غریبوں کے لئے ویزا بہت آسان ہے


\"saleem

یہ غریبوں کو خواہ مخواہ مایوسی پھیلانے کی عادت بھی ہوتی ہے۔ ورنہ سب کچھ اتنا برا بھی نہیں ہے۔ مثلاً ان کے لئے ڈی ایچ اے کا انٹری ویزا امریکہ کے ویزے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ اور صرف یہی نہیں ڈی ایچ اے کا ویزا امریکہ کے ویزے سے کہیں زیادہ اچھا اور زیادہ سہولتوں والا بھی ہوتا ہے۔ مثلاً امریکہ کا ویزا عام طور پر پہلی مرتبہ ہی ملٹی انٹری نہیں ملتا جب کہ ڈی ایچ اے کا ویزا غریبوں کو پہلی دفعہ ہی ملٹی انٹری مل سکتا ہے۔ امریکہ، اگر آپ بچوں کو ساتھ لے جانا چاہتے ہوں تو آپ کو ان کے بھی الگ الگ ویزے حاصل کرنے پڑتے ہیں جبکہ ڈی ایچ اے غریبوں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ اگر آپ کا اپنا ویزا لگ گیا ہے تو آپ کے بچے بھی آپ کے ساتھ بغیر کوئی فالتو دستاویز دکھائے داخل ہو سکتے ہیں۔ اور یقین مانیں یہ کوئی معمولی سہولت نہیں ہے۔

غریبوں کے لئے امریکہ کی نسبت ڈی ایچ اے کے ویزے میں ایک اور آسانی یہ رکھی گئی ہے کہ امریکہ کا ویزا ہر صورت آپ کو پہلے حاصل کرنا پڑتا ہے اور وھاں پہنچ کربالکل بھی نہیں ملتا جب کہ ڈی ایچ اے کے ویزے میں غریبوں کے لئے یہ سہولت موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس متعلقہ کاغذات یعنی قومی شناختی کارڈ وغیرہ موجود ہیں اور آپ ڈی ایچ اے داخلے کا مقصد اور اپنے میزبان کا ایڈریس اچھی طرح بتا سکتے ہیں تو عام طور پر وہیں گیٹ پر انٹری ویزا مل سکتا ہے۔ ہاں البتہ آپ کو قطار میں لگ کر انتظار کرنا پڑے گا جب متعلقہ سٹاف میسر ہو گا تو آپ کی طرف پوری توجہ دی جائے گی۔ بلکہ شاید ضرورت سے زیادہ ہی توجہ ملے گی۔ اگر آپ غریب ہیں تو یقیناً آپ کے لئے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہو گا۔ آپ میں اتنی صلاحیت تو پیدا ہو گئی ہو گی کہ حقارت بھری نظروں اور چند طنزیہ فقروں کو کھلے بندوں برداشت کر سکیں۔ اس کا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا ہوتا ہے کہ تم غریب ہو اور تم سے ہمیں چوری وغیرہ کا خطرہ رہتا ہے۔ ہاں البتہ یہ یاد رہے کہ گیٹ پر پہنچنے پر جو ویزہ ملتا ہے وہ سنگل انٹری ہوتا ہے۔ ہر اگلی مرتبہ آپ کو نئے سرے سے اس تمام تجربے سے گزرنا پڑے گا۔

اگر آپ غریب ہیں اور ڈی ایچ اے کا باقاعدہ ویزا چاہتے ہیں تو بھی پروسیس، آپ کی خوش قسمتی سے، امریکہ کے ویزے کی نسبت بہت ہی آسان ہے۔ بس آپ کی شناخت کو ٹھیک ثابت کرنے کے لئے چند عام کاغذات جیسے شناختی کارڈ وغیرہ چاہیئے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ڈی ایچ اے کے اندر سے ایک سپانسر لیٹر مل جائے تو کام بہت آسان ہو جائے گا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ٹیکس کے کاغذات، بنک کے کاغذات یا اپنے نوکری اور تنخواہ وغیرہ کی معلومات اور ان کے ثبوت، کچھ بھی نہیں دکھانا پڑتا اور آپ کو ڈی ایچ اے کا ملٹی انٹری اور ملٹی پرپز (multi-purpose) ویزہ مل جاتا ہے۔

لگے ہاتھوں ایک آخری بات: پاکستان کے غریبوں کی خوش قسمتی صرف ڈی ایچ اے کے آسان اور با سہولت ویزے تک محدود نہیں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خدا کی اس پسندیدہ دھرتی پر امیر لوگ موجود ہیں۔ جن کی خدمت کا فریضہ نبھا کر غریب لوگ اللہ کے بنائے ہوئے امیری اور غریبی کے نظام کو قائم اور دائم رکھ کر اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر جناب سردار محمد یعقوب خان نصر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار پارلیمینٹ کے ایک ذیلی فورم پر بھی کیا ہے۔ حسن اتفاق ہے کہ مودی بھی بھگوان کی طرف سے بھیجی ہوئی اسی قسم کی طبقاتی تقسیم پر زور دینے والے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک اور بات اس آخری سے بھی بڑھ کر ہے۔ مغربی افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک لائبیریا کے دارالحکومتی شہر منروویا میں امیر لوگوں کا ایک رہائشی علاقہ سنکور کہلاتا تھا۔ اس ٹاؤن کو گیٹ لگا کر اور ان پر چوکیدار کھڑے کر کے محفوظ بنایا گیا تھا۔ ان گیٹوں پر صبح صبح غریب لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں۔ یہ غریب لوگ سنکور میں رہنے والے امیر لوگوں کے گھریلو ملازمین تھے۔ اور ہر روز گیٹ پر اپنی شناخت ثابت کرتے اور اندر جانے کی اجازت پاتے تھے۔ بلا مقصد کسی غریب کو اندر جانے اجازت کم ہی ملتی تھی۔ 1995 میں جب لائبیریا میں فسادات شروع ہوئے اور غریب سڑکوں پر نکل آئے تو سب سے پہلے اسی گیٹوں والی امیر آبادی سنکور پر حملہ کیا گیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ غریب بعض اوقات بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے قائم کردہ امیری اور غریبی کے نظام کو قائم رکھنا ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik