حکمرانوں کے ”بچے سقے“ اور نعشوں کی بے حرمتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملزم کو پھانسی کا پھندا پورا نہیں آرہا تھا۔ دربار سے دوبارہ رابطے پر حکم پہنچا۔ ”شاہی حکم کی تعمیل لازم ہے۔ پھانسی چڑھانے کے لئے کوئی اور بندہ ڈھونڈ لیا جائے“۔ ایک اور بندہ ڈھونڈ کر مہاراجہ کے حضور لایا گیا۔ نو گرفتار پوچھنے لگا۔ ”میرا قصور کیا ہے؟ میں بے گناہ ہوں“۔ اسے بتایا گیا۔ ” مہاراجہ گنہگار کی طرح کسی بے گناہ کو بھی پھانسی دینے کا پورا اختیار رکھتے ہیں“۔ مطلق العنان بادشاہت اسی کا نام ہے۔ علم سیاسیات کے ماہرین اقتدار اعلیٰ کو خدائی کی طرح ہی ناقابل تقسیم اور ناقابل انتقال لکھتے ہیں۔ ساقی فاروقی اسی جانب اشارہ کر کے مزے لے رہے ہیں۔

ہم وہ عاجز ہیں کہ ہر روز دعا مانگتے ہیں

اور اک تم کہ خدائی نہیں دیتے ہم کو

انسانیت کا جمہوریت تک سفر بہت لمبا ہے۔ مہذب ملکوں میں اب بادشاہت کو جمہوری قبا پہنا دی گئی ہے۔ منتخب صدر اور وزیر اعظم بادشاہوں اور مہاراجوں کی طرح لامحدود اختیارات نہیں رکھتے۔ ان کے صوابدیدی اختیارات بھی بہت سی حدود و قیود کے پابند ہیں۔ اگرچہ آج عدالتیں کسی” بچہ سقہ“ کو آٹھ پہر کی بادشاہت بخشنے سے حکمرانوں کو روک دیتی ہیں۔ پھر بھی عدالتوں تک کبھی رسائی اورکبھی شنوائی نہ ہونے کے باعث ہمارے حکمران اکثر یہ گل کھلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایک کرپٹ معاشرے میں تبدیلی کا نعرہ روٹی، کپڑا، مکان کے نعرے سے بڑا نعرہ تھا۔ لیکن عمران خان کے حصے میں جو کارکن آئے وہ بھٹو کے جیالوں سے بہت پیچھے ہیں۔ بہت سے لوگ عمران خان کے کارواں میں کسی نظریے کی بجائے محض  Adjustment کے چکر میں پہنچے تھے۔

اک دوسرے کے پاس ضرورت سے آئے ہیں

اور یہ بتا رہے ہیں، محبت سے آئے ہیں

عمران خان ریاست مدینہ والی تبدیلی لانے کے دعویدار ہیں۔ ریاست مدینہ کی سادگی آج خواب و خیال لگتی ہے۔ غیرمعمولی وسیع و عریض شاہی محلات اس زمانہ میں بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن حضور کے حجرہ مبارک کا سائز 30x10x10 تھا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی تبدیلی کے سفر کا زادراہ دیسی مرغی، منرل واٹر کی بوتل اور سواری کے لئے لینڈ کروزر گاڑی طے ہے۔ انتخابی ٹکٹوں تک عمران خان کو یہ رعایت دینا ممکن تھا کہ وہ مقبولیت کی ان بلندیوں پر نہیں تھے کہ ان کے نامزد کھمبے بھی جیت جاتے۔ جیسا کہ 1970ء کے الیکشن میں بھٹو کے غیر معروف، کمزور مالی اور سماجی حیثیت والے امیدوار بھی جیت گئے تھے۔

اسی کمزوری کے باعث عمران خان کو الیکٹ ایبلز اکٹھے کرنے کے لئے کئی کمپرومائز کرنے پڑے۔ ملک میں تبدیلی لانے کے لئے اختیار و اقتدار لازم ہے۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد افسروں کے انتخاب اور اداروں میں سیاسی تقرریوں پر انہیں کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ یہ انتخاب اور تقرریاں حکمرانوں کو ننگا کرکے رکھ دیتی ہیں۔ رانا شمشاد احمد خاں مرحوم بتا رہے تھے۔ ”2013 کا الیکشن جیتنے کے بعد ہم چند ہم خیال ن لیگی ممبران صوبائی اسمبلی کھانے پر اکٹھے ہوئے۔ وہاں میاں برادران کا آئندہ حکومتی رویہ زیر بحث  رہا کہ ان دنوں ن لیگ الیکشن جیت کر حکومت بنانے کوتیار بیٹھی تھی۔ ایک صاحب بولے۔ ن لیگ کا آئندہ حکومتی ناک نقشہ صرف ان کے ایک فیصلے سے واضح ہو جائے گا کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد ذو الفقار علی چیمہ کو آئی جی پنجاب مقرر کرتے ہیں کہ نہیں۔” ذوالفقار چیمہ ایک ایماندار، فرض شناس، بہادر اور میرٹ پر فیصلہ کرنے والے پولیس افسر تھے۔ وہ اس سے پہلے نوشہرہ ورکاں کے قومی اسمبلی کے حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ن لیگی امیدوار کی غیر قانونی امداد سے انکار کر چکے تھے۔ اس طرح اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کا امیدوار جیت گیا تھا۔ ایسے با اصول افسران کو بے اصول حکمران کبھی قبول نہیں کرتے۔ اس طرح یہ قیاس آرائی بڑی جاندار تھی کہ آئی جی پنجاب کی تقرری سے حکمرانوں کا سارا پول کھل جائے گا“۔

تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے ہوئے ابھی ایک برس پورا نہیں ہوا لیکن مزے کی بات ہے کہ ابھی تک ان کی کل کارکردگی سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نااہلیت کرپشن سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ ہمارا تخت لہورکسی سرکش گھوڑے کی طرح کبھی کسی کمزور سوار کو پٹھے پر ہاتھ دھرنے نہیں دیتا۔ عوام کی کھلی آنکھوں کے باعث ماحولیات کی وزیر مملکت زرتاج گل کی اپنی بڑی بہن سمیت خوب جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ادھر ہمارے پنجاب کے ارباب اختیار قوالی اور ترجمانی میں فرق نہیں سمجھ رہے۔ 39 بندوں کا طائفہ قوالی کے لئے بھی موزوں نہیں ہوتا۔ اتنے بندے صرف ہلڑ بازی کر سکتے ہیں۔ یہ حکومت پنجاب کی ترجمانی کیا کریں گے ؟

پھر اربوں روپے بجٹ والا پنجاب کا ایک اہم تربیتی ادارہ جہاں ہر سال ایک لاکھ کارکن پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، کا معاملہ آتا ہے۔ اس ادارہ میں پنجاب بھر میں بیس گریڈ کے افسران سمیت بارہ ہزار کے لگ بھگ ملازم ہیں۔ عمران خان کے ہاں قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ اس ادارہ کی چیئرمین شپ کے لئے تحریک انصاف بمشکل 33 برس کا ناتجربہ کار، بی اے پاس نوجوان ہی دے سکی ہے۔ اس نوجوان نے ایک دن کے لئے کسی کی نوکری نہیں کی۔ ایک دن کے لئے کسی کو نوکر نہیں رکھا۔ اوپر سے یہ ادارہ اتنا زرخیز ہے کہ پہلے ن لیگی ذمہ داران کے ابھی تک نیب میں بلاوے ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔ ملک بھر میں مہنگائی قحط کو چھو رہی ہے۔ عوام آج یہ سوچنے پر مجبورہو گئے ہیں کہ پہلے حکمران مارنے کے بعد کم از کم نعشوں کی بے حرمتی نہیں کیا کرتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •