سانحہ خاڑکمر اور ریاستی ذمہ داری
ملک میں طالبانائیزیشن کے کسی حد تک خاتمے کے بعد قبائلی علاقہ جات سے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کی شکل میں ایک پر امن عوامی تحریک کا اٹھنا ایک انتہائی غیر معمولی اور خوشگوار واقعہ ہے جس کو پاکستانی ریاست وہاں آزادی کے بعد (یا یوں کہیے کہ عوامی نیشنل پارٹی ANP کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کمزور کرنے کے بعد) سے لے کر آج تک کے سیاسی خلا کو پر کرنے میں کام میں لا سکتی ہے۔ لیکن جس انداز سے آج تک اس تحریک کے ساتھ معاملات کو چلایا گیا اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کے ریاست ان ”دوُر افتادہ“ علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔
پاکستانی قوم اور بالخصوص پشتونوں کو ریاست کی طرف سے دیے گئے سانحہ بابڑہ کے گھاؤ ابھی بھرے نہیں تھے کہ سانحہ خاڑکمر کی خبر سننے کو ملی۔ اُس پر افسوس در افسوس کہ قومی اسمبلی کے دو معزز ممبران، جن کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے اور جو اس واقعے کے متاثرین بھی ہیں، کو نا صرف اپنا موقف مناسب طور پر پیش کرنے سے روکا گیا بلکہ یکے بعد دیگرے انہیں گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھی بھیج دیا گیا۔ میڈیا بلیک آؤٹ سے لے کر ایک مخصوص بیانیے کو روبوٹک صحافت کے ذریعے اس تحریک کے خلاف استعمال کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ایک سے بڑھ کر ایک مس ایڈونچر پر کمر بستہ ہے اور کہیں بھی اپنی پرانی پالیسی کو ترک کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ یاد رکھیے یہ وہی پالیسیز ہیں جو سقوط ڈھاکہ سے لے کر بلوچ قبائل کی ناراضی، ملک میں قدرے سخت موقف رکھنے والی قوم پرست جماعتوں کے ابھار اور مستقل قومی بے چینی کا سبب بنی ہیں۔
عوامی تحریک کا راستہ تشدد اور گمراہ کن پراپیگنڈا سے وقتی طور پر شاید دبایا جا سکے لیکن یہ حل دیرپا نہیں ہو سکتا اور اس کے نتائج انتہائی خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ کسی سیاسی تحریک سے مذاکرات اور معاملات آگے بڑھانا خالصتاً سیاسی قیادت کی ہی ذمہ داری ہے اور اس میں پارلیمنٹ میں بیٹھی عوامی قیادت کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ حکومت کی طرف سے خاڑکمر واقعہ کے بعد اختیار کی گئی مجرمانہ خاموشی اس حکومت کی بے بسی اور لاچارگی کا واضح ثبوت پیش کرتی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات انتہائی سنجیدہ، آئینی اور زمینی حقائق پر مبنی اور اس کا لائحہ عمل خالصتاً سیاسی اور عدم تشدد پر مبنی ہے، جس کا واضح ثبوت گزشتہ ایام میں سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات ہیں جن میں ان کے مطالبات کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اُنہیں اپنا مطالبہ بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسے میں مفروضات پر مبنی خیالات اور سازشوں (Conspiracy theories) کو تلاش کرنے کے بجائے ان مسائل کی وجہ اور حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں بلا شبہ انفرادی طور پر اس موومنٹ کے کچھ لوگوں یا گروپس کی طرف سے غیر مناسب رویہ ضرور سامنے آیا جو خود اس تحریک کی عوامی مقبولیت کے لیے نقصان دہ ہے جیسا کے اداروں کے خلاف نعرے بازی یا ملک کے خلاف لگائے گئے نعرے، جس کا دفاع درحقیقت میرے لیے فی الحال ممکن نہیں۔ لیکن یہ غلطیاں انفرادی درجہ کی حامل ہیں اور پی ٹی ایم کی نا یہ پالیسی ہے اور نا راستہ۔ اس کے باوجود ریاست کو بہر حال یہ ادراک کرنا ہو گا کہ ان نوجوانوں کا یہ غصہ ان پر ریاست کی طرف سے پچھلے 40 سال سے لادے گئے بوجھ کی وجہ سے ہے۔
چنانچہ اس ردعمل کو برداشت کرنا اور انہیں بھی ”اپنے لوگ“ سمجھ کر زخموں پر مرہم لگانا بھی ریاست پاکستان کی ہی ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے یہ ان پر احسان نہیں بلکہ اس فیڈریشن کی مضبوطی کی ضمانت بھی ہے۔ وطن سے محبت بندوق کے زور پر نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کی فراہمی سے ممکن ہوتی ہے۔ پر امن سیاسی جدوجہد پر بندوق اور گولی، جو کہ اسی عوام کے ٹیکس سے خریدے یا بنائے جاتے ہیں، کا استعمال انتہائی احمقانہ اور خطرناک فعل ہے جس کے نتائج ریاست اور اس کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ سیاسی مسائل اور سیاسی مطالبوں کے حل کے لیے ہمیشہ سیاسی ایوان ہی استعمال میں لایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاست کو پروان چڑھنے دینا ہو گا۔ جمہوریت کے اس بیج کو سازگار ماحول میں رکھنا ہو گا تاکہ یہ بیج اس معاشرے میں نشوونما پا سکے۔ تب ہی آنے والی نسلیں اس کے پھل سے استفادہ کر سکیں گی۔ ساست دانوں کو سیاسی بالیدگی اختیار کرنا ہو گی۔
غیر سیاسی طاقتوں کا آلہ کار بنے بغیر پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے عوام میں رہنا ہوگا۔ عوامی مسائل کا ادراک اور ان مسائل کے ٹھوس حل تلاش کرتے ہوئے عوامی قیادت فراہم کرنا ہو گی۔ ورنہ اپنی باری کا انتظار کرتے رہیں، جب کل کے امیر المومنین ”صادق اور امین“ نہ رہے تو آج کے قائد اعظم ثانی کا کردار بھی مشکوک ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔
قصہ مختصر، خاڑکمر چوکی پر ہونے والے اس افسوسناک واقعہ کی شفاف تحقیقات اور قصوروارں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانا ہی اس حکومت، ریاست اور اس ملک کے نظام انصاف پر عوامی اعتماد کی بحالی کو ممکن بنا سکے گا۔
میں امید رکھتا ہوں کہ ریاست سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ سمیت تمام قوم پرست جماعتوں کو قانونی دھارے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی، ان کے مطالبات کا ٹھوس حل پیش کرتے ہوئے فیڈریشن کی مضبوطی کو یقینی بنائے گی، اور اگر کوئی فرد، گروہ یا جماعت کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائی جائے تو اس کے خلاف میڈیا مہم جوئی کے بجائے ثبوت کے ساتھ آزاد عدالتوں کی طرف رجوع کرے گی۔ یاد رکھیے قومی اکائیوں کی مضبوطی ہی فیڈریشن کی مضبوطی کی علامت ہے۔
تمام قومی اکائیاں زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔


