پندرہ روز میں دانشور بنئیے

ایک مرتبہ ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق ہوا تو مختلف ڈرائیونگ اسکولز کے اشتہارات دیکھے، جو اشتہار سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوا اُس پر لکھا تھا، سات روز میں موٹر سائیکل اور پندرہ روز میں گاڑی چلانا سیکھیں، خیر یہ الگ بات ہے کہ ہمارا قریبی و قلبی دوست سیف عباسی بھی گزشتہ کئی برس…

Read more

! چندہ برائے افطار ڈرائیو

پچھلے چند برس سے راولپنڈی اسلام آباد کے کئی علاقوں میں ایک وبا بہت تیزی سے پھیلی ہے، جی ہاں! ماہ رمضان میں ”افطار ڈرائیو“ کے نام سے کسی چوک چوراہے پہ غریبوں کے لئے افطار کا دسترخوان لگا لیں اور نادار روزہ داروں کو روزہ افطار کرائیں۔ٹھیک ہے یقینا کسی روزہ دار کی افطاری کا سامان کرنا بہت اچھا کام ہے مگر کیا وجہ ہے کہ ان دسترخوانوں اور ان پر بیٹھنے والے افراد کی تعداد میں ہر برس اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ غور کرنے پہ معلوم ہو گا کے یہ بھی ایک فیشن بن چکا ہے کہ سال کے ایک مہینے میں کچھ دستر خوان لگائیں، چند غریبوں کی مدد کردیں۔ اس سے خدا بھی خوش ہو جائے گا اور اگلے جہاں کی جنت بھی پکی، اور تو اور، ادھر سوشل میڈیا پر لگانے کے لیے بے شمار تصویریں بھی مفت ملیں گیں۔ آخر اگر تصاویر نہیں بنیں گیں تو خدا تعالی کو کیسے معلوم ہو گا کے ہم نے اتنے غریبوں کی مدد کی ہے؟

Read more

وزیر اعظم, خواتین سے معافی کب مانگیں گے؟

سماجی تشکیل میں پہلا اہم ترین کردار اُس سماج کے لیڈر ادا کرتے ہیں، جو نا صرف اپنی زبان اور عمل سے قوم کے نوجوانوں کی تربیت کرتے ہیں بلکہ سماج کے مختلف طبقات کو آپس میں جوڑے رکھتے ہیں۔ یہ اُن پر فرض ہوتا ہے کہ وہ ایسی اخلاقی قدروں کا تعین کریں جنہیں اپناتے ہوئے معاشرے کا کوئی بھی حصہ احساس کم تری کا شکار نہ ہو۔ وہ ایسی روشن تہذیب کی بنیاد رکھیں جو سماجی برائیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ وہ ایسا نظام حیات تشکیل دیں جو انسانی معاشرہ کے تمام طبقات کو برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرے۔

Read more

!آج یکم مئی ہے، میرا عالمی دن

آج میرا عالمی دن تھا، آج تم بہت بن ٹھن کہ مجھ سے تعزیت کرنے ایک تقریب میں آئے تھے، شاید تم نے میری عیادت بھی کی۔ مگر تم مجھے شاید احساسِ کمتری کا بھی شکار بنانا چاہتے تھے، تم مجھے شاید پھٹے کپڑوں میں ملبوس دیکھ کر مسکرانا بھی چاہتے تھے اور تم مُسکرا…

Read more

ٹِک ٹاک مقررین اور ڈسپوزبیل تقاریر

بنیادی طور پر مقررین کی بے تحاشا اقسام ہیں۔ البتہ اس کے مقابلے میں تقاریر کی صرف دو اقسام ہیں، پہلی وہ جو ہر موضوع پر فٹ آ جائیں اور دوسری وہ، جن پر موضوع کو فِٹ کرنا پڑے۔ بحر حال اگر آپ ایک کامیاب مقرر بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ایک ہی تقریر جیب اور دماغ میں محفوظ کر لیں۔ کیونکہ اگر ایک سے زیادہ تقاریر کا بکھیڑہ آپ نے پال لیا تو پھر اِسی چکر میں آپ گھن چکر بن جائیں گے کہ کون سا موضوع ہے اور کون سی تقریر کی جائے۔

جب تقریر صرف ایک ہو گی تو پھر آپ کا دماغ ”ٹینشن فری“ ہو گا اور آپ موضوع پر گرہ لگانے میں بھی آزاد ہوں گے۔ اس لیے ہمارا صدقِ دل سے برادرانہ مشورہ ہے کہ اگر آپ خود کو مقررین کی بے تحاشا اقسام سے نکال کر کامیاب مقررین کی فہرست میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک، جی ہاں زیادہ کی لالچ چھوڑ کر صرف ایک تقریر پر اکتٖفا کریں۔ کامیابی کسی بنگالی بابے کے عمل سے بھی پہلے آپ کے قدموں سے لپٹ جائے گی۔

Read more

امریکن ایجنٹ کی نشانیاں

نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد جب ابا میاں، اُنکی سائیکل اور ہم۔ مسجد سے باہر آئے تو جذبہ حُب الوطنی عروج پر تھا۔ مارچ 2006 کا پہلا جمعہ تھا اور امریکہ بہادر کے خلاف شدید نعرے لگ رہے تھے، لگتے بھی تو کیوں نا۔ امریکن صدر بش اپنے دوست ”جنرل مشرف“ کی دعوت پر…

Read more

واہگہ کی اونچی ٹانگ اور ہمارا لال قلعہ

بھارت میں الیکشن، پلوامہ کا حملہ، جیش محمد کی ذمہ داری قبول، نہیں کشمیری مظالم کا بدلہ، کشمیری مائیں بہنیں مشکل میں، نہیں مودی کا ڈرامہ ہے۔ ارے طالبان کو دیکھو، امریکہ کو بھیگی بلی بنائے بیٹھے ہیں ارے واہ سبحان اللہ، مجاہدینِ اسلام، مرد مومن، کل تک یہی مردود ہمارے جوانوں کے سروں سے کھیلتے تھے کیا ہوا آج تو امریکہ کو قابو کر لیا نا، اب تو بھارت کی شامت آئی ہے۔ اب افغان زمیں آزاد کرانے کے بعد بس کچھ دن اور ہیں پھر کشمیر اپنا ہوا۔ پھر سرینگر کی ہائی وے ہو گی اور اس پر ہم اپنی گاڑی پوری رفتار سے دوڑا رہے ہوں گے۔ پھر تو ادھر بھی جا کر عیاشیاں ہوں گیں۔

ویسے ایک بات ہے اگر آپ کا تعلق جانداروں کی قبیل جانوروں سے ہے تو پھر ہر جگہ آپ کے لیے سکون ہے، دنیا بھر کے پنگوں سے آپ کا کیا تعلق۔ اور اگر آپ انسان نما جانور ہیں، تو پھر یہ پنگے آپ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ خیر صاحب جی! اتنی بھی کیا قیامت اگر تھر کے بھوکوں کے لیے گندم کی بوریوں میں مٹی چلی گئی، کیا ہوا اگر کسی بڑی پگ والے کی زمین بچانے کی خاطر کسی چھوٹے موٹے سیلاب کا رخ موڑ دیا گیا، کیا ہوا اگر ٹھیکے پر بنے سکولوں کے ڈھانچے ہلکہ سا زلزلہ بھی برداشت نہ کر سکے۔

Read more

شدت پسند گستاخ

حضرات! ہمارا معاشرہ مسائل کے جس کوہ گراں کو عبور کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے وہاں ابھی ہماری معیشت قرض کے پہاڑ کو ہی عبور نہیں کر پائی ایسی صورت میں انتہا پسندی جیسے چھوٹے موٹے مسائل پر بات کرنا یقیناً فارغ لوگوں کا خاصہ ہی ہو سکتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ موضوع کا انتحاب کیا جاچکا، اس واسطے معیشت کا قضیہ کسی اور فارغ وقت پر ڈال دیتے ہیں۔

انتہا پسندی پر بات کرنے سے پہلے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم ایک اسلامی تجربہ گاہ میں رہتے ہیں۔ اسی لئے آئے روز یہاں عالمی امن پسند قوتیں مختلف اسلامی تجربات کرتی رہتی ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ انہی تجربات کا صدقہ، جو اس معاشرے کی سوچ دو انتہاؤں پر جا کر متمکن ہوئی۔ چاہے وہ مختلف طرز معاشرت والا چورن ہو یا گرم پانیوں کو محفوظ کرنے کی خاطر دی گئی قربانیاں، یہاں کے مذہبی ٹھیکیداروں نے عالمی امن کے لیے ایسی ایسی قربانیاں دی ہیں کہ آج بھی بیک وقت سیکڑوں لوگ جنت میں پہنچ جاتے ہیں۔

Read more