سٹیزن پورٹل: کٹھنائیوں میں ایک موثر سہولت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اکثر سسٹم کا روناروتے رہنا، اداروں کو اور ان کے سربراہان کو گالیاں دینا، ہر سرکاری ملازم بشمول افسران اور سیاستدان کو کرپٹ ثابت کرنا، فوری انصاف اچھی صحت معیاری تعلیم کی عدم دستیابی کا الاپ لگانا اور جہاں بھی بیٹھے، وہاں ہر موضوع کو اپنی ذہانت دکھانے کے لیے منفی پہلو سے دیکھنا بس یہی ہے اکثر لوگوں کی دن بھر کے مو ضوعات و مصروفیات۔

سماجی ترقی کے موضوعات پر ہمارے محترم استاد صاحب نے ہمیں سکھایا کہ آ گے بڑھنے کے لئے جو سسٹم میسر ہے اس کے ساتھ چلو اور میسر سسٹم کو بہتر سے بہترین کرو، یا پھر نیا سسٹم بناؤ۔ آپسی تنقید برائے تنقید والی روش بدلو اور اصلاح اور تخلیق کی روش اپناؤ۔ یہ باتیں سننے میں تو اچھی لگتیں تھیں مگر سمجھ میں ذراکم ہی آتی تھیں۔ بڑی کوشش کی کہ اپنے استاد صاحب کی باتوں کو مثالی طور پر تسلیم کریں مگر جیسے جیسے حکومتی سسٹم سے عملی پالا پڑا مایوسی ہی ہوئی۔

چونکہ ہم مڈل کلاس دوہرے سسٹم سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اس لئے کبھی کبھی کوئی اچھی سروس میسر آ جائے تو کئی کئی دن دوستوں کو بتاتے ہیں، مگر ایک دن ہمارے دوست آصف منور نے میسر سسٹم کو اچھا کرنے کا ایک عملی تجربہ بتایا۔ آ صف صاحب جھنگ سے فیصل آ باد آنے کے لئے ایوب چوک سے ٹیوٹا ہائی ایس میں بیٹھے اور سفر شروع کر دیا، گاڑی کے کنڈکٹر نے سب سے پہلے تو سیٹوں سے زائد سواریاں بٹھائی، پھر معمول کے مطابق شکایت کرنے والوں کی اپنے مخصوص الفاظ میں بے عزتی کی اور جیسے ہی کرایہ لینے کی باری آئی تو وہ بھی زیادہ طلب کیا۔

جو کہ ہر دفعہ معمولی بحث و تکرار کے بعد کنڈکٹر کا طلب کردہ ہی دینا پڑتا ہے۔ آ صف بھائی نے سارے کرب سے گزرنے کے بعد اپنا سارا کرب وزیر اعظم کے سٹیزن پورٹل پر ڈال دیا۔ اور سب کچھ بھول کر دیگر معمولات میں مصروف ہو گئے تین چار دن بعد سرسری پورٹل دیکھا تو دیکھ کر حیرانی اور غیر یقینی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ متعلقہ گاڑی کو اوور لوڈنگ اور زائد کرایہ وصول کرنے کی مد میں 50000 پچاس ہزار روپے کا جرمانہ ہو گیا تھا۔ سن کر ہم سب کچھ بھی ہوئے اور حیران بھی۔

اکثر نیوز میں پڑھتے تھے کہ پورٹل پر شکایت کرنے سے غریب کی زمین کا قبضہ واپس مل گیا، افسران کو شکایت کا ازالہ نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا مگر چونکہ یہ پہلا عملی تجربہ تھا جس نے ہم دوستوں میں تحریک پیدا کر دی۔ بس پھر ہم نے متعد انصاف کی عدم فراہمی، انسانی حقوق کی استحصال، میونسپلٹی کے ایشوز، کرپشن کی نشاندہی، قبرستانو ں کی صفا ئی کے ایشوز، ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال اور دوران ڈیوٹی مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک جیسے واقعات کو رپورٹ کیا۔ اور بڑا پر مسرت اور پر امید ہو کر بتا رہا ہوں کہ سٹیزن پورٹل نے ابھی تک مایوس نہیں کیا۔

ایک اور واقعہ جس نے یہ سب لکھنے پر مجبور کیا وہ کچھ اس طرح ہے کہ رضیہ بی بی بنیادی صحت مرکز واقع 437 گ ب سمندری میں بطور مڈ وائف کام کرتی ہے۔ رضیہ کی ملازمت کی جگہ پر اس کے ساتھ ایک ڈاکٹر، ایل ایچ وی، ڈیسپینسر، مڈوائف، امجد نائب قاصد اور سینٹری ورکر کام کرتے ہیں۔ متعلقہ ڈاکٹر اکثر اوقات رضیہ سے امتیازی سلوک کرتی۔ ایک دن رضیہ نے ڈاکٹر کو زائد وقت کام کرنے سے منع کر دیا تو ڈاکٹر نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مذہبی امتیازکا نشانہ بناتے ہوئے دھمکی دی کہ تمہیں آ سیہ بی بی کا واقعہ بھول گیا ہے۔

رضیہ بی بی نے گھر جا کر اپنے شوہر سے بات کی، شوہر نے ہمت کر کے ڈاکٹر اور دیگر عملہ کے خلاف ایک تحریری درخواست ڈی ایم ایس صاحب کو گزاری۔ جس پر محکمانہ انکوائری کے لیے ٹیم نے متعلقہ بنیادی صحت مرکز کا دورہ کیا اور تمام فریقین کے بیان ریکارڈ کیا، جس میں متعلقہ ڈاکٹر نے اعتراف کیا کہ میں نے رضیہ کو دھمکی دی ہے مگر صرف ڈرانے کے لئے۔ انکوائری ہونے کے کئی ماہ بعد تک متعلقہ افسران سے واقعہ کے خلاف ایکشن کا پوچھا مگر انہیں صرف یہی تسلی دی جاتی رہی کہ انکوائری ہو گئی ہے نہ اب صبر کریں۔ اور فریقین میں مذکورہ واقعات جاری رہے۔

ہم نے تمام تر واقعہ کی تفصیلات 20 مئی کو سٹیزن وائس پورٹل پر شکایت نمبری PU 200519۔ 2782894 درج کروا دی، متعلقہ شکایت 25 مئی کو ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے پاس پہنچی۔ ڈی سی فیصل آباد کے متعلقہ مجازافسر نے ہماری شکایت سنی اورمتعلقہ مجاز افسران سے رپورٹ طلب کی۔ اور معماملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اگلے دن تک عملی کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔ تین چار دن بعدمورخہ 30 مئی میرے فون پر محکمہ PHFMC کی طرف سے ایک لیٹر نمبری PHFMC/DO/FSD/ 2070 / 2019 مورخہ 15۔ 04۔ 2019 کی سکین کاپی موصول ہوئی جس کے مطابق متعلقہ محکمہ نے شکیل مسیح کی درخواست کے متن میں انکوائری کر کے ڈاکٹر IHO، مڈوائف اور نائب قاصد کا متعلقہ بنیادی مرکز صحت سے تبادلہ کر دیا گیا۔

کچھ دوستوں کا خیال ہے اور کچھ پڑھنے والوں کا ہو گا کہ یہ کیا سزا ہوئی مگر رضیہ بی بی کا خیال ہے کہ مجھے عذاب سے رہائی مل گئی ہے اور میں سٹیزن پورٹل اور وزیر اعظم صاحب کی ممنون ہوں اور انہوں نے کٹھانیوں کے دور میں ایسی سہولت دی جہاں ہماری فوراً شنوائی ہوئی اور فوراً ہمیں انصاف میسر ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •