صرف ملالہ ہی ورلڈ کپ جتا سکتی ہے
ملالہ نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔ پاکستانی کٹ پہن کر اس نے ایسا بلا گھمایا ہے کہ دنیا بھر میں چھا گئی ہے۔ آئی سی سی نے نہایت شکر گزار ہو کر اپنی خوش بختی پر ناز کرتے ہوئے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ کر ڈالی کہ ”ہم بہت پرجوش اور فرو تن ہیں کہ کل رات لندن میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی افتتاحی تقریب میں ملالہ ہمارے مہمانوں میں شامل ہوئی ہیں۔ “
ملالہ نے بتایا کہ وہ کرکٹ کی بہت بڑی فین ہیں اور اپنے بچپن میں بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتی تھیں۔ اب بھی وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم میں کھیلتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بیٹنگ بھی کی۔
اگر ہم حقیقت پسندی سے کام لیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ بیٹنگ بھی بیکار ہے اور باؤلنگ بھی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بہت بری طرح سے ہار بھی رہے ہیں اور ون ڈے ٹیم رینکنگ میں پاکستان ٹیم کا نمبر چھٹا ہے۔ اس سے بری پرفارمنس صرف سری لنکا، افغانستان اور زمبابوے کی ہے۔
حالات بظاہر مایوس کن ہیں لیکن اگر ہم اس وقت حکمت عملی سے کام لیں تو بقیہ تمام ٹیموں کو حواس باختہ کر کے ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔ ہم صرف ایک چال چلیں گے اور تمام مخالفین اپنے ہوش و حواس گنوا بیٹھیں گے۔
کرنا یہ ہے کہ ملالہ کو پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل کر لیا جائے۔ اسے بطور اوپنر بھیجا جائے۔ ہم افتتاحی تقریب میں دیکھ چکے ہیں کہ ملالہ کو باؤلنگ کرتے وقت باؤلر کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے۔ بہت احتیاط سے پولی پولی گیندیں کروا رہا تھا جیسے ہم دو تین سال کے بچے کو کراتے ہیں۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ اگر بال مس بھی ہو جائے تو ملالہ اسی بال پر دوسری مرتبہ بیٹ گھما کر شاٹ مار دے۔ باؤلروں کو یہ خوف تھا کہ اگر ان کی باؤلنگ پر ملالہ آؤٹ ہو گئی تو دنیا بھر کے عوام انہیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گے۔ ابھی کل ہی ہاشم آملہ کے گیند لگی ہے تو انہیں ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر بیٹنگ چھوڑنی پڑی ہے۔ اگر ملالہ کو گیند نے معمولی سا چھو بھی لیا تو باؤلر کے علاوہ پوری ٹیم کو دنیا بھر کا میڈیا طالبان کی صف میں کھڑا کر دے گا۔
ویڈیو کے نیچے کالم جاری ہے۔
https://youtu.be/eqk-Jc096DQ
اب آپ چشم تصور سے دیکھیں کہ ملالہ بیٹنگ کر رہی ہے، دنیا کے بہترین باؤلر سامنے موجود ہیں، مگر ان کا تمام تر زور اس بات پر ہے کہ ان کی کسی بھی غلطی سے ملالہ آؤٹ نہ ہو جائے۔ وکٹ کو بچا بچا کر باؤلنگ کرتے ہوئے ان کی کوشش ہو گی کہ ملالہ وائیڈ اور بائی کے سکور بنائے۔ خدانخواستہ اس کے بلے پر گیند آ گئی تو پھر فیلڈروں کا امتحان ہو گا۔ کون سا کھلاڑی ملالہ کا کیچ پکڑ کر خود کو دنیا بھر کی لعنت ملامت کا ہدف بنوانا قبول کرے گا؟ یوں ملالہ اگر نیا ریکارڈ بناتے ہوئے ایکسٹراز کے بل پر سنچری کر جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہو گی۔
اسی طرح آپ سوچیں کہ ملالہ کو باؤلنگ کرنے بھیج دیا گیا ہے۔ کوئی بیٹسمین اسے چوکا چھکا مارنے کی جرات نہیں کرے گا۔ ایسا کرنے والے کی عزت دو کوڑی کی ہو کر رہ جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ وہ بال کو ہلکا سا ٹچ کر کے سنگل لینے کی کوشش کریں گے۔ یوں ملالہ ایک اوور میں زیادہ سے زیادہ چھے سکور دے گی۔ یہ ایوریج پاکستان کے موجودہ باؤلرز کے حساب سے بہترین ہے۔ یوں ملالہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میدانوں میں اپنا جادو جگا کر پاکستان کی ٹیم کو ایک بہترین پوزیشن میں لے آئے گی۔
ملالہ کا ارادہ وزیراعظم بننے کا بھی تھا۔ اب اگر وہ کپتان پہ کی طرح آکسفورڈ کی کرکٹ ٹیم میں بھی کھیلتی ہیں اور یہ ورلڈ کپ بھی جیت لاتی ہیں تو ان کا وزیر اعظم بننا یقینی ہو جائے گا۔ بس ایک معمولی سا مسئلہ ہے۔ ملالہ کی وزیراعظم بننے کی خواہش بچپن کی تھی۔ اب انہیں برے بھلے کی خوب سمجھ آ گئی ہے تو انہیں پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کی نہ تو کوئی عزت کرتا ہے اور نہ اس کے پاس کوئی اختیار ہوتا ہے۔ ملالہ کے پاس یہ دونوں چیزیں ہیں۔ وہ وزیراعظم بن کر یہ کیوں گنوائیں گی؟


