کیا آپ جنسی مسائل کا شکار ہیں؟
شروع شروع میں تو میں بہت فخر محسوس کرتا تھا کہ میں بہت تجربہ کار کھلاڑی بن چکا ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب سے کنسلٹ کرنے سے پہلے میں ذہنی طور پر اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ کچھ مسئلہ ضرور ہے کہ مجھے چین نصیب ہی نہیں ہوتا۔ پھر اک دن اچانک بیٹھے بیٹھے اپنی دوست کو اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے بارے میں ہلکا سا اشارہ کیا۔ اور پھر جیسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ ریسٹ از ہسٹری۔ میری دوست نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کروا دیا۔
ڈاکٹر صاحب نے تسلی سے میری بات سنی اور مجھے حوصلہ دیا کہ تم اس نفسیاتی مسئلے سے باہر نکل سکتے ہو۔ سر کی ہدایت کے مطابق میں نے ڈائری لکھنا شروع کی جس میں میں نے اپنے پچپن کے ان سارے انکمفرٹیبل مومنٹس کو لکھنا شروع کیا۔ اور مجھے سمجھ آنے لگی کہ میرے پاس تو ریپریسڈ میموریز کا انبار ہے۔ یہ سلسلہ میں نے چالیس دن جاری رکھا اور تقریباً دو سو کے لگ بھگ صحفے سیاہ کر دیے۔ ساتھ ساتھ سر کو ہفتہ اور پراگریس رپورٹ بھی بھیجتا رہا۔
اگر میں یہ کہوں کہ ماضی کے دریچوں میں جھانک کر مجھے تکلیف، کوفت، درد، الجھن، پریشانی، ملال، افسوس اور غصہ نہیں آیا تو سراسر غلط ہوگا۔ لیکن دوسری طرف مجھے اپنی مسلسل بے چینی کا سراغ مل گیا تھا۔ مجھے سمجھ آنے لگی کہ کیونکہ میں جنسی زیادتی کا شکار ہوا تھا اس لیے میں نے لاشعوری طور پر جنسی تجربوں میں خود کو مبتلا کر کے راہ ِفرار (ریفیوج) لیا ہوا تھا۔ اپنا کتھارسس ( ماتم) کرنے کے بعد مجھے سمجھ آنے لگی کہ زندگی صرف جنسی تسکین کو حاصل کرنے ہی تو نام نہیں ہے۔
میں نے علاج شروع کرنے سے پہلے دوہری زندگی گزاری تھی۔ ایک وہ جس میں سادہ سا نارمل انسان ہوتا تھا اور دوسرا رخ تھا جہاں میں جنسی خواہشات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد جنسی بھوک مٹانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ میں نے جنسی بھوک پر بہت حد تک قابو پا لیا ہے اور میری زندگی میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ میں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر اپنے قریبی دوستوں سے کیا۔ کسی حد تک اشارتاً اپنی والدہ کو بھی بتایا۔
اور کچھ دنوں تک اپنے والد کو بھی بتاؤں گا۔ علاج سے پہلے۔ میں ان سب باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ میری پرسنیلٹی ڈیویلپمنٹ اور ورلڈ ویو بھی سیکسوئل ٹراما کی وجہ سے محدود ہوگیا تھا۔ سر نے مجھے علاج کے ابتدائی دن سیکسوئل گریٹیفیکیشن (جنسی تسکین) سے ریفرین کرنے کو کہا تھا میں اس پر مکمل کاربند تو نہ رہ سکا لیکن یہ اندازہ ضرور ہوا کہ بغیر جنسی تعلق کے میں سروائیو کر سکتا ہوں، اس سے پہلے یہ تصور کرنا بھی میرے لیے ممکن نہ تھا۔
آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ میرا نام خاور ارشاد ہے۔ میں جنسی زیادتی کا شکار رہا تھا جس کے بعد میں نے جنسی تسکین کو اک ایڈیکشن کے طرح اپنا لیا تھا۔ پھر سہیل صاحب کی پروفیشنل ہیلپ اور اپنی ول پاور کی وجہ سے میں نے اپنی نفسیاتی الجھن پر کامیابی سے نوے فیصد تک قابو پا لیا اور جلد ہی سو فیصد ریکوری ممکن ہوجائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میری طرح اپنی نفسیاتی الجھن پر قابو پا لیں گے۔ میرے خیال میں جب کوئی انسان اپنی instincts and impulses کو کنٹرول کرنا سیکھ لیتا تب ہی خود کو بہت امپاور محسوس کرتا ہے۔ آپ۔ کو وقتی جبر کرنا ہوگا لیکن سر کے بتائے راستے پر چلتے جائیں گے تو جلد آپ خود کو نظر نہ آنے والی زنجیروں سے آزاد کرلیں گے۔ آپ۔ کو آنے والے وقت میں ملنے والے ذہنی سکون پر قبل از وقت مبارک باد دیتا ہوں۔ بس یہ یاد رکھئے گا کہ آپ کے ارادے (ول پاور) سے بڑا کچھ بھی نہیں ہے۔

