عید کا فائدہ اٹھاتے جذبات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیشہ کی طرح اس چاند رات پر بھی بہت سے دوستوں کے ساتھ بیٹھنے اور گپ شپ لگانے کا موقع ملا۔ میرے اکثر دوست میرے کزنز ہی ہیں اور اکثر ہم عمر بھی ہیں۔ اکثر ہماری رات کو چائے پر ملاقات ہوتی ہے، علاقے کے ایک ڈھابا نما ہوٹل پر گھنٹوں بیٹھ کر ہم سیاسی، ملکی اور بین الاقوامی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ہمارے دوستوں میں ڈاکٹر، انجینئیر، لٹریچر اور سائنس، تقریبا ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں، تو گپ شپ کے دوران مختلف طرح کی رائے مل جاتی ہیں۔

اس دفعہ کچھ الگ دیکھنے کو ملا شاید نیا کچھ نہیں تھا لیکن عجیب ضرور تھا۔ کچھ کزنز ہم سے عمر میں بہت چھوٹے ہیں۔ کالج کے طالبعلم، ان کو بھی وقت دینا ضروری تھا۔ عید پڑھنے کے بعد جب چھوٹوں سے ملاقات ہوئی ان کے کچھ دوست بھی ساتھ موجود تھے کمرے میں کچھ دیر تو مبارک سماں تھا لیکن یہ سماں کچھ دیر ہی رہ سکا۔ تھوڑی ہی دیر میں مابائل فون اور کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 4 کالج کے طالب علم اپنی اپنی دوستوں کو واٹس ایپ پر ویڈیو کالز کرنے لگے۔ میں نے اٹھنا مناسب سمجھا لیکن ان کے یہ کہنے پر کہ چائے پی کے جائیں مجبوری میں بیٹھنا پڑا۔ ان کی گفتگو کا آغاز تو نارمل تھا لیکن ہولے ہولے وہ گفتگو رومینس میں بدلنے لگی۔

ح: ”میری جان عید کا گفٹ نہیں دو گی؟ “۔

شاید فون کی دوسری طرف محبت کے جذبات میں پاگل لڑکی نے کہا ہوگا ”کیا چاہیے میری جان کو“۔
ح: پیاری سی ’کس‘ ۔

شاید لڑکی نے ’کس‘ مانگنے پر ”نہیں ابھی نہیں بولا ہوگا“۔
ح: دو نا عید کا تحفہ سمجھ کر ایک پیاری سی ’کس‘ اور اپنی جان کو زور سے ’ہگ‘ کرو۔
اس کے بعد میں نے ”تھنک یو جان اممممماہ لو یو“ سنا۔ میں نے اب اٹھنا ضروری سمجھا۔

یو گائز کیری آن۔
ح: بیٹھیں نا۔
نہیں مجھے جانا ہے بعد میں آتا ہوں۔

وہاں سے واپس آنے کے بعد کافی دیر یہی سوچتا رہا کہ یہ سب تو وہ تھا جو میرے سامنے ہوا۔ یہ لوگ اکیلے میں کیسی باتیں کرتے ہوں گے؟ اور عید کا فائدہ اٹھاتے جذبات کتنی زندگیاں برباد کرتے ہوں گے؟ کتنے ایسے کم عمر لڑکے، لڑکیاں ان جذبات کو پیار سمجھ کر اپنا نقصان کرتے ہوں گے؟ غلط نہیں ’کس‘ کرنا غلط نہیں ’ہگ‘ مگر کیا یہ کرنے والوں کو اپنے مستقبل کا اندازہ ہے؟ کیا کالج کے بنائے ہوئے رشتے لمبے عرصے تک چلتے ہیں؟ شاید ان میں سے کچھ رشتے دیر پا ہوتے ہیں مگر اکثر وقت کے ساتھ ایک غلطی ایک بچگانی حرکت لگنے لگتے ہیں۔ اور یہی کہانیاں اکثر ایک نیا رنگ پکڑ کر اخباروں کی سرخیاں بن جاتی ہیں۔

کیا ان جذباتی جوان لڑکے لڑکیوں کو سمجھا کر روکا جا سکتا ہے؟ شاید ہاں یا شاید نہیں۔ کیونکہ آج کل اکثر خود کو زیادہ سمجھدار سمجھتے ہیں۔ اور اکثر صرف اس وجہ سے سمجھا نہیں پاتے کہ کوئی چھوٹا ان کو یہ نہ کہہ دے کے یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ارسلان احمد اعوان کی دیگر تحریریں
محمد ارسلان احمد اعوان کی دیگر تحریریں