ووٹ کو عزت دو
میرے ووٹ کو عزت دو یہ کہنے میں بھی اچھا لگتا ہے اور سننے سے دل بھی خوش ہو جاتا ہے بشرطیکہ آپ کو اس کا مطلب اور اہمیت کا علم ہو۔ ہمارے ملک میں جتنے بھی سیاست دان آئے سب نے کسی نہ کسی شکل میں یہ نعرہ لگایا لیکن سب ناکام رہے کیوں کہ ان میں سے کسی نے بھی ووٹ کی طاقت اور اس کی قیمت کا قوم کو نہیں بتایا، جب تک ووٹ کی قیمت اور اہمیت لوگوں کو نہیں بتائی جائے گی تب تک وہ اس کی حفاظت نہیں کریں گے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ 70 سے 80 فیصد لوگوں کو یہ ہی نہیں پتا کہ ہم ووٹ کس کو دے رہے ہیں اور ہمارے ووٹ دینے سے کیا ہو گا۔
ووٹ کو عزت اس وقت ہی دی جا سکتی ہے جب سب اپنے اپنے ووٹ کی خود حفاظت کریں اور یہ اس وقت ہو گا جب لوگوں کو اس کی اہمیت اور قیمت پتا چلے گی کیوں کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی قیمت اور اہمیت جان کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا استعمال کیسے کیا جائے اور کیسے اس کو محفوظ رکھا جائے۔ لوگوں کے اندر جمہوریت کا جذبہ اور ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان اسٹیبلشمنٹ کو ہو گا کیوں کہ ان کی بادشاہت ہماری جاہلیت سے جڑی ہوئی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کا پچھلے 70 سالوں سے ایک ہی طریقہ واردات رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ سیاستدان کو برا بنا کر پیش کیا اور اس عمل میں میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ سیاستدان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی اور آج بھی ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں اس مسئلہ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور پھر جب اسٹیبلشمنٹ اپنا وہی پرانا ہتھیار سامنے لاتی ہے تو پھر ایک دم شور اٹھتا ہے کبھی اختیارات کا اور کبھی ووٹ کی عزت کا اور اٹھایا ان کے سامنے جاتا ہے جن کو یہ ہی نہیں پتا کہ میرے ووٹ سے ہوتا کیا ہے۔
اس چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پھر میڈیا کا سہارا لے کر عوام کے ذہنوں کو اس بات پہ آمادہ کر دیتی ہے کہ یہ چور، کرپٹ، غدار اور کافر ہے پھر اس کے بعد ہم ایک سیاست دان سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے ایک دوست میرے سامنے بیٹھ کر نواز شریف کو چور ڈاکو اور نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا جب وہ اپنی گردان ختم کر چکا تو میں نے اس سے پوچھا ”بھائی یہ بتاؤ وزیراعظم کیسے بنتا ہے؟ “ میرا یہ سوال پوچھنا تھا کہ وہ چپ ہو گیا اور کہنے لگا مجھے نہیں پتا، اب ایسے لوگوں کے سامنے ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگانا یا جمہوریت کی بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کو دیوتا سمجھنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ہم بحیثیت قوم دو حصوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں اب بھی اگر طاقتور حلقوں کی جانب سے ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو یہ تفریق ہماری آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جائے گی۔آپ اپنے پاؤ گوشت کے لیے ہماری پوری گائے نہ ذبح کرو۔


