حامد میر کی غلطی


روزنامہ جنگ میں 3 جون 2019 کو لکھے گئے اپنے کالم ”مکہ میں پاکستانی شکست“ میں حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ میں منعقدہ چودھویں اسلامی سربراہ کانفرنس کے اعلامیہ میں کشمیر کا ذکر نہیں تھا، یہ پاکستان کے لیے سفارتی دھچکے سے کم نہیں تھا اور یہ کہ پاکستان کشمیر کا مقدمہ ہار گیا۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ تاہم حامد میر کی اس غلطی یا غلط فہمی کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف دشنام طرازی کا جو سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے وہ بھی انتہائی نامناسب ہے۔ بعض افراد نے مسلم امہ کی کشمیر میں اس”عدم دلچسپی“ کے بعد پاکستان کو بھی ”مسلم امہ کا ٹھیکیدار“ بننے سے اجتناب کرنے کو کہا۔

حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا۔” مجھے اس (مکہ) ڈیکلریشن میں کشمیر کی تلاش تھی۔ میں اسے تیزی کے ساتھ بار بار پڑھ رہا تھا۔ میری بے تابی کو بھانپ کر ایک بھارتی مبصر ذکر الرحمان نے مسکراتے ہوئے مجھے کہا”جناب اس میں کشمیر کا ذکر نہیں ہے“۔ بھارت او آئی سی کا رکن نہیں ہے لیکن اس کانفرنس میں سعودی حکومت نے کئی بھارتی صحافیوں کو بھی مدعو کیا تھا۔۔۔ عمران خان نے یہاں اچھی تقریر تو کر دی لیکن مکہ ڈیکلریشن سے کشمیر کا لفظ غائب ہونا پاکستان کے لئے سفارتی دھچکے سے کم نہیں تھا۔ عبداللہ صرف فلسطین میں نہیں بلکہ عبداللہ تو روزانہ کشمیر میں بھی شہید ہوتا ہے لیکن افسوس کہ مکہ میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ ہار گیا۔ میں مکہ سے جھکی جھکی نظروں کے ساتھ واپس آیا ہوں، وزیراعظم کی نظریں میں نہیں دیکھ سکا۔“

حقیقت یہ ہے نہ صرف ستاون ملکی تنظیم او آٸی سی کے مکہ اعلامیہ میں کشمیر کا ذکر موجود ہے بلکہ اس کا انداز بھی ایسا ہے جس پر بھارتی حکومت بوکھلا اٹھی اوراسے سخت ردعمل دینا پڑا۔ اس کے علاوہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب کے یوسف الدوبے کو کشمیر پر او آٸی سی کا خصوصی ایلچی بھی مقرر کیا گیا ہے۔

 حامد میر ہم عصر صحافتی دنیا میں اپنی محنت، دیانتداری اور غیر جانبدار تجزیہ نگاری کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ اس کالم کی اشاعت کے بعد مخالفین اسے پاکستان کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دے رہے ہیں اور ان کی حب الوطنی پر شک کررہے ہیں لیکن حامد میر کی یہ غلطی دانستہ نہیں، غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آخر ایسی غلط بیانی کر کے کوٸی اپنے اوپر عوامی اعتماد کو ٹھیس کیوں پہنچاٸے گا۔

حامد میر ایک سچے انسان ہیں۔ وہ اس غلطی پر یقیناً جلد ہی معذرت کا اظہار کر لیں گے۔ تاہم ان کی یہ غلطی یا اس پر ندامت کا اظہار نہ کرنا کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ان کی راست بازی اور دیانتداری کو نظرانداز کرتے ہوٸے انہیں غدار قرار دیتا پھرے۔

یقیناً حامد میر مکہ اعلامیہ کو بغور پڑھ نہیں سکے کیوں کہ اس کا متن خاصا طویل ہے جو انیس صفحات اور ایک سو دو نکات پر مشتمل ہے۔

اعلامیہ کے پواٸنٹ نمبر 40 پرکشمیر کے حوالے سے کہا گیا ہے۔

“The Conference reaffirmed its principled support for the people of Jammu and Kashmir for the realization of their legitimate right to self-determination, in accordance with relevant UN resolutions. It condemned the recent outbreaks of violence in the region and invited India to implement the relevant Security Council resolutions to settle its protracted conflict with its neighbor. It further welcomed the recommendations included in the UN report on Kashmir issued in June 2018; called for the expedited establishment of a UN commission of inquiry to investigate into the grave human rights violations in Kashmir, and called on India to allow this proposed commission and international

human rights organizations to access Indian-occupied Kashmir۔“

”کانفرنس نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق خود ارادیت کے جاٸز حق کے حصول کے لیے جموں و کشمیر کے لوگوں کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس نے خطے میں تشدد کے حالیہ ظہور کی مذمت کی اور بھارت کو دعوت دی کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اس دیرینہ تنازعے کو حل کرنے کےلیے سلامتی کونسل کے متعلقہ قراردادوں پر عمل کرے۔ اس نے مزید برآں کشمیر پر اقوام متحدہ کے جون 2018 میں جاری شدہ رپورٹ کی سفارشات کو بھی خوش آٸند قرار دیا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفتیش کے لیے اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن جلد قاٸم کرنے کو کہا اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مجوزہ کمیشن اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو ہندوستانی مقبوضہ کشمیر تک رساٸی دے۔“

ہندوستان 31 مٸ کے مکہ اعلامیہ میں کشمیر کے اس انداز میں ذکر پر سیخ پا ہوگیا اور اس نے جموں و کشمیر کے اس حوالے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان راویش کمار نے کہا.

”او آٸی سی کو جموں و کشمیر، جو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، کے معاملات میں مداخلت کا کوٸی حق نہیں۔ یہ بات پھر کہی جاتی ہے کہ او آٸی سی اس طرح کی غیر ضروری حوالے دینے سے اجتناب کرے. ہم ایک دفعہ پھر چودھویں اسلامی سربراہ کانفرنس کے حتمی اعلامیہ میں ہندوستان کے اندرونی معاملات کا ایک اور ناقابل قبول حوالہ دینے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔“

او آٸی سی کی قرارداد کو بھارت نے مسترد کر دیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس کے چند طاقتور رکن ممالک ہندوستان سے اس دو ٹوک انکار کے بعد بازپرس کریں گے اور اسے سفارتی یا تجارتی روابط میں تھوڑی سرد مہری لا کر اس قرارداد پر عمل کرنے پر مجبور کریں گے یا نہیں۔

حامد میر نے اپنے کالم میں کہا تھا وہ جھکی نظروں کے ساتھ واپس آٸے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں جھکی نظروں کے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ وزیراعظم عمران خان کو جنہوں نے اس کانفرنس سے خطاب میں کشمیریوں کا مقدمہ احسن طریقے سے پیش کیا اور کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی جدوجہدِ آزادی دہشت گردی نہیں، آزادی کی جدوجہد ہے۔

Facebook Comments HS