فوجی افسر ان کو سزائیں اور زید حامد کاپاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے برگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کے اہم افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت جبکہ لیفٹنٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنادی ہے، تینوں سابقہ افسر ان اہم قومی راز غیر ملکی حساس اداروں پر افشاں کرنے کا الزام تھا جو ثابت ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید ایسا موقع آیا ہو جہاں پر اس قسم کا انتہائی اقدام اٹھایا گیا ہو۔ جنرل قمرجاوید باجوہ کی جانب سے توثیق کیا گیا یہ فیصلہ اس تاثر کو بھی زائل کرے گا کہ جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا ہے۔ اس فیصلے نے اس بات کو بھی روشن کردیا ہے کہ فوج میں گھسنے والے کالی بھیڑیں دیگر اداروں کے بھیڑوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

پاک فوج کے سالارکی جانب سے اس قدم کو یقینا ہر سطح اور ہر زاویے سے سراہا جائے گا۔ اس موضوع پر بدقسمتی سے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کا ایک شو دیکھنا نصیب ہوا جس میں ڈاکٹر فضا اکبر خان نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے سینئر تجزیہ کار کے نام پر ’زیدحامد‘ کو اپنا مہمان بنایا ہوا تھا۔ ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر بھاشن دینے والے اکثر لوگ اپنے ناظرین کو بیوقوف سمجھتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ ٹی وی سیٹ میں بیٹھ کر جو بھی فتویٰ جاری کریں گے پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی رہے گی۔ زید حامد کی گفتگو سامنے لانے سے قبل زید حامد کی شہرت کا ذکر بھی لازمی ہے۔ زید حامد کا سفر زید زمان سے شروع ہوا اور مبینہ طور پر یوسف کذاب کے ساتھ بھی تعلقات رہے ہیں۔ چند ماہ قبل سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا کھاکر وطن واپس آگئے ہیں۔

جناب زید حامد صاحب نے جاسوسی کے الزام میں سخت سزاؤں پر خیر مقدم کیا۔ زید حامد کے فرمودات پر غور کیجئے کہ ’پاک فوج نے اس فیصلے کے ساتھ یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ اگر ہم اپنے اندر چھپے غداروں کو معاف نہیں کرتے ہیں تو سیاسی میدان میں پائے جانے والے غداروں کو کیسے معاف کریں‘ ۔ زید حامد کے ان ابتدائی فرمودات کا اشارہ پشتون تحفظ موومنٹ اور اس تنظیم کے دونوں اراکین قومی اسمبلی کی جانب تھا جن میں محسن داوڑ اور علی وزیر شامل ہیں۔

اپنے موضوع کو پھیلاتے ہوئے زید حامد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی، اسفندیار ولی خان، نواز شریف، شہبازشریف، آصف علی زرداری سمیت دیگر لوگ بھی غدار ہیں اگر ان غداروں کے ساتھ بھی دو جرنیلوں اور ایک سول افسر جیسا سلوک کیا جائے تو سودا گھاٹے کا نہیں ہے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ ہم نے 1968 میں مجیب الرحمان کو معاف کرکے اپنے ہاتھوں سے کھودیا جس کا خمیازہ 1971 میں دیکھ لیا۔

پوری پاکستانی قوم اور ملکی آئینی نظام کے تحت چلنے والے طریقہ کار پر بحث کرتے ہوئے زید حامد نے کہا کہ زوالفقار علی بھٹو ایک مجرم تھا اور اس کا گناہ اتنا ہی تھا جتنا کہ مجیب الرحمان کا تھا۔ پاکستان میں اب غداروں کی تشریح تبدیل ہوگئی ہے۔ سیاسی نظام کے تحت چلنے والے اس ملک میں سیاستدانوں نے اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے پرویز مشرف، ضیاء الحق اور جنرل ایوب خان کو غدار قرار دیا ہے جو سراسر غلط اور من گھڑت ہے۔ گویا زید حامد کے نزدیک ملک کا آئین توڑنا کسی گناہ کے زمرے میں ہی نہیں آتا ہے۔ جن دو جرنیلوں کو آج سزا دے کر پاک فوج نے اپنا مورال بلند کردیا ہے، اس قسم کے غداروں کا ماضی میں کردار پر لب کشاہی کرنا زید حامد کا موضوع نہیں تھا۔

اگرچہ زید حامد کا قد کاٹھ اتنا نہیں ہے کہ اس کے گفتگو کی بنیاد پر تحریکیں چلائی جائیں، یا مضبوط رد عمل دیا جائے لیکن حقیقت میں ایسا رویہ ہی ملکی سالمیت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ زید حامد نے جن ایک سو افراد کے سرقلم کرنے کی سفارش کی ہے ان کے پیچھے اس ملک میں کروڑوں لوگ کھڑے ہیں۔ ملکی ترقی میں نچلی سطح سے لوگوں کی شمولیت لازمی بنانے، طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور اداروں کو اپنے حدود کا پابند بنانے کا واحد راستہ مینڈیٹ کی صاف و شفاف منتقلی ہے۔

زید حامد کو شاید خود بھی سمجھ نہیں آرہا ہوگا کہ وہ ملک کو کس کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں۔ زید حامد کا مطالعہ یقینا وسیع ہوگا اور اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہوگا کہ تحفظات اور اعتراضات جنم لیں تو اس کا حل کیا ہوگا، تحفظات اور اعتراضات کب جنم لیتے ہیں۔ جن لوگوں کے سرقلم کرنے کی سفارش علامہ قاضی القضا زید حامد صاحب نے کی ہے ان سے ہٹ کر صرف پی ٹی ایم پر بات کی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ اعتراضات اور تحفظات کے پیچھے پسماندگی اور محرومیاں ہیں۔ یہ الگ بات ہیں کہ ان تحفظات کے خاتمے کے لئے پی ٹی ایم نے کون سا راستہ چن لیا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور افواج پاکستان بھی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے نعروں میں کتنی حقیقت ہے۔

یہ سیاسی نظام ہی ہے جس نے فاٹا کے عوام کو آئینی ترمیم میں شامل کرلیا۔ پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی نے ہی آئینی ترمیم اسمبلی میں پیش کردی تھی اور اسمبلی میں معمولی قرارداد کو پیش کرنے کے لئے بھی ایوان کا متفق ہونا لازمی ہے، یوں پوری قومی اسمبلی نے پی ٹی ایم کو آئینی ترمیم پیش کرنے کی اجازت دیدی۔

زید حامد جیسے علاموں کی مہذب بدتمیزی پر کان دھریں تو چند گھنٹوں ہی میں پورے ملک میں افراتفری مچ سکتی ہے، لیکن کان دھرنے والے بہت کم ہیں۔ اگر ٹی وی چینلوں میں بیٹھ کر یوں غداری کے فتوے جاری کیے جائیں اور سیاسی قائدین کے سرقلم کرنے کی باتیں کی جائیں تو ایسے مسائل جنم لیں گے جن کا حل کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ فوجی آپریشن، زور زبردستی، اور حملے آج سوشل میڈیا کے دور میں ایک فرد کو نہیں روک سکتے ہیں تو تحریکوں کو کیسے روکیں گے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن کی خواہش ہے کہ فوج سرحدوں سے ہٹ کر اقتدار کے ایوانوں میں آجائے یا سرحدی امور کو ضمنی قرار دے۔

پاکستان کا میڈیا اتنا آزاد ہوچکا ہے کہ ساڑھے گیارہ گریڈکے دانشور بھی میڈیا میں بھاشن دے رہے ہیں۔ اگر ملکی مسائل کو حل کرتے ہوئے ریاست پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو سب سے پہلے ایسے لوگوں کا ٹی وی چینلوں میں آنا روکنا پڑے گا۔

زید حامد کی نظر میں پی ٹی ایم تو غدار ہے ہی، کیونکہ اس کی وجوہات گرداننا آسان ہے۔ لیکن ان کی نظر میں وہ سب بھی غدار ہیں جو عوامی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایسے دھندلے خیالات والوں کو خود نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔ ضمنی طور پر ایک اور بات کہی جاسکتی ہے کہ ’مدینہ کی ریاست‘ کے نام پر عوام ایک بار بیوقوف ضرور ہوئے ہیں لیکن اس کی آڑ میں ملک کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •