مفتی پوپلزئی، پشتون معاشرت اور کیلا ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب ”پوپلزئی“ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ”نام ہی گارنٹی ہے“ ایک دن پہلے چاند کی!
مگر بظاہر اس سادہ سے نظر آنے والے تماشے میں، جو کہ صرف رمضان اور عید کے موقع پر ہی لگتا ہے، کئی سنجیدہ اشارے اور اعشاریے چھپے ہوئے ہیں۔

اس طرف مگر جانے سے قبل پوپلزئی بریگیڈ کے جانثاران سے پوچھنا مگر یہ ہے کہ ایک دن پہلے چاند کا جھگڑا باقی کسی اسلامی مہینے میں کیوں ظاہر نہیں ہوتا؟ رمضان و شوال کے علاوہ خیر سے دس مہینے مزید ہیں اسلامی، ان دس مہینوں میں چاند اتفاق کی چاندنی لیے کیوں ہوتا ہے؟ چاند بدل جاتا ہے، یا ویسی اشتہار بازی ملنے کی امید نہیں ہوتی جیسی رمضان و شوال کے مواقع پر ممکن ہوتی ہے؟ اس سارے قضیے میں بنیادی طور پر کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ مذہب کے اس ظاہری کسٹرڈ میں کس کس کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی فوائد کی انگلیاں موجود ہیں؟

ایسا تماشا کیا اسلام کی جائے پیدائش، سعودی عرب میں کہیں تصور میں بھی ممکن تھا؟ وہاں تو تقریر کرتے ہوئے اک مرکزی امام صاحب کو بہت محبت سے حکومتی مہمان بنا لیا گیا۔ تب سے ان کی کوئی خیر خبر ہی نہیں سننے کو ملی۔ لطف کی یہ آبشاریں وطن عزیز میں ہی کیوں مہیا ہوتی ہیں؟

اب آتے ہیں اشاروں اور اعشاریوں کے جانب۔

جناب مفتی پوپلزئی اور ریاست کے دیگر تمام علما و فضلا کے مابین ہر سال ہونے والے اس یُدھ میں اک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مذہب یگانگت اور معاشری طور پر ذہن سازی کا وسیلہ نہیں بن سکتا۔ احباب اسلامی تعلیمات کے کلاسیکی حوالہ جات دے دے کر جو بھلے ہے مرضی کہیں، مگر مذہب پاکستانی قومیت کے کنسٹرکٹ میں، اک بہت لمبے عرصے سے تفاوتی کردار ادا کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مذہب کے نام لیوا مقدس حضرات اکثر اپنے اپنے سیاسی و معاشی فوائد پر ہی اکٹھے ہوتے ملتے ہیں، اور جیسے ہی وہ سیاسی و معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ ”اپنا کام پورا، بھاڑ میں جائے نوُرا“ کے مصداق الگ الگ سمتوں میں دوڑ پڑتے ہیں۔

پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ لگا دینے سے اک سیاسی بیانیہ، وہ بھی بیرونی دنیا کے لیے تو بنایا جا سکتا ہے، مگر اس معاشرت اور لوگوں کو اسلامی نہیں بنایا جا سکتا۔ کمی بیشی معاف، مگر 1956 کے آئین میں جب عوامی جمہوریہ کو اسلامی جمہوریہ بنایا گیا تو شاید بنیادی طور پر نئی نئی ملنے والی آزادی کے بعد، اک بڑے مشرقی ہمسائے کے سامنے خود کو پوزیشن کرنے کی ضرورت تھی۔ وگرنہ وطن عزیز کے ساتھ اسلامی لگا کر، نہ تو اسلام کو کوئی فائدہ ملا، اور نہ ہی مجھ جیسے گناہگاروں کے حصے کوئی شیرینی آئی۔

وطن کتنا اک اسلامی ہے، حال ہی میں ماہ رمضان کی برکات و فیوض سمیٹ کر بھاگم بھاگ عمرہ کرنے والے بڑے پاکستانی تاجران اور ذخیرہ اندوزوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔

دوسرا اعشاریہ پشتون معاشرت کے بارے میں ہے۔ بیان سے زیادہ سوالات ہیں۔
ایسا کیوں ہے کہ مفتی پوپلزئی پاکستان کی کسی دوسری قومیت یا اکائی میں نہیں پائے جاتے اور یہ تاج بھی میرے پشتون یاروں کے سر ہی ہے؟ اک دیومالا کے تحت یہ اک بلینکٹ سٹیٹمنٹ دی جاتی ہے کہ پشتون بہت سخت اور پکے مسلمان، اور مذہب کے بارے میں بہت جذباتیت رکھتے ہیں، مگر کیا اس دیومالا کا مطلب یہ ہے کہ دوسری اقوام کے مسلمان پکے مسلمان نہیں ہیں اور عمومی طور پر ریاست کے ساتھ ہی ایسے فیصلے کرتے ہیں؟

یہ کہیں اس بات کی نشانی تو نہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی پشتون معاشرت قبائلیت کا شکار ہے، کہ بھلے وہ قبائلی علاقے ہوں، یا پشاور و کراچی جیسے بڑے شہر؟ کہیں یہ اسی قبائلیت کی بنیاد پر مین سٹریم سے روگردانی کرنے والا قدیم اور ضدی رویہ تو نہیں کہ جس کے تحت، جدید تاریخ میں پشتون بیانیے مختلف استعارے لیے ہوتے ہیں : عظیم تر پشتونستان، افغان جہاد، طالبان (بالخصوص پاکستانی طالبان) ، اور اب پی ٹی ایم؟

ایسا نہیں کہ تمام پشتون اوپری سوالوں کے جواب میں ”ہاں“ کی سمت میں کھڑے ہیں۔ ہر معاشرے کی طرح، وہاں بھی ہزاروں رنگ ہیں، مگر ایسا کیوں ہے کہ عام فہم خیال میں دیکھی جانے والی یک رنگی، ان تمام رنگوں پر حاوی رہتی ہے، اور عام فہم خیال کی یہ یک رنگی کا دفاع کرنے کے لیے بھی پشتون ہی میدان میں دلائل کی تلواریں لیے اتر آتے ہیں؟ باقیوں کو بھی ضرورت ہے، مگر کیا پشتون معاشرے کو من میں کنگھی پھیرنے کی ضرورت درپیش تھوڑی زیادہ نہیں، یا اس پر خادم جیسوں کو ”دہ پنجابئے“ کا تمغہ عنایت کیا جائے گا؟

تیسرا اعشاریہ، ریاست کے بارے میں ہے۔
آئیے اس پر ہنستے ہیں۔ مگر ہنسنے سے پہلے اک سوال: کیا پوپلزئی صاحب جیسوں کی حریت ایسی ہی ہوتی، اگر اسلام آباد پر اک مارشلائی ڈکٹیٹر کی گرفت ہوتی؟ اب ہنسیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •