پنڈی بمقابلہ پینٹاگون
آگ لگانا بہت آسان ہے، مگر بجھانا بہت مشکل۔ آگ لگانی ہو تو اس کے لیے نا بہت زیادہ محنت ہے، نا کوئی لمبے چوڑے پاپڑ بیل کر سیدھے کرنے ہیں۔ بس ایک ہی بار پتلی سی تیلی لگانی ہے، اور تیلی پھینک تماشا دیکھ۔ اب یہ جنگل والوں کی ہمت ہے کے وہ اپنے اتحاد کی بدولت سارا جنگل جلا ڈالتے ہیں یا کچھ شہید درختوں کی بَلی چڑھا کر بلا کو ٹالتے ہیں۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کے مالی نے کیا سوچ کر ہمارا جنگل لگایا، یا جنگل لگا کر کیوں اسے، اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ ایک تو ہمارے ہر پیڑ کا قبلہ مختلف ہے اور نا صرف قبلہ مختلف ہے بلکہ ہر اک کو دوسرے کے کعبے سے اختلاف بھی ہے۔ تبھی تو ماچس کی ایک تیلی ہوتی ہے، سالوں پرانی تصاویر والی ایک ٹویٹ ہوتی ہے اور کراچی تا خیبر گلزار، نار کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔
آگ لگانے اور آگ پھیلنے کی تازہ ترین مثالیں ہم نے اپنے برادر اسلامی ممالک میں بھی خوب دیکھی ہیں۔ مجھے 2011 کے اخبارات آج بھی یاد ہیں جن کے اندرونی صفحات پر روزانہ کی سرخیاں تیونس، مصر اور لیبیا کے انقلابیوں کی ہوتی تھی۔ ہمارے دل کے نوخیز جذبات بھی مچلتے کہ اے کاش! یہاں بھی کوئی پھل فروش خود کو آگ لگائے اور ہم اٹھ کر اسلام آباد پر قابض مخصوص طبقے کو جڑ سے اکھاڑ ڈالیں۔ یہ الگ بات کے مقامی و قومی خبروں والے تمام صفحات ایسی بے شمار خبروں سے مزین ہوتے مگر ہماری غیرت نا جاگنی تھی نا جاگی۔
تیونس کے ڈکٹیٹر کا تختہ عوام نے الٹا، ہم نے زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ ہمیں یقین ہو گیا کے مصر کا التحریر اسکوائر، اخوان کے لاکھوں کارکنوں کی بدولت، جلد ہی انقلاب چوک میں تبدیل ہو جائے گا۔ الجزیرہ، بی بی سی اور سی این این نے ہمیں بیس بیس لاکھ افراد دکھائے الباکستانیوں کی نمائندہ مذہبی جماعتوں نے بھی حسنی مبارک کے خلاف اخوان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور انقلاب آگیا۔ بس پھر کیا تھا انقلاب کی آگ جنگل میں منگل کر گئی۔
لیبیا کے غیور باغیوں نے بھی نیٹو کی انقلابی امداد کے صدقے ڈکٹیٹر قذافی کو انجام تک پہنچایا، اور اُس انجام کا انجام آج تک لیبیا کے عوام بھگت رہے ہیں۔ آخر میں دو جگہ انقلاب رہ گیا تھا تو یمن اور شام میں بھی ایسی انقلابی آگ بھڑکائی گئی، کے ملک دونوں جل گئے نا انقلاب آیا، نا امریکن جمہوریت۔ خیر جنہیں جمہوریت ملی ان کی بھی طبیعت صاف ہو گئی۔
یہاں سے تو ہمیں کم ازکم ایک سبق سیکھنا چاہیے تھا کہ اگر مناسب تربیت، واضح مقصد، سچے نظریے اور درست حکمت عملی کے بغیر کوئی مخلص تحریک بھی کھڑی ہو گی تو آخر میں اس تحریک نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہی ہونا ہے۔ ابھی پچھلے کافی عرصے سے پشتونوں کے حقوق کے لیے سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھ رہی ہیں، کہیں وردی کے پیچھے دہشتگردی 40 برس بعد نظر آرہی ہے تو کہیں یہ بیانیہ گھڑا جا رہا ہے کے یہ نظام پشتونوں کے حقوق نشانے پہ رکھ کر چھین رہا ہے۔
اب اسلامی جمہوریہ کے باقی علاقوں پر نگاہ دوڑائیں تو جنوبی پنجاب سے لے کر سندھ کے پسماندہ اضلاع تک، اور تھر سے لے کر بلوچستان کے معدنیات سے بھرپور علاقہ جات تک، ہر جگہ بھوک، ننگ افلاس، اور تازہ لہو کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ ٹھیک ہے لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے چند علاقوں میں بیٹھے لوگوں نے ان مسائل کا سامنا نہیں کیا، جس طرح قبائلیوں نے اپنی لاشیں اٹھائیں۔ مگر ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، اسلام آباد کی کچی بستیوں سے لے کر کراچی کے فٹ پاتھ پر سونے والے ہر بے گھر فرد کی کہانی ایک سی نہیں ہے؟
ہمارا مسئلہ یہ ہے، دائیں بائیں سب انکل سام کے تلوؤں کے نشانات پر جنت ڈھونڈتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی بھی قومی لبرل کا مطالعہ کریں اسے موجودہ نظام میں واحد مسئلہ راولپنڈی میں نظر آئے گا۔ مولوی حضرات کی بات کریں تو آج کل انہیں چاند کی شرعی رویت کا خیال ستائے جا رہا ہے مگر نہیں بتائے گا کوئی کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام مسائل کی جڑ ہے۔ سود پر کھڑے معاشی نظام میں اسلامی بینکاری کی پیوند کاری بھی حرام کمائی سے حلال خوراک کھانے والی اسکیم جیسی ہے۔
وہ تمام مولوی جو اسّی کی دہائی میں ضیا کے پیچھے کھڑے تھے آج وہ بھی پشتونوں کے معاملے پر بلاول کی افطار پارٹی میں علی وزیر اور محسن داوڑ کے حامی تھے۔ اب پشتونوں کے مسائل باقی پاکستان سے الگ تو ہیں نہیں۔ البتہ قابل غور بات یہ ہے کہ تمام دائیں بازو کے شدت پسند امریکن جہاد کے وقت تو بوٹوں میں ہاتھ ڈالے الٹے کھڑے تھے۔ آج جب بوٹوں والے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دہشتگردی کا گند صاف کر رہے ہیں تو یہ دائیں بائیں کے سارے جمہوری چمپئن انہی شدت پسند فیکٹری مالکان کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں جنہوں نے اس وقت جہادی مدارس کی صورت میں افرادی قوت فراہم کی تھی۔
آج پی ٹی ایم کے ساتھ کھڑے ہو کر، نا تو یہ سابقہ جہادی دودھ کے دھلے ہیں نا ان کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اتنا سوال ضرور کیا جا سکتا ہے کہ مریم صفدر، بلاول زرداری، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن نے قبائلی خاندانوں کی آباد کاری میں کتنی خدمات انجام دی ہیں اور جہاد امریکہ کے وقت ان کے کتنے حمایت یافتہ چندہ اکٹھا کیا کرتے تھے۔ سوچنے کی بات ہے، جس وقت سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں ہماری قومی اسٹیبلشمنٹ کھٹکنے لگی ہے، صرف تب ہی کیوں یہ تمام یو ایس ایڈ اسپانسرڈ دانشور دائیں بائیں بھلا کر ایک بیانیے پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔


