قبائلی عوام اور پاکستان


میں نے کشمیر، جنگ کشمیر، کرنل حسن خان، میجر بابر اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے گلگت بلتستان میں آزادی کی لڑائیوں کے بارے میں ان گنت کتابوں میں جو بھی پڑھا ہے، اور مختلف شخصیات، بزرگوں سے سے اس بارے میں جو معلومات ملی ہیں، اس سے گمان  ہوتا ہے کہ جنگ کشمیر و گلگت بلتستان کا مصنف، ہدایت کار، منصوبہ ساز بر طانیہ تھا، جس نے پس پردہ رہتے ہوئے نوزائدہ ملکوں (پاکستان، ہندوستان) کے دو فریقوں کے درمیان یہ جنگ لڑوائی۔

اس کا مقصد گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقے پاکستان اور لداخ، وادی کشمیر، جموں ہندوستان کو دینا تھا۔ میجر امیر افضل نے بھی اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ جب برٹش حکومت کی منصوبے کے مطابق، ان کی مطلوب جگہوں پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجیں مضبوطی سے جم گئیں تو اس نے جنگ بندی کراتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کو کو پاکستان اور ہندوستان کے قبضے میں تقسیم کرا دیا۔ جنگ کشمیر اور تقسیم کشمیر میں برطانوی حکومت کا پس پردہ کردار، علمی تحقیق کرنے والوں کے لئے ایک اہم موضوع ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں روسی فوج کی آمد ہوئی تو اس سے تقریبا دوسال پہلے ہی جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں فوج نے ملک میں مارشل لاء لگا کر ملک کے اقتدا ر پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنرل ضیاء حکومت نے روسی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے افغان گروپوں کی ہر طرح سے بھر پور مد د کی۔ افغانستان سے ملنے والے پاکستان کے قبائلی علاقے افغان مجاہدین کے بیس کیمپ بن گئے۔ امریکہ کی سربراہی میں یورپ، عرب ممالک نے روسی فوج کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی ہر طرح سے بھر پور مدد کی۔

افغان جہاد کے بارے میں پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر یوسف اپنی کتاب ”دی بیئر ٹریپ“ میں لکھتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ایک اعلی سرکاری افسر کو لے کر راولپنڈی سے صوبہ سرحد کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں پاکستانی فوجی افسر اس امریکی افسر کو گزرتے ہوئے ان سویلین ٹرکوں کی نشاندہی کرتا جاتا تھا، جوافغان مجاہدین کے لئے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔ امریکی افسر حیران ہوا کہ ایک جیسے ٹرک ہیں، وہ کیسے ان کو پہچان لیتے ہیں۔ اس پر پاکستانی فوجی افسر نے مسکرا کر کہا کہ ہم ریوڑ میں سے ایک بھیڑ کی طرح اپنے ٹرکوں کو پہچان لیتے ہیں۔

قبائلی علاقوں سے افغان مجاہدین کے لئے ہر قسم کی رسد کا کام وسیع پیمانے پر جاری رہا۔ قبائلی علاقوں اور ملحقہ افغانستان کے علاقوں میں مجاہدین کے ٹریننگ کیمپ قائم گئے گئے جہاں امریکی ترغیب اور سہولت کاری سے مسلم ملکوں سے لوگ افغانستان میں جہاد کرنے آنے لگے۔ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں امریکی آشیر باد میں بھر پور طور پر جہاد افغانستان کے بیس کیمپ میں مصروف عمل رہیں۔ تقریبا نو سال کے بعد روسی فوج افغانستان سے نکلی تو قبائلی علاقوں میں یہ سرگرمیاں کم ہونے لگیں۔ تاہم افغان جہاد کی بدولت افغان مجاہدین ہی نہیں، عربوں، پاکستانیوں اور کئی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے بھی عسکری گروپ بھی سامنے آگئے۔ انہی میں القاعدہ بھی تھی، طالبان، حقانی نیٹ ورک بھی تھا اور بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں آگئی۔

نائن الیون کے بعد القاعدہ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکی کارروائیاں شروع ہو گئیں اور دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے خلاف مسلح حملے شروع کر دیے۔ سالہا سال پہلے ایک عزیز فوجی افسر سے قبائلی علاقوں میں موجود باغی مسلح گروپوں کے بارے میں بات ہوئی تو وہ عزیز کہنے لگا کہ ”آپ یوں سمجھیں کہ وہ پہلے ہمارے ملازم تھے، ہم نے انہیں نکال دیا تو وہ دشمن کے ملازم بن گئے“۔ جب ان باغی گروپوں کی سرگرمیاں تیز ہوئیں تو پہلے سوات اور پھر قبائلی علاقوں میں ان گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوئے۔ اب تک غالب ترین علاقوں سے ایسے گروپوں کا صفایہ کیا جا چکا ہے تاہم افغانستان میں موجود ایسے گروپ وہاں سے پاکستانی فورسز کے خلاف اور پاکستانی شہروں میں بم دھماکوں وغیرہ کی کارروائیاں اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوجی آپرشنز کے سلسلے میں لاکھوں کی تعدا د میں قبائلی عوام کو اپنے علاقوں سے چند سالوں کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔ آپریشن کی تکمیل پر قبائلی واپس تو آگئے لیکن ان انہیں مختلف نوعیت کے کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ قبائلی علاقوں کو قانون سازی کے ذریعے صوبہ کے پی کے میں شامل تو کر لیا گیا لیکن وہاں فوجی کارروائیوں اور بحالی کی کارروائیوں کے علاوہ دیگر امور بھی فوج کے پاس ہی ہیں۔ اس سے ایک بڑا سیاسی خلاء پیدا ہوا۔ اس صورتحال میں مقامی مسائل و امور کے حوالے سے مقامی قبائل میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔

26 مئی کو وزیرستان میں فوج اور قبائلی مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ مختصرا یہ کہ قبائلی ہمارے جسم کا حصہ ہیں، وہ قیام پاکستان سے اب تک اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر پاکستان کے لئے بھر پور کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان کے مسائل فوری اور ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا از حد ضروری ہے۔ قبائلی عوام پاکستان کے بازوئے شمشیر زن ہیں۔ سب کا مفاد اسی میں ہے کہ قبائلی علاقوں میں با اختیار سول انتظامیہ کے دائرہ اختیار کو قائم اور مضبوط بنایا جائے۔

ان کو عسکری قوت کے بجائے سیاسی طور پر ڈیل کیا جائے۔ حکومت، سول انتظامیہ جنگی صورتحال سے متاثرہ ان علاقوں کے بہادر پاکستانی قبائلی عوام کی تشویش دور کرنے کو یقینی بنائے اور قبائلی عوام کی تعاون سے دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی اختیار کی جائے۔ پاکستان کے ہر صوبے، ہر علاقے کے عوام قبائلی عوام کی مشکلات و مسائل اور موجودہ سنگین صورتحال پر پریشان ہیں اور اپنی تشویش بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ قبائلی نہ تو پاکستان کے دشمن ہیں اور نہ ہی ایسا سمجھنا چاہیے۔ کیا کوئی اپنے جسم کے صحت مند حصے کو خود سے کاٹ سکتا ہے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2