پردیسی ماں کی عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کا روز تھا، یہ خوشیوں بھرا دن اس کے لیے خاصا بورنگ ہوا کرتا تھا۔ لہذا وہ دن بھر ٹیلیویژن دیکھتی اور جب تھک جاتی تو لمبی تان کر سو لیتی۔ آج کے روز مگر وہ کچھ زیادہ ہی اداس، خاموش، سہمی ہوئی اور افسردہ تھی۔ لہذا گھر کا ماحول بھی سوگوار تھا۔ دن بھر گھر میں عجیب سی ویرانی کا راج رہا۔ بے پناہ خاموشی اور شدت کی گرمی! خوشیوں بھرا عید کا سورج یوں ہی ڈھل گیا تو مغرب کی نماز کے لیے اٹھی۔ نماز ادا کرکے ہمیشہ کی طرح میرے پاس آکر بیٹھ گئی، ہاتھوں میں تسبیح گھما گھما کر مجھ پر پھونکنے لگی۔

ساتھ میں کبھی کبھی دعا۔ ہائے میرے بچے کو تتی ہوا نہ لگے۔ نہ جانے آج کیا جوش آیا کہ میرا ماتھا بھی چوم لیا۔ اک لمحے کو جیسے میں جنت میں پہنچ گیا۔ اس کا میرے پاس آنا ہی تھا، مسکرانا ہی تھا، دعا اور پیار دینا ہی تھا کہ سارے دکھ، درد، اداسیاں، مایوسیاں کہیں غائب ہوگئیں۔ اس نے میری جانب دیکھا تو اک چمک، اک امید دکھائی دی، میں سمجھ گیا کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ آخر کچھ دیر بعد خاموشی ٹوٹی تو بڑے ہی پیار سے مجھ سے پوچھا محسن تمہیں گاڑی چلانی آتی ہے نا؟

جی آپ کو کہیں جانا ہے تو چلیں میں لے چلتا ہوں میں نے کہا۔ ہم صبح پنجاب چلیں میرا بہت دل کر رہا ہے۔ تم گاڑی چلا لو گے؟ ان کے اس سوال نے میرا پرانا زخم کرید کر ہرا کردیا۔ کچھ زخم شاید ہمیشہ ہرے ہی رہتے ہیں اور ان میں سے درد رستا رہتا ہے۔ ہجرت اور اپنی مٹی سے دوری بھی شاید ایک ایسا ہی زخم ہے جس کا میٹھا میٹھا درد آدمی کو اندر ہی اندر سے کھاجاتا ہے۔

پھر پنجاب کی صرف مٹی ہی اسے نہیں پکار رہی تھی۔ اس کی ماں یعنی میری نانی اور بہنیں یعنی میری خالائیں بھی تو وہیں رہتی تھیں۔ خون میں کتنی کشش ہوتی ہے۔ کیسے ہمیں کھینچ لیتا ہے۔

گاڑی موجود تھی، لیکن میں انہیں اس قدر طویل سفر پر نہیں لے جا سکتا تھا۔ دماغ میں ایک کے بعد ایک طوفان اٹھنے لگا۔ جس عورت نے میری خاطر، میرے مستقبل کی خاطر، میرے باپ کی کامیابیوں کی خاطر، ہمارا گھر بسانے، چلانے اور ہمیں خوشیاں محسوس کرانے کی خاطر اپنی تمام تر عمر، خوشیاں، جوانی، سب کچھ قربان کردیا تھا۔ بھری جوانی میں اپنا گھر، ماں باپ، سہیلیاں، یادیں سب چھوڑ چھاڑ کر یہاں کراچی چلی آئی تھی اور ایک نئی دنیا بسائی تھی۔ دنیا جس میں آج میں سانس لے رہا تھا۔ جنت جسے میں گھر کہتا ہوں۔ اس عورت کی ایک چھوٹی سی معصوم سی خواہش بھی پوری کرنے کی میں ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔

ماں اللہ کی قسم دل چاہتا تھا آپ کو اس ہی وقت کاندھوں پر اٹھا کر سفر کا آغاز کردوں۔ مگر میری نالائقی! ماں کو تسلی دی۔ آپ جانا چاہتی ہیں تو صرف ایک دن رک جائیں۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ یہ کہنا تھا کہ ان کی ساری تھکاوٹ مجھے کہیں دور بھاگتی دکھائی دی۔ رات کا کھانا بڑے اہتمام کے ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے کھایا۔ صبح اٹھتے ہی میں ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ بہت محنت کے بعد صرف ایک ٹکٹ مل سکی۔ میں مطمئن ہوگیا۔ تھکاوٹ اترنے لگی تو سوچا کچھ دیر پلیٹ فارم پر بیٹھ جاوں۔

جیسے پی بینچ پر بیٹھا میرے لیے وقت رک سا گیا۔ بیٹھے بیٹھے اندازہ ہی نہیں ہوا وقت گزرتا گیا، ایک کے بعد ایک ٹرین جاتی رہی، ہزاروں لوگ میرے سامنے آئے اور رخصت ہوئے۔ مگر میں نے دیکھا، بہت سی ماؤں کو گزرتے دیکھا۔ کسی کو اپنے بھائی، کسی کو اپنی بہنوں، کسی کو ماں تو کسی کو اپنے بچوں کے پاس جاتے دیکھا۔ کسی ماں کو اپنی ماں سے دور بہت دور اپنے بچوں کے لیے دور آنے پر اداس دیکھا تو کسی ماں کو اپنے بچوں کو چھوڑ کر اپنی ماں سے ملنے جانے پر بھی اداس دیکھا۔

میری جانب سے تمام ماؤں کو عید مبارک، مائیں جو ہم جیسے نالائقوں پر بھی سب کچھ وار دیتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •