دین کی من مانی تشریحات اور موت کی ارزانی


علمائے دین اپنے فہم کی بنیاد پر دین کی تشریخ کرتے ہیں جس میں، کسی نہ کسی مرحلے پر اصلاح کی گنجائش ہر صورت موجود رہتی ہے اسی اصلاح کے پیش نظر مفکر اسلام علامہ محمد اقبال نے ”فکر اسلامی کی تشکیل“ جدید کے عنوان پر خطبات دیے جو بعد ازاں کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ جس میں انہوں نے برملا اظہار کیا کہ فکر اسلامی گزشتہ پانچ سو سالوں سے منجمد چلی آ رہی ہے اقبال نے اس جمود کو توڑنے کے لئے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے نظریات پیش کیے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ان خطبات کو وہ توجہ نہ مل سکی جو ملنی چاہیے تھی آج ہر مکتب فکر کے چھوٹے بڑے علما اپنی بات کی تائید کے لئے اقبال کے ولولہ انگیز شعر تو ضرور پڑھتے ہیں لیکن کبھی بھول کر بھی ان کے خطبات کا ذکر نہیں کرتے بلکہ علما کی ایک بڑی تعداد اقبال کے خطبات میں پیش کیے گئے نظریات سے ہی بے خبر ہے۔

اقبال کے بعد بھی پاکستان میں کچھ لوگوں نے فکر دینی کی اصلاح کے لئے اپنے نظریات پیش کیے ان میں ڈاکٹر فضل الرحمن ملک سر فہرست ہیں لیکن بعض مبینہ متنازع نظریات کی وجہ سے ان پر ”فتوے“ لگا کر پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

اقبال اور فضل الرحمن نے فکر دینی کی اصلاح کے لئے جن مسائل کی طرف اشارہ کیا ان میں فکری جمود اور تقلیدی اجتہاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دونوں مفکرین نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے فکری جمود کو توڑنے اور تقلیدی اجتہاد کی بجائے تخلیقی اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا لیکن بد قسمتی سے آج بھی اگر پاکستان میں حاکم فکر دینی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں مثبت تبدیلی کی بجائے نا صرف تنزلی آئی ہے بلکہ فکری جمود نے پہلے سے بھی مضبوطی کے ساتھ اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔

اسی فکری جمو د اور تقلید محض، کی وجہ سے بعض علما دین کی تشریح کے لئے دینی مآخذ اور محقق و قابل وثوق علما کی طرف رجوع کرنے کی بجائے من مانی تشریح کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عام مسلمانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ ایسی ہی غلط دینی تشریحات کی وجہ سے اب تک پاکستان میں کتنے ہی معصوم لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں گو کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ دین کی غلط تشریحات کی بھینٹ چڑھنے والے معصوموں کی حتمی تعداد کیا ہے لیکن 1947 کو گزرے صرف 72 سال ہوئے ہیں گویا قیام پاکستان کل ہی کی بات ہے پاکستان کی مختصر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو لاکھوں نہیں تو ہزاروں بے گناہ لوگ بعض علما کی غلط تشریحات کی وجہ سے اپنی جانوں سے گئے۔

اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی کو بھی یہ ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ، اس قتل عام پر مواخذہ کی بات کرے۔ مواخذہ، تو درکنار علما! کی رائے سے اختلاف کرنا بھی مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ابھی کل ہی بات ہے جب اسلام آباد کو مفلوج کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا تھا تو ریاست کے بڑے بڑے اسٹیک ہولڈر ز بھی اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لئے پریشان تھے، بلکہ بہت سوں کو اپنا اسلام اور جان خطرے میں نظر آنے لگے تو تو خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے صفائیاں دینے پر مجبور ہو گئے۔

وقتی طور پر ایسے لوگ وضاحتیں اور صفائیاں دے کر اپنا اقتدار تو بچا لیتے ہیں لیکن عوام کو ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں جن کے نزدیک انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اگر ا ن لوگوں کے نزدیک انسانی جان کی اہمیت ہوتی تو اپنے بچوں کی بجائے دوسروں کے بچوں کو شریعت کے نفاذ کی آڑ میں قربانی کا بکرا نہ بناتے اسی طرح جہاد کے نام پر دوسروں کے بچوں کو پرائی جنگ میں نہ دھکیلتے۔

پاکستان کی سیاسی و دینی تاریخ سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کب اور کس مرحلے پر علما نے اپنے مفادات کے لئے عام مسلمانوں کے لئے موت کا انتخاب کیا لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ اس انتخاب میں علما مکمل طور پر نا صرف محفوط رہے بلکہ ان کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوا اسی مقام و مرتبہ کے بل بوتے پر بعض علما کی شہہ پر ہجوم مشال جیسے جوانوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کر ڈالتا ہے اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ تعلمی اداروں میں استاد بھی فکری جمود سے جنم لینے والی شدت پسندی سے محفوظ نہیں ہیں سادہ لوح لوگوں کا یہ حال ہے کہ ا ن کے ذہن میں مولویوں کا جو تقدس پیدا کر دیا گیا ہے اس کی بنا پر وہ مولوی کا ہر بڑے سے بڑا جرم بھی معاف کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں مولوی کے جھوٹے تقدس اور دین کی غلط تشریح کی بد سے بدترین مثالیں موجود ہیں (مولویوں کی دین کی غلط تشریح کے بہت سے واقعات ریکارڈ پر نہیں آ پاتے ) بعض اوقات بعض مولوی حضرات دین کی ایسی من مانی تشریح کرتے ہیں کہ انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے ایسا ہی ایک واقعہ چند سال پہلے جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ گاؤں میں پیش آیا جہاں ماہ مبارک رمضان میں ایک غریب مزدور کی دو جواں سال بیٹیوں نے روزہ رکھا روزے کی حالت میں جب وہ مزدوری پر دھان کی فصل کاشت کر رہی تھیں تو گرمی کی شدت سے ان کی حالت غیر ہو گئی جس پر گاؤں کے مولوی صاحب کو بلایا گیا جنہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو ہر صورت روزہ پورا کرنا ہو گا مجبور و بے بس والدین کے پاس مولوی کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لڑکیوں کے سادہ والدین ذہن میں یہی سوچ رہے تھے کہ اگر انہوں نے وقت سے پہلے اپنی بیٹیوں کا روزہ افطار کروا دیا تو اس صورت میں وہ اسلام کی مخالفت کریں گے اور اس کے نتیجے میں آنے والا منفی معاشرتی دباؤ برداشت نہیں کر پائیں گے۔

غریب و لاچار والدین ایسی ہی سوچوں میں گم تھے کی چند گھنٹوں کے بعد ان کی دونوں بیٹیوں نے والدین کے ہاتھو ں پر پیاس اور بھوک کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی جان دے دی جس پر والدین کی لاچاری اور کرب و غم کا اظہار اتنے دردناک انداز میں ہوا کہ ان کی بے بسی پر گاؤں کے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب آنسو بہا رہے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کے یہ آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مولوی کے فتوی کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ مولوی کے جاہلانہ فتوے نے دو معصوم لڑکیوں کی جان لی تھی۔

روزے کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں جس طرح کی سختی روا رکھی گئی ہے وہ اسلام کی روح سے سازگار نہیں ہے تمام فقہی مکتب فکر مریض اور مسافر کے لئے روزے کی چھوٹ کے قائل ہیں لیکن اس کے باوجود بعض خدائی فوجدار اس حوالے سے اتنی سختی کرتے ہیں کہ لوگوں کی جانیں تک چلی جاتی ہیں مریض اور مسافر سے ہٹ کر ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیں جو اگر روزہ رکھتا ہے تو اس کے تمام معمولات اس حدتک متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لئے روزانہ کی بنیاد پر روزی روٹی کمانے سے بھی عاجز ہو جاتا ہے تو اس حالت میں بھی اس پر ماہ مبارک رمضان میں ہی ہر صورت روزہ رکھنا لازم و ضروری ہے؟ فکری جمود کے شکار علما کا جواب یقینا اثبات میں ہی ہو گا ا س لئے کہ اسی طرح کی صورت حال کے بارے میں ایک پاکستانی عالم دین نے جب اپنی رائے کا اظہار کیا تو ان کی اس رائے کو شریعت پر تجاوز قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان میں حاکم روایتی فکر دینی ناصرف جدید مسائل کے حل سے قاصر ہے بلکہ اس سے عام مسلمانوں کی جانوں کو بھی خطرہ ہے اگر یہ فکر اسی طرح اپنا سفر برقرار رکھتی ہے تو مشال جیسے جوان ہجوم کے ہاتھو ں بے دردی سے قتل ہوتے رہیں گے، تعلیمی اداروں میں استاد اپنے ہی شاگردوں کے خنجر جفا کا نشانہ بن کر موت کے گھاٹ اترتے رہیں گے اور مظلوم و لاچار غریب والدین ایسے ہی اپنے جگر کے ٹکروں کو کھوتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS