این جی اوز کیوں کھٹکتی ہیں اور انٹرنیشنل فنڈنگ کیوں لیتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں این جی اوز دو طرح کے کام کرتی ہیں۔ ایک ویلفیئر اور سروس ڈیلیوری کے کام ہیں جیسے ہسپتال اور سکول وغیرہ بنانا اور چلانا اور حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو فوری امداد پہنچانا۔ صرف اتنا کام کرنے والی این جی اوز پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کسی کو کو نہیں کھٹکتیں۔ ریاست پاکستان کے کسی ستون کو ان سے کوئی پرابلم نہیں۔ لوگوں کی اکثریت انہیں پسند کرتی ہے اور ان کے کار خیر میں حصہ بھی ڈالتی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

این جی اوز کا دوسری قسم کا کام ترقی (ڈیولپمنٹ) اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لیے این جی اوز عوامی آگاہی اور آگہی، عوامی وکالت اور حکومت سمیت اہم ریاستی اداروں کی کارکردگی کی نگرانی (واچ ڈاگ) کا کام کرتی ہیں۔ این جی اوز کا یہی وہ کام ہے جو کچھ لوگوں اور اداروں کو کھٹکتا ہے۔

بنیادی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز نے پاکستان میں کچھ اہم مسائل پر ایسی پوزیشن لے رکھی ہے جو ہمارے فرسودہ معاشرتی روایات اور ریاستی بیانیے کے ساتھ لگا نہیں کھاتی۔

سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ جس پر اس ملک کی اکثریت کنفیوز اور پریشان ہو جاتی ہے وہ ہے انسانوں کے درمیان بنیادی انسانی حقوق کی برابری۔ پہلی نظر میں یہ بات اتنی پیچیدہ نہیں لگتی جتنی کہ یہ ہے۔ ہر کوئی بڑے آرام سے کہتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ مزید زور دے کر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب تو انسانوں کے درمیان برابری کا سب سے بڑا دعویدار ہے۔ یقین جانیے جب وہ کہہ رہے ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں انسانوں سے مراد صرف تندرست و توانا، مسلمان مرد ہوتے ہیں۔

وہ عورتوں، ٹرانسجینڈر، اقلیتی مذاہب کے لوگ اور معذور افراد کے متعلق سوچ بھی نہیں رہے ہوتے۔ انسانی حقوق پر کام کرنے والے لوگ جب انسانوں کی برابری کی بات کرتے ہیں اور خاص طور پر عورتوں اور بچیوں کو برابری کا انسان سمجھنے کی بات کرتے ہیں تو عوام کی ایک بھاری اکثریت این جی اوز کے خلاف ہو جاتی ہے۔ میڈیا کے لوگوں کی اکثریت، پارلیمنٹ، حکومت اور طاقت ور دفاعی ادارے سبھی مل کر این جی اوز کی مخالفت کرتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔

این جی اوز بچوں کے حقوق میں بچیوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ وہ بچپن کی شادی کی مخالفت، عورتوں اور نوجوانوں کی تولیدی صحت کے متعلق آگاہی اور تربیت اور فیملی پلاننگ کی بات کرتے ہیں تو مذہبی رہنما خاص طور مخالفت کرتے ہیں۔ مذہبی لوگ فیملی پلاننگ کے خاص طور پر مخالف پائے گئے ہیں۔ کیونکہ ہمارے مذہبی لوگوں کے خیال میں مذہب کو بچانے والے لوگ مدرسوں سے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور مدرسے صرف کثرت اولاد سے بھرے پڑے ہیں۔ اگر اکثر لوگوں کے ایک یا دو بچے ہوں اور وہ ان کی خوراک، رہن سہن، تعلیم اور صحت کے اخراجات برداشت کر سکتے ہوں تو وہ انہیں مدرسوں میں کیوں بھیجیں گے۔ اس لیے فیملی پلاننگ کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی۔

این جی اوز جنگ کے خلاف ہیں اور امن اور دوستی کی بات کرتی ہیں تو ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے کیونکہ پاکستان میں میڈیا، مذہب کے نام پر لیڈری چمکانے والے، حکومت اور فوج سبھی لوگ دشمنی کا ماحول بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑھکیں لگاتے رہتے ہیں اور سادہ لوح عوام پر رعب جھاڑتے رہتے ہیں۔ اپنی دلیری اور جوانمردی کی شیخی بگھارتے رہتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اس قوم کو درپیش اصلی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائے رکھتے ہیں۔

این جی اوز اس قوم کو درپیش اصلی مسائل کو سامنے لانا چاہتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دو کروڑ سے زیادہ سکول جانے کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ عورتوں کی حالت زار کے حساب سے ہم دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوری حکومتیں کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور ریاستی اداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ ستر سال کی مسلسل محنت سے حکومتیں اتنی کمزور کر دی گئی ہے کہ ایک ہزار مرد مذہب کے نام پر دار الحکومت کو بند کر دیں تو حکومت بے بس ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں انصاف کی حالت اچھی نہیں ہے اور عدالتیں بھی جمہوریت کو کمزور کرنے میں استعمال ہوئی ہیں۔ ہمارا پاسپورٹ دنیا کے دو تین کمزور ترین ممالک کے پاسپورٹوں میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ سب حقائق ہیں اور ہم جب تک پالیسی لیول پر انہیں تسلیم نہیں کریں گے آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہی نہیں ہو سکیں گے۔

این جی اوز ان سب مسائل کا حل چاہتی ہیں ان مسائل کو عوام کے سامنے لاتی ہیں۔ لیکن ایک چھوٹی سی اشرافیہ جو ستر سال سے اس ملک کا نظام و انصرام چلا رہی ہے وہ اپنی ناکامی کی بات سن کر چڑ جاتی ہے۔ ایک طرف تو وہ ان حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے دوسری طرف اپنے طور اطوار کو وہ بدلنا نہیں چاہتے۔ اس لیے وہ این جی اوز کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ وہ صورت حال کو ٹھیک نہیں کرنا چاہتے اس لیے بری خبر لانے والے کو (کل دی میسنجر کے مصداق) قتل کر دینا چاہتے ہیں۔ این جی اوز اس لیے زیر عتاب ہیں۔ سیکیورٹی کے بہانے سے ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں کہ این جی اوز کے لیے کام کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والی این جی اوز کا انحصار فارن فنڈنگ پر ہوتا ہے۔ اس فنڈنگ کے حصول کے لیے لوکل این جی اوز کو ای اے ڈی اور انٹرنیشنل این جی اوز کو وزارت داخلہ سے اجازت کی شرط رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح فیلڈ میں لوگوں کے ساتھ آگاہی یا تربیت سے متعلقہ سرگرمیوں پر بھی تقریبا پابندی لگا رکھی ہے۔ صوبائی اور ضلعی اداروں سے اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ ای اے دی اور وزارت داخلہ تمام اداروں کے لوگ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ ان کا رول ایک پوسٹ آفس سے زیادہ نہیں ہے۔

جو درخواستیں وہ این جی اوز سے وصول کرتے ہیں وہ سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے کر دیتے ہیں اور ادھر سے جو حکم آتا ہے اس سے این جو اوز کو آگاہ کر دیتے ہیں۔ مقصد کئی طرح سے پورا ہو گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ عوامی آگاہی اور تربیت کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے۔ این جی اوز اپنے دفاتر بند کرنے پر مجبور ہیں۔ ستاسی لوکل این جی اوز کو فارن فنڈنگ منع کر دی ہے۔ اٹھارہ انٹرنیشنل این جی اوز کو واپس بھیج دیا ہے اور کوئی بیس اور کے سروں پر اپیل کے فیصلے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ باقیوں کی درخواستیں بھی پروسیس میں ہیں۔

این جی اوز اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جنگ میں ناجائز بھی جائز ہو چکا ہے۔

این جی اوز نے آخری حربے کے طور پر ریٹائرڈ فوجی افسران کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ ریٹائرڈ افسران بڑی بڑی تنخواہوں کے بدلے وزارت داخلہ، ای اے ڈی اور سیکیورٹی ایجنسیز کے لوگوں کے ساتھ : ”ڈیل“ کرتے ہیں تو کچھ این جی اوز کو فارن فنڈنگ حاصل کرنے یا کام کرنے کے اجازت نامے مل رہے ہیں۔ کچھ ایجنٹ بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں جو بھاری رقوم لیتے ہیں اور ذمہ داران کے ساتھ ”ڈیل“ کرا دیتے ہیں۔ جن این جی اوز نے یہ راستے اختیار نہیں کیے وہ مسلسل ہر طرح کی ہراسمنٹ برداشت کر رہے ہیں۔ مبینہ طور پر اس میں جنسی ہراسانی بھی شامل ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں کے فیلڈ کے حضرات این جی اوز کے دفاتر میں مختلف معلومات لینے جاتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے اگر مرد ہو تو انٹرویو آدھے پونے گھنٹے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور جوابات دینے والی اگر خاتون ہو تو وہی انٹرویو آدھا دن چل جاتا ہے اور ایک سے زیادہ وزٹ کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ کچھ این جی اوز نے سیکیورٹی ایجنسی کے ان اہل کاروں کے رویے پر اعتراضات بھی کیے ہیں۔ ایسی این جی اوز کی درخواستیں پکی مسترد ہوتی ہیں۔

فارن فنڈنگ پر این جی اوز کا انحصار کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن این جی اوز کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ ملک کے اندر تو انسانی حقوق، تعلیم اور صحت کے لیے کوئی فنڈنگ بچتی ہی نہیں۔ ماضی قریب کی مثال لے لیں۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے امسال فروری میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سال 2018۔ 19 کے نظر ثانی شدہ بجٹ کے مطابق 68 فیصد یعنی 3.6 کھرب روپے صرف دفاع اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونے تھے۔ باقی 32 فیصد سے سارا ملک چلنا تھا۔ اس سے صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ اسی صورت حال کو قائم رکھنے کے لیے بولنے والوں کو دبانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 206 posts and counting.See all posts by salim-malik