی تھی اب جیسی بھی تھی گھر میں تھی۔ باہر جا کر کھانا کھانا، خریداری کرنا جو انتہائی حد تک دلی سکون کا باعث لگتی تھی اب گردن جھٹکنے تک رہ گئی تھی۔ کپڑے نئے ہوں، پرانے ہوں، جیب میں پیسے ہوں یا خالی ہو۔

Read more

بساط دیکھ کر نوکری تلاش کریں

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اب ہم بدعنوان ہیں تو آئیں اسی صنعت میں نوکری کر کے ملک و قوم کی عزت و توقیر میں اضافے کا باعث بنیں۔ نوکری اور فوائد حسب ذیل مضمون میں درج ہیں۔ آئندہ اپنی اوقات اور بساط پہ نوکری تلاش کریں۔ چند ٹپس۔ بدعنوانوں کے بجٹ ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اس سے دو فوائد ہوتے ہیں ایک بدعنوانی نہیں پھیلتی، ادارہ مستحکم رہتا ہے اور دوسرا مغربی ممالک میں ٹریننگ

Read more

راجا داہر، محمد بن قاسم، جاری بحث پر طنزیہ تحریر

” 1001 دن، داستان“ کوا جاتی

جنگل میں عدالت لگی ہوئی تھی۔ مخبر چوہوں نے شیر بادشاہ کو آگاہ کردیا تھا کہ کوا وہ واحد پرندہ ہے جو انسانوں میں جاکر ان کی منڈیروں پہ بیٹھا، بھانت بھانت کی خبریں ان انسانوں میں ”کائیں کائیں“ کر کے پہنچایا کرتا ہے، جو سیانے ہیں اسے بیٹھنے نہیں دیتے اور جو سیانے نہیں، وہ اس کی کائیں کائیں بڑی دھیان سے سنتے، آہیں بھرتے ہیں کہ ”کوئی وارد، نووارد ہوا“ ۔

Read more

”جدیدیت کے بانی“ طنزو مزاح۔

جیسے ہی اس بات کا قصد کر لیا جائے کہ آج کچھ پڑھنا ہے مجال ہے پھر کچھ پڑھنے کے لئے مل جائے۔ کبھی یہ کتاب کبھی وہ۔ گھنٹہ اسی میں نکل گیا اکڑ بکڑ کیا۔ تو انگلی نے انتہائی ضخیم کتاب کی طرف اشارہ کیا۔ سوچا اکڑ بکڑ میں بے ایمانی ہو گئی لہذا آنکھ بند کر کے ایک بار پھر ٹرائی ماریں۔ اب کہ انگلی شیلف پہ جا کر ٹک گئی۔ کتاب پڑھنے کا ارادہ کر لیا تھا

Read more

میری زندگی میرا اختیار

یہی اس عورت مارچ کا مقصد و متن ہے۔ نا انصافیوں کی ایک فہرست ہے۔ فرسٹ وومن کانفرنس سے مختصر احوال جو ہر عاقل و بالغ کو جاننا چاہیے کہ اس کا ادراک اور تدارک دونوں ناگزیر ہیں۔ اس وومن کانفرنس میں ایک ہاری بچی کے (جو چودہ پندرہ سال) بچے جننے سے لے کر اسمبلی تک خواتین کی نمائندگی کا حق ( 60 خواتین، جن کا انتخاب مرد پارٹی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ) تک کے تحفظات شامل ہیں۔

Read more

کبھی یوں سوچا

”بیوی تنگدستی میں گزر بسر کررہی تھی شوہر انتہائی ایماندار، کھرا ادمی تھا لیکن ایک نمبر کا کاہل، نکما نکھٹو۔ کھرے پن پر اس کا نکما پن محلے والوں نے کبھی مدنظر نہیں رکھا الٹا تعریفوں کے پل باندھتے کہ بھلا اس سا ایماندار آدمی اس زمانے میں کہاں ملے گا۔ اسی ایمانداری کی بنیاد پر کوئی مسئلہ درپیش آتا، اس نکمے شخص کو بیچ میں ثالثی تو کہیں گواہ بنا لیا جاتا توجیھ یہ پیش کی جاتی یہ کہیں

Read more

کاہل نگر کے نکھٹو میاں کی کہانی

”بیوی تنگدستی میں گزر بسر کررہی تھی شوہر انتہائی ایماندار، کھرا ادمی تھا لیکن ایک نمبر کا کاہل، نکما نکھٹو۔ کھرے پن پر اس کا نکما پن محلے والوں نے کبھی مدنظر نہیں رکھا الٹا تعریفوں کے پل باندھتے کہ بھلا اس سا ایماندار آدمی اس زمانے میں کہاں ملے گا۔ اسی ایمانداری کی بنیاد پر کوئی مسئلہ درپیش آتا، اس نکمے شخص کو بیچ میں ثالثی تو کہیں گواہ بنا لیا جاتا توجیھ یہ پیش کی جاتی یہ کہیں

Read more

ڈرامہ نگاری اور اتائی لکھنے والے

ڈرامہ نگاری فنون میں سے ایک فن ہے، جو سیکھا سمجھا جاتا ہے۔ ارسطو نے ہزاروں سال پہلے ڈرامہ لکھنے کے اصول، کتاب کی شکل میں واضح کردیئے تھے۔ شاعری کے علاوہ ڈرامہ موجود تھا۔ جو تھیٹر کی شکل میں تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شاعری، موسیقی و رقص قدیم ڈرامے کے لوازمات تھے تو غلط نہ ہوگا ان ہی فنون نے ملکر نثر کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ ادب کی صورت، صدیوں کا سفر طے کر کے

Read more

زرا سوچئے!! معاشرے میں بچوں پر بڑھتے جرائم کا سدباب

میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ قرآن شریف کو گھروالے، نانی، دادی، دادا یا نانا یا ماں، باپ گھر پر نہیں پڑھا سکتے؟ وہ بچوں کے اسکول کا ہوم ورک کیسے کراتے ہیں؟ گھر میں تربیت کیا معنی رکھتی ہے؟ تربیت کیا ہے؟ کیا والدین کے لئے بچے محض ان کے میاں بیوی ہونے کا ثبوت ہے اور اس سے زیادہ بچوں کی ماں باپ کی نظر میں کوئی وقعت اہمیت نہیں۔ ہے تو کیا؟ کیایہ بھی سیاسی و ریاستی معاملہ

Read more

”مراعات یافتہ چوہے اور بدعنوان مراعات یافتہ“

شاہ دولہ کے چوہوں سے گجرات، پنجاب کے لوگ تو بخوبی واقف ہوں گے۔ (مزارات کے متعلق میرا نظریہ صرف وہی ہے جو اسلام کا ہے یعنی کچی قبر یا مٹی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ) تو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ شاہ دولہ کے چوہے کہلائے جانے والے یہ بچے یا بڑے جو مائیکرو سیفلی (Microcephaly) کا شکار ہوجاتے ہیں ان کا سر ان کے جسامت و عمر کے مقابلے میں کافی چھوٹا نظر آتا ہے۔ یہ تو بیمار ہیں

Read more

”اپنے شہر کو حرکت دیں“

بارہویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن ایک بات سنی۔ لب لباب کچھ یوں تھا کہ ”کراچی آرٹ کونسل نے اس بار سارے صوبوں کی زبانوں کی مجالس اردو کانفرنس میں رکھیں کیونکہ کراچی ایک بڑا شہر ہے اسے اردو کے ساتھ دوسری زبانوں کو بھی اس کانفرس کا حصہ بنانا چاہیے“۔ وغیرہ وغیرہ میں اسی بات کو بنیاد بنا کر چند باتیں لکھنا چاہتی ہوں۔ ممکن ہے تب شہر اور زبان کے فرق کو بہترین انداز سے سمجھا جا

Read more

ہاکی کو آپ سب بھول چکے ہیں

دل سے نکال چکے ہیں اب اس طرف کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے نہ خبر آتی ہے۔ شائقین کی دلچسپی تو دور کی بات، شائقین موجود ہی نہیں رہے۔ کوئی تذکرہ تک نہیں ہوتا۔ اسکول، کالج یا گلی کوچوں سے بھی ناپید ہے۔ طالبعلم نوجوانوں میں حد درجہ غیر مقبول ہے کہ نہ کوئی ہاکی پکڑا نظر آتا ہے اور نہ ہی الیکٹرانک کمپیوٹرائز گیم کی صورت کوئی تذکرہ نکلتا ہے۔ جی ہاں کمپیوٹرائز گیم جس سے ہر ایک واقف

Read more

”آپ کا نام؟ شادی شدہ“ مردوں کے بنائے ادھورے معاشرے پر طنزیہ تحریر

پہلی عورت : آپ کا نام؟ دوسری عورت : شادی شدہ پہلی عورت : میں نے آپ کا نام پوچھا ہے مس۔ دوسری عورت : ارے مس وس نہیں۔ ہم تو مسز ہیں۔ مسز۔ شادی شدہ پہلی عورت : جی مسز۔ آپ کا نام ہی تو پوچھا تھا تاکہ میں آپ کو۔ دوسری عورت : ارے ارے بس بس۔ تم شادی شدہ ہو؟ پہلی عورت : جی۔ نہیں۔ تعارف پوچھ رہی ہوں آپ کا۔ دوسری عورت : اوہو مجھے پتہ

Read more

اکیسویں صدی کا پاکستانی معاشرہ اور کڑوا سچ

حقیقت سچائی پر مبنی ہوتی ہے یہ سچائی کبھی بے حد کڑوی ہوتی ہے اور کبھی میٹھی۔ سچ درحقیقت، آگہی اور اس کی روشناسی ہے ( اگر اس میں ذاتی مفاد شامل نہ ہو) ۔ ایک اچھے معاشرے کی تخلیق بھی اسی صورت رکھی جا سکتی ہے جب کہ بھلے برے کا پتہ ہو۔ آنکھ چرانے سے سچائی نہیں بدلتی میی معاشرے کا حسن بیان کرنا چاہتی تھی لیکن میرے سامنے میرے معاشرے کا حسن دم توڑتا سسک رہا تھا۔

Read more

آؤ سچ بولیں! (2)

میرا لکھا سفر نامہ پڑھنے سے پہلے یا بعد میں اپنے من کی آنکھ کھولیں اور حقیقیت کی کھڑکی کھول کر وہاں جھانکیں جہاں میں جھانک رہی ہوں۔ کہ آپ پہلی دنیا کے پہلے درجے کے شہریوں کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ جو میری اور آپ کی طرح کے انسان ہیں۔ پرانے وقتوں کے قصے، کہانیوں، کتابوں، سفرناموں کے مطابق یہ اخلاق باختہ قوم، بے راہ روی کے پیروکار، ظالم، زنا کے مرتکب، دوزخی، حرام کے جنے دیکھیں، اب

Read more

آؤ سچ بولیں!

منٹو نے آؤ کے تسلسل سے کئی کہانیاں لکھیں۔ آپ نے بھی ضرور پڑھی ہوں گی۔ کبھی سوچا تھا شاید میں بھی کسی تسلسل میں کوئی کہانی لکھ ڈالوں۔ منٹو صاحب نے بار ہا کہا۔ وہ تو سچ بیان کرتے ہیں سچ جو لوگوں کو کڑوا لگتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ منٹو صاحب فحش نہیں لکھتے تھے سچ لکھتے تھے۔ سچ کی حقیقت ہے بھی کچھ ایسی ہی۔ کڑوی ہوتی ہے لیکن درحقیقت حقیقت شناس ہوتی ہے۔ حقیقت

Read more

جنسی ہوس کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کے لئے انصاف

گلی کا موڑ مڑ کر وہ ان آوازوں تک پہنچنا چاہتی تھی جہاں سے ہنسی کا شور بلند ہو کر فضا میں مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ اچانک ہی اٹھنے والے بچوں کے قہقہے اس کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیتے تھے اس کے تیز اٹھتے قدم لمحہ بھر کو رکتے، وہ اس شور کی طرف کان لگاتی اور مسکرا دیتی۔ موڑ کاٹتے ہی بچوں کا پارک تھا جہاں ہر عمر کے بچے کھیلنے کودنے میں مصروف تھے۔ ان کی

Read more

ڈاکٹر انور سجاد: ایک ”پرومیتھئیس“ استاد

ہمارے ساتھی کا کاندھا تھپتھپاتے ڈاکٹر انور سجاد صاحب نے کچھ اس انداز سے کہا جیسے وہ پوری قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔
ان کی دو شاگرد جو، ان کی چہیتی بھی تھیں اور اس وقت سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں، جب تقریبا سارے نوجوان دل برداشتہ یا نوکری نا ملنے کی نا امیدی کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ امید تو ہمیں بھی نہیں تھی۔ کیونکہ یہ ادارے کا کام تھا ڈاکٹر انور سجاد کا نہیں۔ لیکن سیکھنے کا احساس ہمیں روز وہاں لے جاتا تھا۔ ایسے میں کئی سال بعد ان سے ملنے آنے والے نوجوان سے استاد محترم کا یہ جملہ ہم نے فوراً آڑے ہاتھوں لیا منہ سے بولا کچھ نہیں، سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو گویا وہ انتظار میں ہی تھے۔ ہماری طرف دیکھ کر پراعتماد اسی طرح مستحکم لہجے میں بولے۔

” بھئی مجھے نوجوانوں سے بہت امیدیں ہیں ان پہ بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے“ ۔

Read more

ڈاکٹر انور سجاد کی قامت اور ہمارا محاسبہ

کیا اپنامحاسبہ ہوسکتا ہے؟ جی ہاں۔ بالکل ہو سکتا ہے۔ ممکن صرف اس صورت میں ہے جب ایک شخص خود شناس ہو خود پسند نہیں۔ ماہ رمضان میں خود شناسی کا موقع بھی ملتا ہے اور حسن سلوک کی نئی روایات سحر و افطار دسترخوان کی صورت بھی نظر آتے ہیں۔ عید صرف اللہ کا روزدار کے لئے انعام نہیں بلکہ عید کی خوشی اور اصل ماخذ روحانی طمانیت کے ساتھ، آپس میں حسن سلوک اور خوشی غمی بانٹنے کا ذریعہ بھی

Read more

شیطان کے بغیر

رمضان کی آمد سے پہلے شیطان کے قید ہونے کا بڑا شہرہ رہتا ہے۔ خاص طور سے سوشل میڈیا پر کچھ ایسا ماحول بن جاتا ہے گویا شیطانوں کا جلوس خود اپنی ہی قید پر ڈھول ڈھماکے کے ساتھ جیل کی طرف غل غپاڑہ کرتا رواں دواں ہے۔ اللہ کی قید ہے تو شیطان کا غل غپاڑہ اس کی دہائی انسانی زبانوں سے کارگر نہیں ہوتی اسے قید ہو کر رہتی ہے۔ اور یوں ایک مہینے انسان کو اس سے رہائی مل جاتی ہے۔ ہم اسے ماہ رمضان کی برکات میں سے ایک سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ اس دوری میں انسان کی کوئی کوشش شامل نہیں ہوتی۔ اس غل غپاڑے کے فعل میں، میں بھی کہاں پیچھے تھی سو ایک جملہ ”شیطان میرے پاس سے بھاگ چکا ہے۔ دیکھیں کہیں آپ کی طرف تو نہیں آیا۔ آپ کی طرف دو ہو جائیں گے“ سوشل میڈیا پہ داغ دیا۔ سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو ہے کوئی بھی انفرادی نوعیت کا فعل اجتماعی عمل بن کر ابھر جاتا ہے۔ عمل بھی ایسا کے ہم اس انفرادی نوعیت کے کھیل تماشے کو اجتماعی عمل میں بدل کر معمولی سے معمولی بات کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔

Read more

اگر آپ منظور نظر ہوں

اگر آپ منظور نظر ہوں

تو ؟
نوکری ملتی ہے؟
قسمت بدلتی ہے؟
روپیہ پیسہ آتا ہے؟
حکومت مل جاتی ہے؟
یا ہر دم کوئی (خدا نہیں ) مدد گار ہوتا ہے؟

اگر یہی سب ہمارا یقین بن چکا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ،
محنت کرنے والوں کا وجود کہاں گیا؟

Read more