شدت پسندی کے رویے

مرزا عدنان بیگ

\"adnan\"انسانی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں، جن میں مذہبی، سیاسی، اور معاشرتی پہلو سب سے نمایاں ہیں۔ ہر انسان کی روز اول سے یہی کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد صرف ان لوگوں کو رکھے جو ہر پہلو سے اس کے ہم خیال ہوں۔ جب یہ احساس شدت اختیار کر لے تو بہت سے مسائل جنم لے لیتے ہیں، ان مسائل میں عدم برداشت، خود پسندی اور غیر مساوی رویے قابل ذکر ہیں۔

مذکورہ رویے جب اپنی آخری نہج کو پہنچ جائیں تو شدت پسندی معرض وجود میں آتی ہے۔ شدت پسندانہ سوچ کا حامل انسان سب سے پہلے اپنے مخالف کے کہے الفاظ کو برا جانتا ہے، پھر اس کے وجود کو برا جانتا ہے اور آخری مرحلے میں اپنے مخالف کے زندہ رہنے کو ہی برا سمجھتا ہے۔ ان تمام مراحل میں ایک شدت پسند شخص سے اپنے تئیں جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کرتا ہے حتیٰ کہ کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔

معاشرے میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے ناسور کا اگر عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو آپ سوشل میڈیا یا اپنے کسی دوستوں کی محفل میں کسی کی سیاسی، مذہبی یا معاشرتی وابستگی پر مکالمہ کر کے دیکھ لیں۔ آپ بے شک مثبت انداز میں بات کریں لیکن شدت پسندانہ سوچ کے حامل افراد اسے منفی ہی لیں گے، پھر یہ خیال نہیں رکھا جائے گا کہ آپ اس کے دوست ہیں، رشتے دار ہیں، استاد ہیں یا شاگرد فورًا آپ کو نیچا دیکھانے کی کوشش کی جائے گی نہ عزت کا خیال رکھا جائے گا نہ آپکے بڑے پن کا۔
ہمیں اپنا مواخذہ کرنا ہو گا کہ کہیں ہمارے اندر اس بیماری کے جراثیم تو پروان نہیں چڑھ رہے۔ معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور ہر انسان کی سوچ ہماری سوچ کے مطابق نہیں ہو سکتی، ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت انسان ہمیں ہر کسی کی سیاسی، مذہبی اور معاشرتی وابستگی کا احترام کرنا چاہیے تاکہ شدت پسندی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words