رمضان کا نیا روپ اور ماڈرن مسلمان


دور حاضر کا بغور جائزہ لیا جائے تو میری نظر میں رمضان رب کی قربت اور عبادتوں میں دل لگانے کا مہینہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا مخصوص ماہ بن چکا ہے جب شغل میلے، تفریح اور فیشن کی دنیا کا عروج سر چڑھ کر بولتا ہے اور اشرف المخلوقات گھروں اور دفتروں میں موجود ٹی۔ وی کے سامنے رمضان کے برکتوں والے مہینے کے نام پر ”رمضان ٹرانسمیشن“ اور ”بڑے بڑے برانڈز کی پروموشن“ کے لیے نشر ہونے والے گیم شوز میں زیادہ دل لگانے لگی ہے۔

رمضان ایک ایسے مہینے میں تبدیل ہو چکا ہے جب مسلمانوں کو اپنی نمازوں اور عبادتوں کے پورے ہونے کی فکر کی بجائے رمضان کے نام پر لگنے والی کپڑوں اور جوتوں کی سیل جلدی ختم ہونے کی فکر زیادہ لاحق ہوتی ہے۔ اگر اس کو بھی دیکھا جائے تو اس نئے دور کے مسلمانوں کو روزے کی حالت میں نماز اور قرآن پڑھتے وقت بھوک اور شدید پیاس کی کمی تو ضرور محسوس ہوتی ہے، پر انہی مسلمانوں کو روزے کی حالت میں گھنٹوں ٹی۔ وی کے سامنے ٹکٹکی باندھے اور سخت گرمی کی حالت میں بازاروں میں خریداری کرتے وقت پیاس اور بھوک کی کمی چھو کر بھی نہیں گزرتی۔

مگر افسوس! یہ مہینہ اب فاقے کے مہینے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اور دکھاوے کی شکل میں پیش ہوتا نظر دیتا ہے۔صرف یہی نہیں، اب تو ہر چیز کھاتے ہوئے اس کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا بھی معمول بن چکا ہے۔کبھی کبھار تو گمان ہوتا ہے کہ اگر لوگ یہ تصاویر نہ لگائیں تو شاید انھیں کھانا ہی ہضم نہ ہو۔

میڈیا پر ہر چینل کا دوسرے چینل سے آگے نکلنے کا عالم یہ ہے کہ جو اپنے چینل پر چلنے والی رمضان ٹرانسمیشن جو کہ ان کے مطابق اسلامی معلومات اور اسلامی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس کے لیے لوگوں کو اسلامی اور دینی سکالرز کی زیارت کروانے کے لیے ٹی۔ وی سکرین پر پیش کیا جاتا ہے۔ اصل میں تو ساری دینی اور اسلامی باتیں ٹی۔ وی ڈراموں اور فلموں میں ناچ گانا کرنے والے اداکار اور اداکارائیں مسلمانوں تک اپنے ماڈرن انداز میں پہنچاتے ہیں۔ چینل کے مالکان بھی اسی کو پروگرام کا میزبان بناتے ہیں جو عوام میں زیارہ مقبول اور پسند کیا جاتا ہو۔ کیونکہ جو جتنا خبصورت میزبان رکھے گا، وہی چینل زیادہ دیکھا جائے گا اور پیسے بھی وہی زیادہ کمائے گا۔

اس افراتفری کے عالم میں رمضان کا اصل مقصد کہیں گم سا ہوگیا ہے اور اب مسلمان آج کے دور کے جدید اور ماڈرن مسلمانوں کے لباس میں پائے جانے لگے ہیں۔

تو بس یہ ہے ہمارا آج کل کا رمضان۔ ہم نے دکھاوے کی دنیا میں کھو کر، رمضان کے اصل مقصد کو بھلا دیا ہے۔ وہ رمضان جس کا مقصد لوگوں کو صبر، شکر اور دوسروں کا احساس سکھانا تھا، وہ اب صرف میڈیا کا ایک ٹرینڈ بن چکا ہے۔ جس میں ایک مہینہ، ہر چینل مذہبی بننے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اور عید کے پہلے روز ہی ساری بے حیائی لوٹ کر واپس آ جاتی ہے۔

Facebook Comments HS