ڈاکٹر انور سجاد: ایک ”پرومیتھئیس“ استاد

ہمارے ساتھی کا کاندھا تھپتھپاتے ڈاکٹر انور سجاد صاحب نے کچھ اس انداز سے کہا جیسے وہ پوری قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔
ان کی دو شاگرد جو، ان کی چہیتی بھی تھیں اور اس وقت سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں، جب تقریبا سارے نوجوان دل برداشتہ یا نوکری نا ملنے کی نا امیدی کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ امید تو ہمیں بھی نہیں تھی۔ کیونکہ یہ ادارے کا کام تھا ڈاکٹر انور سجاد کا نہیں۔ لیکن سیکھنے کا احساس ہمیں روز وہاں لے جاتا تھا۔ ایسے میں کئی سال بعد ان سے ملنے آنے والے نوجوان سے استاد محترم کا یہ جملہ ہم نے فوراً آڑے ہاتھوں لیا منہ سے بولا کچھ نہیں، سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو گویا وہ انتظار میں ہی تھے۔ ہماری طرف دیکھ کر پراعتماد اسی طرح مستحکم لہجے میں بولے۔

” بھئی مجھے نوجوانوں سے بہت امیدیں ہیں ان پہ بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے“ ۔

Read more

ڈاکٹر انور سجاد کی قامت اور ہمارا محاسبہ

کیا اپنامحاسبہ ہوسکتا ہے؟ جی ہاں۔ بالکل ہو سکتا ہے۔ ممکن صرف اس صورت میں ہے جب ایک شخص خود شناس ہو خود پسند نہیں۔ ماہ رمضان میں خود شناسی کا موقع بھی ملتا ہے اور حسن سلوک کی نئی روایات سحر و افطار دسترخوان کی صورت بھی نظر آتے ہیں۔ عید صرف اللہ کا روزدار کے…

Read more

شیطان کے بغیر

رمضان کی آمد سے پہلے شیطان کے قید ہونے کا بڑا شہرہ رہتا ہے۔ خاص طور سے سوشل میڈیا پر کچھ ایسا ماحول بن جاتا ہے گویا شیطانوں کا جلوس خود اپنی ہی قید پر ڈھول ڈھماکے کے ساتھ جیل کی طرف غل غپاڑہ کرتا رواں دواں ہے۔ اللہ کی قید ہے تو شیطان کا غل غپاڑہ اس کی دہائی انسانی زبانوں سے کارگر نہیں ہوتی اسے قید ہو کر رہتی ہے۔ اور یوں ایک مہینے انسان کو اس سے رہائی مل جاتی ہے۔ ہم اسے ماہ رمضان کی برکات میں سے ایک سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ اس دوری میں انسان کی کوئی کوشش شامل نہیں ہوتی۔ اس غل غپاڑے کے فعل میں، میں بھی کہاں پیچھے تھی سو ایک جملہ ”شیطان میرے پاس سے بھاگ چکا ہے۔ دیکھیں کہیں آپ کی طرف تو نہیں آیا۔ آپ کی طرف دو ہو جائیں گے“ سوشل میڈیا پہ داغ دیا۔ سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو ہے کوئی بھی انفرادی نوعیت کا فعل اجتماعی عمل بن کر ابھر جاتا ہے۔ عمل بھی ایسا کے ہم اس انفرادی نوعیت کے کھیل تماشے کو اجتماعی عمل میں بدل کر معمولی سے معمولی بات کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔

Read more

اگر آپ منظور نظر ہوں

اگر آپ منظور نظر ہوں

تو ؟
نوکری ملتی ہے؟
قسمت بدلتی ہے؟
روپیہ پیسہ آتا ہے؟
حکومت مل جاتی ہے؟
یا ہر دم کوئی (خدا نہیں ) مدد گار ہوتا ہے؟

اگر یہی سب ہمارا یقین بن چکا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ،
محنت کرنے والوں کا وجود کہاں گیا؟

Read more