یوگیوں اور صوفیاء کا بجٹ

یوگیوں اور صوفیاء کے ہاں عمومی اجماع ہے کہ روحانیت کی معراج پہ پہنچنے کے لئے دنیاوی لذات و سہولتوں کو اگر یکسر چھوڑنا نہیں تو کم ترین سطح پر تو ضرور رکھنا پڑتا ہے۔ جس کے لئے جنگلوں اور غاروں کا رخ کیا جاتا ہے۔ صوفیاء کو رہبانیت کی اجازت نہیں ہوتی تو اس لیے وہ اعتکاف پہ اکتفا کرتے ہیں اور ساتھ میں روزہ ہوتا ہے اور شدید قسم کا مجاہدین ہوتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم کھایا اور پیا جائے تاکہ روحا نی ترقی ہو۔

Read more

کتابوں اور شعور کی ہجرت

انسانی تہذیب کے ارتقا بالخصوص علمی و شعوری ترقی اور کتابوں کا ہمیشہ سے ایک بہت مضبوط اور گہرا تعلق رہا ہے۔مختلف ادوار میں کتابوں کے پیراہن تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی ان کو پتھر کی پلیٹوں، تو کبھی دھاتی پلیٹوں حتی کہ سونے چاندی پہ بھی لکھا گیا۔ درختوں کی چھال اور جانوروں کی کھال کو بھی بطور قرطاس استعمال کیا گیا۔ لیکن گذشتہ کئی صدیوں سے کتابیں کاغذ کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اب ڈیجیٹل کتابیں بھی آرہی ہیں لیکن کاغذ کی کتابوں کی اہمیت آج بھی قائم و قائم ہے۔ مہذب اور باشعور معاشروں میں کتب بینی کو بھی ترقی کے ایک اہم اشارے کی حیثیت حاصل ہے۔

Read more

مکھیوں کا جمگھٹا

من حیث القوم ہم لوگوں کی ٹوہ میں لگے رہنے والے لوگ ہیں۔ گویا جاسوسوں کو جم غفیر ہو۔ ہمارے لئے سب سے چٹپٹی اور چٹخارے دار خبر وہ ہوتی ہے جس کا کوئی جنسی پہلو ہو اور اس میں بھی جتنا زیادہ رسوائی کا عنصر شامل ہو اتنا ہی مزا آتا ہے۔ ہم ایک عظیم لیکن عجیب و غریب قوم ہیں۔ ہمارے ہاں عدالتیں چالیس پچاس سال تک ایک کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچائیں، پھانسی پہ لٹکنے کے بعد بریت کا حکم جاری کریں، پارلمینٹیرینز اسمبلی کی عصمت دری کریں، کوئی ڈکٹیٹر آئین کو جوتوں تلے روند دے، کوئی معاشی طور پہ پورے ملک کو گروی رکھ دے، سرکاری افسران ملکی وسائل کو لوٹیں۔ برائے نام ملا دین کی خرید و فروخت کریں، حتی کہ وطن عزیز دو لخت ہو جائے۔ ان تمام معاملات اور خبروں میں ہماری دلچسپی وہ نہیں ہوتی جو کسی جنسی خبر میں ہوتی ہے۔

Read more