پھیکی عید مبارک !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین کو عید مبارک! ویسے تو رمضان المبارک کے اختتام پر عید خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ عید کا تہوار کچھ گہنا سا گیا ہے ۔ رمضان کے آخری عشرے اور چاند رات کوبازاروں میں جو ریل پہل ہوتی ہے وہ نظر نہیں آئی ۔ ہوشربا مہنگائی اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی بے روزگاری کی بنا پر عام آدمی کا بجٹ شدید متاثر ہواہے ۔اسی بنا پر نئے کپڑے بنانے کے بجائے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دکانوں پر غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا ۔

عید کی بہت سی رسومات جن میں مہندی لگانا ،چوڑیاں پہننا ویسے ہی ختم ہوتی جارہی ہیں ،اکا دکا عید کارڈ نظر آتے ہیں بلکہ ایس ایم ایس اور اب ایس ایم ایس کی جگہ وٹس ایپ پر عید کا رڈ بھیجنے کی روایت پڑ چکی ہے ۔ یہ عید ایسے موقع پر آئی ہے جب لگتا ہے کہ پاکستانی قوم مجموعی طور پر ڈپریشن کا شکارہے۔ بیرونی خطرات اپنی جگہ لیکن اس وقت تو ہم آپس میں برسرپیکار ہیں،کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں ۔

اپوزیشن اور حکومت کے مابین گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور دیوار سے لگی حزب اختلاف عید کے بعد تحریک چلانے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت گرانا ہمارا مطمع نظر نہیں ہے لیکن اگر گرانا پڑی تو گرا بھی دیں گے ۔ قوم کو جب اندرونی وبیرونی طور پر مختلف بحرانوں کا سامنا ہو تو اسے امتحان کی گھڑی میں بنیان مرصوص بن جانا چاہیے ۔ اگر چہ یہ درست ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن بنیادی ذمہ داری حکومتی جماعت کی ہے ۔

بعض اوقات لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور کوئی خفیہ ہاتھ سب کچھ چلا رہا ہے ۔ عدلیہ کی آزادی جو سخت ترین جدوجہد اورقربانیوں کے بعد حاصل کی گئی تھی وہ بھی داؤپر لگی نظر آتی ہے ۔ پختون تحفظ محاذ کے ساتھ بھی لڑائی جاری ہے اس کے دوارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیراس وقت حراست میں ہیں۔ بلاول بھٹو نے ان کے بطور رکن اسمبلی پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے سپیکر کو خط لکھا ہے جس کے بارے میں یہ عجب عذرلنگ پیش کیا گیاہے کہ ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا حالانکہ بلاول بھٹونے میڈیا کو وصولی کی رسید بھی دکھائی ۔

خود حکمران جماعت کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ عمران خان اس دعوے پر برسراقتدار آئے تھے کہ وہ ایک صاف شفا ف اور عوام کو جوابد ہ حکومت کا ما ڈل سامنے لا ئیں گے لیکن آ ہستہ آہستہ سابق حکومتوں اور موجو دہ حکومت کے طور وطریقوں میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا ۔ مثلا ً سرکاری گاڑیوں ،جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال اسی بے دریغ طریقے سے ہو رہا ہے جیسا کہ سا بق ادوار میں ہوتا تھا، شاید ہی انیس بیس کا فرق ہو ۔

پہلے تو خان صاحب بہت کم افراد پر مشتمل وفد کے ساتھ غیر ملکی دوروں پر جاتے تھے لیکن حالیہ دورہ سعودی عرب کے لیے وہی انداز تھے جیسے میاں نواز شریف کے تھے ۔ عمرہ جیسی پاکیز ہ سنت کو عوام پر اپنی پاکدامنی کا رعب ڈالنے کے لیے ٹیلی ویژن پر دکھا یا گیا اور سو شل میڈیا پر بھی اس کی خوب تشہیر کی گئی ۔ ’’کرپٹ‘‘ نواز شریف ہر سال رمضان المبارک میں عمرہ اداکر نے جا تے تھے لیکن اس کے اخراجات وہ خود ادا کر تے تھے۔

یہ الگ بات ہے کہ خان صاحب اسلامی سربراہی کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے لیکن باقی وزرائے اعلیٰ اور وزراء سمیت وفد میں شامل لوگ پروٹوکول کے مفت مزے لوٹ رہے تھے۔ سادگی کا درس دینے والی حکومت کے پہلے نو ماہ میںغیرترقیاتی اخراجات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا۔ میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی ایک مثال وزیرمملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کی سفارش پران کی ہمشیر ہ شبنم گل کی بطور ڈائریکٹر نیشنل کا ؤنٹر ٹیررازم اتھا رٹی آج کل موضوع بحث بنی ہو ئی ہے ۔

محترمہ وزیر کا اصرار ہے کہ ان کی ہمشیر ہ کی تقر ری خا لصتا ً میرٹ پر ہوئی ہے ۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ،شبنم گل لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔ وہ گزشتہ نو برس سے دہشت گردی کے مو ضو ع پر پی ایچ ڈی کرنے کے لیے تھیسز لکھ رہی ہیں لیکن ہنوز ناکام ہیں۔ انھوں نے یونیورسٹی کے ساتھ باقاعد ہ ایک تحریری معاہدہ کررکھا ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد چار سال یونیورسٹی میں ملازمت کریں گی لیکن چونکہ وہ وزیر کی ہمشیرہ ہیں لہٰذا تمام اصولوں اور قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ نیکٹا کے ترجمانوں کو بھی کہنا پڑا کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم کی ما ہر ہیں اورمیرٹ پر منتخب ہو ئی ہیں ۔

کیا یہ ہے نئے پاکستان کا تبدیلی کا نمونہ ؟۔ مقام شکر ہے کہ وزیر اعظم نے اقربا پروری کے اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیااور فیصلہ واپس ہو گیا۔خان صاحب کے خصوصی معاون برائے سیاسی امور نعیم الحق کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میرٹ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔لیکن اسے کیا کہئے کہ پنجاب اسمبلی کے نصف سے زیادہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان سرکاری عہدیدار ہیں۔

مثال کے طور پر صوبائی حکومت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے چالیس ارکان کو اپنا ترجمان مقرر کیا ہے۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ، وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے ا یک انٹرویو میں اپنی روایتی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ایسی با تیں کہی ہیں جن کا ویسے تو باخبر لوگوں کو پہلے ہی علم تھا لیکن ایک پی ٹی آ ئی کے کلیدی رکن کے منہ سے ان کی تصدیق خا صی معنی خیز ہے ۔ انہوں نے برملاطور پر اعتراف کیاکہ پارٹی میں غیر منتخب ارکان اور منتخب وزراء کے درمیان سرد جنگ جاری ہے ۔

واضح رہے فواد چودھری حکومت کے انتہائی فعال سرگرم اور میڈیا پر چھائے ہوئے وز یر اطلاعات تھے، وہ کابینہ میں گزشتہ ماہ ہو نے والی بڑی تبد یلی کاشکار ہوئے جس میں وزیر خزانہ کو بھی تبدیل کرکے ایک ٹیکنو کر یٹ کو مشیر خزانہ لگایا گیا،اسی روز صبح وہ میڈیا پر بڑے شدومد سے وکالت کر رہے تھے انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ شام کو ان کا بھی دھڑن تختہ ہونے والا ہے اور ان کی جگہ بھی ایک غیر منتخب خاتون محترمہ فردوس عاشق اعوان جو پیپلز پا رٹی کے دورمیں بھی وزیر اطلاعا ت رہی تھیں کو معاون خصوصی برائے اطلاعات لگایا جارہا ہے۔ محترمہ نے فواد چودھری کے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کا استحقاق ہے کہ جس کو چا ہیں تعینات کریں۔

فطری طور پر انھیں یہی کہنا چاہیے تھا کہ وہ عمران خان کے فیصلے سے فیض یاب ہو کر اس منصب پرفائز ہوئی ہیں ۔ فواد چودھری کو گلہ ہے کہ ان کی سابق وزارت میں پانچ غیر منتخب افراد مداخلت کر رہے تھے، ان کا کہنا ہے جو لوگ کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے آج وزیر اعظم کے مشیر بنے بیٹھے ہیں ۔ فواد چودھری کا شمارتحریک انصا ف کی کابینہ میں ان معدود ے چند لوگوں میں کیا جاسکتا ہے جو سیاسی خاندان سے ہیں اور سیاسی سوچ بھی رکھتے ہیں ،انہوں نے مرض کی درست تشخیص کی ہے ۔

ویسے بعداز خرابی بسیار فواد چودھری نے میڈیا پر ملبہ ڈالتے ہوئے کہا ان کی باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر تمام نیوز چینلز اور اخبارات میں چلائی گئیں۔ وہ تو خان صاحب کی لیڈرشپ کے سب سے سرگرم وفادار ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ غیر منتخب نام نہاد ٹیکنوکریٹس ہی حکومت چلا رہے ہیں ۔ شاید اسی بنا پر وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان جن میں سے کچھ تو غیر منتخب ہونے کی بنا پر پارلیمنٹ میں داخل ہی نہیں ہو سکتے ،پا رلیمنٹ کوکوئی اہمیت نہیںدیتے ۔

فواد چودھری نے بڑے مدلل انداز سے عید اور رمضان کا چاند دیکھنے کا معاملہ جد ید سا ئنسی انداز سے حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ان کے اس دلیرانہ موقف کی کا بینہ اورنہ ہی اسلامی نظر یاتی کونسل نے توثیق کی ہے ۔پشاور میں ہر سال مفتی پوپلزئی عید ایک دن پہلے ہی منا لیتے ہیں اب جیسا کہ وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے خود کہا ہے کہ دیکھنا پڑے گا وہ کونسا چا ند چڑھاتے ہیں جب تک یہ کالم آپ کی نظر سے گزرے گا چاند چڑھ چکا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •