ہٹلر کے نازی جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی ایذا رسانی


ہٹلر کی نازی حکومت میں ایک طرف مردانہ ہم جنس پرستی کو ضابطہ فوجداری کے پیراگراف نمبر 175 کے تحت وائمر جرمنی میں غیر قانونی قرار دیا جاتا تھا، دوسری طرف جرمن ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سرگرم کارکن ہم جنس پرستی کی مذمت کرنے والے سماجی رویوں کو ٹھیک کرنے کی کوششوں کی بدولت دنیا بھر میں اس میدان کے راہنماؤں کی حیثیت سے دیکھے جانے لگے۔

جرمنی میں بہت لوگ ایسے تھے جو ہم جنس پرستوں کی طرف جمہوری وائمر کی رواداری کو جرمنی کے انحطاط کی علامت سمجھتے تھے. نسلی جنگ جیتنے کی غرض سے نازیوں نے اپنے آپ کو دین کیلئے لڑنے والوں کے طور پر ظاہر کیا جو جرمنی سے ہم جنس پرستی کی “بدی” کو اکھاڑنا چاہتے تھے۔ 1933ء میں اقتدار سنبھالنے پر نازیوں نے جرمن مردانہ ہم جنس پرستوں کی ایذا رسائی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا۔ اس ایذا رسانی کی زد ہم جنس پرستی کی تنظیموں کی تحلیل سے حراستی کیمپوں میں قید رکھنے تک تھی۔

نازیوں کا خیال تھا کہ ہم جنس پرست مرد ضعیف، بزدل (زنانہ مرد) ہوتے ہیں جو جرمن قوم کے لئے لڑنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ وہ ہم جنس پرستوں کو بچے یدا کرنے اور جرمن پیدائشی شرح ميں اضافہ کرنے کے ناقابل ہونے کی نظر سے دیکھتے تھے۔ نازیوں کے مطابق ادنیٰ نسلیں “آرین” لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں لہذا جو کچھ بھی جرمنی کی صلاحیت تولید کو گھٹائے، اس کو نسلی برتری کے لئے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔

ایس ایس کے سربراہ ہائینرش ہملر نے تھرڈ ریخ میں ہم جنس پرستوں کی ایذا رسانی کو بڑھانے کی ہدایت کی۔ زنانہ ہم جنس پرستوں کو نازی نسلی پالیسیوں کے لئے خطرہ نہیں سمجھا جاتا تھا اور انکو ایذا رسانی کا شکار نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح، نازیوں نے عام طور پر غیر جرمن ہم جنس پرستوں کو ایذا رسانی کا نشانہ نہیں بنایا جب تک کہ کسی جرمن پارٹنر کے ساتھ ملوث نہ ہو۔ بیشتر حالات میں نازی سابق ہم جنس پرستوں کو “نسلی کمیونٹی” میں قبول کرنے کے لئے تیار تھے بشرطیکہ انہیں “نسلی آگہی” حاصل ہو اور اپنے پرانے طرز حیات کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں۔

6  مئی، 1933ء کو اسٹارم ٹروپر کی قیادت کے تحت طالب علموں نے برلن میں جنسی سائنس کے ادارے میں گھس کر اس کی منفرد لائبریری کو بحق سرکار ضربط کر لیا۔ چار دن بعد، اس مجموعے کی بیشتر کتابوں، تقریبا 12 ہزار کتب اور بے بدل 35 ہزار تصویروں کو دیگر ادب کے “انحطاطی” کاموں کے ساتھ برلن کے وسط میں جلا دیا گیا۔ باقی مواد کو دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت ادارے کے بانی میگنس ہیرشفیلڈ جو کہ انسانی جنسی کشش کے علمی مطالعہ کے پہل کار تھے، فرانس میں لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے جرمنی واپس نہ لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

سائنسی ادارے کی تباہی جرمنی سے مردانہ یا زنانہ ہم جنس پرستی کی ثقافت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم تھا۔ پولیس نے “ایلڈوراڈو” جیسے کلب اور بار بند کر دیے اور Die Freundschaft  (دوستی) جیسی مطبوعات پر پابندی عائد کردی۔ اس ابتدائی مرحلے میں نازیوں نے ہم جنس پرستوں کو زير زمین جانے پر مجبور کر دیا اور ان کے معاونتی نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔ 1934ء میں گسٹاپو (خفیہ پولیس) نے مقامی پولیس فورسز کو ہم جنس پرست سرگرمیوں میں مشغول تمام مردوں کی فہرست رکھنے کی ہدایت کی۔ در حقیقت جرمنی کے کئی حصوں میں پولیس ایسا کرتی آئی تھی۔ نازیوں نے پولیس کی کارروائی کے دوران ہم جنس پرستوں کو تلاش کرنے کے لئے ان “گلابی فہرستوں” کا استعمال کیا۔

28  جون، 1935ء کو وزارت انصاف نے پیراگراف نمبر 175 پر نظر ثانی کی۔ نظر ثانی کے مطابق ہم جنس پرستوں کے خلاف عدالتی کاروائی بڑھانے کے لئے قانونی بنیاد کی ضرورت ہے۔ وزارت کے حکام نے “مردوں کے درمیان فحش سرگرمیوں” کے زمرے کو بڑھا کر اس میں ایسے کسی قسم کے اعمال کو شامل کیا جس سے ہم جنس پرستی کا مفہوم لیا جا سکتا ہو۔ بعد میں عدالتوں نے بھی فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں نیت یا سوچ بھی کافی ہے۔

26 اکتوبر، 1936ء کو ہملر نے سکیورٹی پولیس کے اندر ریخ سینٹرل آفس برائے مخالفت اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی قائم کیا۔ جوزف مائیسنگر نے، جسے مقبوضہ پولینڈ میں اس کی سفاکیت کے سبب بھانسی دی گئی، یہ نیا عہدہ سنبھالا۔ پولیس کے اختیار میں یہ بات تھی کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو حفاظتی حراست میں لے لے یا احتیاطی طور پر گرفتار کر لے جس کو جرمنی کے اخلاقی تاروپود کے لئے خطرہ سمجھا جائے، اور کسی کو بھی — بنا مقدمے– عمر بھر قید میں رکھا جائے۔ علاوہ ازیں، حال ہی میں جیل سے نکالنے والے ہم جنس پرست قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے حراستی کیمپ میں بھیج دیا جاتا اگر پولیس کو شک ہوتا کہ وہ ہم جنس پرستی کے اعمال جاری رکھ رہے ہیں۔

1937ء تا 1939ء کے دوران ہم جنس پرستوں کے خلاف نازیوں کی ایذا رسائی بے حد بڑھ گئی۔ پولیس نے ہم جنس پرستوں کی شناخت اور ان کو گرفتار کرنے کے لئے ہم جنس پرستوں کے ملنے کی جگہوں پر متواتر چھاپے مارے، ایڈریس بکس ضبط کیں اور جاسوسوں اور خفیہ ایجنٹوں کا نیٹ ورک بنایا۔ 4 اپریل، 1938ء میں گسٹاپو نے قانون جاری کیا جس کے تحت ہم جنس پرستی کے الزام میں مجرم قرار دیے جانے والے مردوں کو حراستی کیمپوں میں قید کیا جا سکتا تھا۔ 1933ء اور 1945ء کے درمیان پولیس نے تقریبا 100000 مردوں کو ہم جنس پرستی کےالزام میں گرفتار کیا۔ عدالت کے ذریعے سنائی جانے والی سزا کے حامل بیشتر 50000 مردوں نے باقاعدہ جیلوں میں سزا کاٹی اور 5000 سے 15000 تک نے باقی زندگی حراستی کیمپوں میں گزاری۔

جنوری 1933ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد نازیوں نے کچھ ہم جنس پرستوں کو حراستی کیمپ میں قید کر دیا۔ وہ قیدی جرمن معاشرے کے تمام شعبوں سے وابستہ تھے، اور ان کے قید ہونے کی وجہ ایک ہی تھی۔ بعض ہم جنس پرستوں کو غلطی سے دیگر زمروں میں قید کیا جاتا تھا اور نازی بعض سیاسی قیدیوں کو جان بوجھ کر بطور ہم جنس پرست قید کرتے تھے۔ ہم جنس پرستی کی دلالت کرنے کے لئے قیدیوں کو گلابی تکونوں سے نشان زد کیا جاتا تھااور کیمپوں میں ان کے ساتھ سختی کا سلوک کیا جاتا تھا۔ زندہ بچ جانے والوں کے بیان کے مطابق کیمپوں میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ سب سے زیادہ بدسلوکی کی جاتی تھی۔

چونکہ نازی، ہم جنس پرستی کو بیماری سمجھتے تھے جس کا علاج ممکن تھا، اس لئے انہوں نے ایک ایسی پولیس فورس بنائی جو ذلت اور مشقت کی ذریعے ہم جنس پرستوں کو ان کی “بیماری” سے “نجات” دلاتے تھے۔ ہم جنس پرستی کے قیدیوں کو جیل پہنچنے پر مارا جاتا تھا اور ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور دیگر خانوں سے اکثر الگ رکھا جاتا تھا۔ روڈولف ہوئس، آشوٹز کیمپ کے کمان دار، نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ قیدیوں اور گارڈز میں ہم جنس پرستی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہم جنس پرستوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جاتا تھا۔ ڈورا مٹلباؤ کی زیر زمین راکٹ فیکٹری یا فلوزنبرگ اور بوخنوالڈ میں پتھر کی کانوں میں کام کے ذمہ دار عملے، ہم جنس پرستوں کو اکثر جان لیوا کام سونپا کرتے تھے۔

کیمپوں میں بقا نے کئی صورتیں اختیار کیں۔ بعض ہم جنس پرست قیدیوں نے انتظامی اور دفتری ملازمتیں حاصل کیں۔ دیگر قیدیوں کے لئے جنسی کشش بقا کا ذریعہ بن گیا۔ جنسی عنایت کے بدلے میں بعض جیلر کسی مخصوص قیدی کی حمایت کرتے تھے جو عام طور پر عمر میں چھوٹا ہوتا تھا، اس کو زیادہ کھانا دیتے اور دیگر قیدیوں کی زیادتی سے اسے بچاتے۔ امدادی نیٹ ورک میں کمی کے باعث کبھی کبھار ہم جنس پرست خود نگران بن جاتے تھے۔ نگران کی حمایت، گارڈز کی سفاکیت کے خلاف تو البتہ نہیں تھی۔ کسی بھی صورت میں کسی فرد سے تنگ آنے پر جیلر اسے قتل کرکے اگلے ٹرانسپورٹ پر دیگر شخص ڈھونڈ لیتا تھا۔ حالانکہ ہم جنس پرست قیدی انفرادی طور پر کسی نہ کسی طرح حمایت کا انتظام کر لیتے تھے مگر ہم جنس پرست قیدی کے گروہ کو وہ امدادی نیٹ ورک حاصل نہیں تھا جو دیگر گروہوں کو حاصل تھا۔ اس ایذا کو کم کرنے میں کسی کی معاونت کے بغیر ہم جنس پرست قیدی زيادہ زندہ نہیں رہتے تھے۔

بعض ہم جنس پرستوں کے لئے بقا کی ایک راہ کیسٹریشن (خصی کرنا) تھی، جس کو فوجداری عدالتی حکام نے جنسی انحراف کے “علاج” کے طور پر پیش کیا۔ حراستی کیمپ یا فوجداری مقدمات میں ہم جنس پرست مدعا علیہ کمتر سزا کے بدلے میں کیسٹریشن (خصی کرنا) قبول کرسکتے تھے۔ بعد میں، جج اور ایس ایس کیمپ کے حکام، ہم جنس پرست قیدی کی منظوری کے بغیر خصی کرنے کا حکم دے سکتے تھے۔

ہم جنس پرستی کے لئے “علاج” تلاش کرنے کے شوقین نازیوں نے اس پروگرام کو بڑھانے کے لئے اس میں حراستی کیمپ کے ہم جنس پرست قیدیوں پر طبی تجربے کرنا بھی شامل کیے۔ ان تجربوں کے باعث بیماری، قطع اعضا اور موت بھی ہوسکتی تھی اور نتیجے میں سائنسی علم کا حصول ہرگز ممکن نہیں تھا۔

نازیوں کے عقوبت خانوں میں جاں بحق ہونے والے ہم جنس پرستوں کی تعداد کے قطعی اعداد وشمار کبھی معلوم نہیں ہو سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).