کتابوں اور شعور کی ہجرت
انسانی تہذیب کے ارتقا بالخصوص علمی و شعوری ترقی اور کتابوں کا ہمیشہ سے ایک بہت مضبوط اور گہرا تعلق رہا ہے۔مختلف ادوار میں کتابوں کے پیراہن تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی ان کو پتھر کی پلیٹوں، تو کبھی دھاتی پلیٹوں حتی کہ سونے چاندی پہ بھی لکھا گیا۔ درختوں کی چھال اور جانوروں کی کھال کو بھی بطور قرطاس استعمال کیا گیا۔ لیکن گذشتہ کئی صدیوں سے کتابیں کاغذ کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اب ڈیجیٹل کتابیں بھی آرہی ہیں لیکن کاغذ کی کتابوں کی اہمیت آج بھی قائم و قائم ہے۔ مہذب اور باشعور معاشروں میں کتب بینی کو بھی ترقی کے ایک اہم اشارے کی حیثیت حاصل ہے۔
جن معاشروں میں کتب بینی کا رجحان نہیں ہوتا وہ علمی طور پہ قحط اور خالی پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کتابوں پہ خرچ کرنے کو بے وقوفی اور لائبریری میں وقت گزارنے کو فراغت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پوری قوم کا علمی قد بڑھنا رک جاتا ہے اور چند ہی سالوں میں علمی بونوں کے جم غفیر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو منطق سے بہت دور شدید قسم کے جذباتی اور پاگل پن کا شکار ہوتے ہیں۔
چند دن ہوئے پاکستان بھر کی لائبریریوں، دکانوں اور گوداموں میں پڑی کتابوں نے تنگ آ کے اجتماعی طور پہ فیصلہ کیا ک وہ پاکستانی قوم کی کتب بینی کے حوالے سے مجرمانہ غفلت پہ داتا کی نگری میں عین مینار پاکستان کے سائے تلے ایک احتجاجی و ماتمی دھرنا دیں گے۔ اس دھرنے میں ماضی و حال کے بڑے بڑے مصنفین کی ارواح کو بھی دعوت نامے بھجوائے گئے۔ دھرنے والے دن لاکھوں، کروڑوں گرد جمی کتابوں کا جم غفیر تھا۔ میر انیس اور دبیر کے مرثیے پڑھے جا رہے تھے۔
فیض اور جالب کی نظمیں پرجوش نعرے لگا رہے تھیں۔ منٹو آج بھی لاہور میں شوہر کے ہاتھوں بکنے والی عورت کے غم میں گم تھا۔ مغربی مصنفین کی ایک بڑی تعداد اور ان کی کتابیں ورطہ حیرت میں تھیں کہ بھلا کتابوں کی ایسی بے قدری بھی ہو سکتی ہے! حالی کی مسدس بین کرتے ہوئے دعا کی بجائے بد دعائیں دے رہی تھی۔ اقبال زرخیز مٹی مٹھی میں دبائے سر جھکا کے بیٹھا ہوا تھا۔ اشفاق احمد اور بانو آپا داستان سرائے کی ویرانی پہ آزردہ نظر آرہے تھے۔ پورا پنڈال۔ کتابوں اور مصنفین کے نوحوں، مرثیوں، سسکیوں اور چیخوں سے گونج رہا تھا۔ مگر حیرت کی بات کہ پورے شہر کو بلکہ آس پاس گھومتے لوگوں کو بھی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اورنہ کچھ نظر آرہا تھا۔
کتابوں اور مصنفین کا غم سے دل پھٹے جا رہا تھا کہ اچانک مشتاق یوسفی نے مائیک لیا، ”ارے یاروں ان بے قدروں سے کیا گلا یہ تو آسمانی صحیفوں کو کوئی توجہ نہیں دیتے توچراغ تلے بھلا میری زرگزشت کی کیا حیثیت! “ مشتاق یوسفی کی بات سنتے ہی اقبال نے جوشیلے انداز میں ایک خواب دکھایا اور کہنے لگا، ”جب کسی معاشرے میں زندگی مشکل ہو جائے تو ہجرت میں خیر ہے“۔
”چلو چلیں سر زمین مغرب کی جانب ہجرت کریں۔ وہ علم کی چاہت لئے ہوئے ہیں۔ یہ جاہل یہ بے حس ہمیں مار دیں گے۔ چلو چلیں سر زمین مغرب کی جانب ہجرت کریں“۔


