ایک بلوچ خاتون وکیل کا احساسِ زیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک بھر میں نابالغ بچوں کی تیز رفتار اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ خاص طور پر ون ویلنگ ریس کے باعث روزانہ خطرناک حادثات پیش آتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی انسانی جانیں ضایع ہو جاتی ہیں۔

ان حادثات میں جو لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں ان کے لواحقین پر صدمات غم و الم اور مسائل و مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ ہی پڑتے ہیں مگر جو لوگ زخمی ہوتے ہیں وہ خود تو معذور اور اپاہج ہو کر زندگی بھر اذیت میں مبتلا رہتے ہیں مگر ان کے ورثا اور لواحقین بھی مستقل طور پر پریشان رہتے ہیں۔

یہ ایک سنگین مسئلہ ہے ہر فرد ہر شریف اور ہر گھر کے لئے ۔ اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے خضدار بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون وکیل محترمہ فوزیہ سکندر زہری نے خضدار شہر میں نابالغ بچوں کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد کرنے کا تحریری مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی اس طرف توجہ دلاتے ہوئے یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ نابالغ بچوں کی ڈرائیونگ قانوناً ممنوع ہے لیکن اس کے باوجود خضدار شہر میں اس طرح کی لاقانونیت سے آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں اور انسانی جانیں ضایع ہوتی رہتی ہیں۔

ویسے قانون تو پہلے سے ہی موجود ہے لیکن ملک کے کسی بھی شہر میں اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ یہ ذمہ داری ریاست کی ہے اور ریاست میں یہ ذمہ داری براہ راست ٹریفک پولیس پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ اس کے سامنے دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ٹریفک کا قانون لمبی تان کر سویا رہتا ہے جس کو جگانے والا کوئی نہیں۔

یہ تو ملک کا ہر باشعور فرد بخوبی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں 10 سے 17 سال تک کے بچے اور لڑکے انتہائی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ سڑکوں پر اور بازاروں میں ان کے درمیان سرتوڑ مقابلہ واقع ہوتا ہے کہ کون جیتتا اور کون ہارتا ہے۔ اس خطرناک ڈرائیونگ کی جیت اور ہار میں انسانوں کی ہار اور موت و تباہی کی جیت واقع ہوتی ہے۔ حال ہی میں گزشتہ دنوں پشین کے قریب نوجوان لڑکوں کی تیز رفتار ڈرائیونگ کے باعث 2 موٹر سائیکلوں کے مابین خوفناک ٹکر ہوئی جس کے نتیجے میں 3 افراد جان بحق اور 2 شدید زخمی ہو گئے۔

ان کی اس لاپروائی کے باعث خود ان کی موت واقع ہوئی 2 زخمی ہو کر شدید اذیت میں مبتلا ہو گئے اور ان کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ عید کے موقع پر غم و الم اور صدمات نے ڈیرے ڈال لئے ۔ ویسے غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ سے تمام افراد یا شہری پریشان رہتے ہی ہیں لیکن سب سے زیادہ خواتین بچے اور بوڑھے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان اوباش اور بگڑے ہوئے لاڈلوں کی حرکتوں سے موثر طور پر اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔

اگر ملکی سطح پر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں ہر سال نابالغ افراد کی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک کی متعلقہ پولیس اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتی۔ ضرورت اس امر کی ہے اس حساس اور سنگین مسئلے پر فوری توجہ اور قانون پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ تا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خاص طور پر متاثر ہونے والی خواتین بچوں اور بوڑھوں کی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

یہاں محترمہ فوزیہ زہری صاحبہ کی درخواست پر مجھے ایک فنی خامی نظر آئی ہے۔ وہ یہ کہ انہوں یہ درخواست خضدار شہر کے ایس ایچ او کو دی ہے۔ میرے خیال میں ایس ایچ او کا ٹریفک کے مسئلے سے کوئی خاص تعلق نہیں بنتا۔ اس کی ذمہ داری امن و مان کے قیام کی بنتی ہے۔ یہ درخواست متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو دینا چاہیے تھا۔ ایس ایس پی اس درخواست کو ٹریفک پولیس کے انچارج کو احکامات جاری کرتا۔ ایس ایچ او یا ٹریفک انچارچ ضلعی پولیس سربراہ کے حکم اور سپورٹ کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

حالانکہ اگر قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو ٹریفک پولیس کا ایک عام سپاہی بھی غلط ڈرائیونگ غلط پارکنگ اور بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کرنے پر ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی چالان اور جرمانہ کر سکتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں ایسا تصور ہی نہیں ہے۔ چند برس قبل لاہور ٹریفک پولیس کے ایک سپاہی نے ایک با اثر شخص کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اس کو جرمانہ کیا تو اس بیچارے پولیس اہلکار کی شامت آ گئی تھی۔ جبکہ چند ماہ قبل کوئٹہ کے میزان چوک پر گاڑی غلط پارک کرنے کی بنا پر ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ وکیل کو جرمانہ کیا تو اس خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی بھی شامت آ گئی۔

وکلا نے اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلا کر قانون پر عمل درآمد کرانے والی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کا تبادلہ کرا دیا۔ اب ایسی صورت میں کون چاہے گا کہ وہ قانون پر عمل درآمد کر کے اپنے لئے کسی شامت اور مصیبت کو دعوت دے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عام پولیس اہلکار تو کیا ایس ایس پی یا ڈی پی او صاحبان بھی قانون پر عمل درآمد نہیں کرا سکتے ورنہ ان کا بھی پٹہ اتر جاتا ہے اور عتاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔

تاہم ایسے ماحولیاتی اور معاشرے میں خضدار کی ایک بلوچ خاتون وکیل کی جانب سے پولیس کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانے اور انسانی جانوں کو ضایع ہونے سے بچانے کے لئے کوشش کرنا نہ صرف قابل تحسین عمل ہے بلکہ فوزیہ صاحبہ نے پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے دلی جذبات کی ترجمانی بھی کی ہے اور ایک مثال قائم کی ہے۔ ان کی اس مثبت سوچ کو مثال بنا کر ملک کے دیگر شہروں میں بھی باشعور شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ی ہیں کہ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •