چیرمین چُمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بابا جی نے ایک لڑکی کو چھیڑا تو لڑکی بولی ”کچھ تو شرم کرو بڈھے، قبر میں تمھاری ٹانگیں ہیں“۔ بابا جی نے جواب دیا ”تو کیا ہوا، منہ تو باہر ہی ہے نا“۔ ایک بابا جی نے اسی سال کی عمر میں ایک جوان لڑکی سے شادی کا پروگرام بنایا۔ ایک عزیز نے مشورہ دیا کہ اس عمر میں شادی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ بابا جی نے کہا ”مجھے کوئی پرواہ نہیں، مرتی ہے تو مرنے دو“۔ ایک بابا جی تیار ہو کر گھر سے باہر جانے لگے تو بیگم نے پوچھا ”کہاں جا رہے ہو“۔ جواب آیا کہ گراونڈ میں کتوں کی ریس ہے وہاں جا رہا ہوں۔ بیگم جھٹ سے بولی ”چلا ٹھیک سے جاتا نہیں اور جا رہے ہیں ریس لگانے“۔

ایک بابا جی کسی دور دراز گاؤں میں چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے چھیڑ خانی کرتے پکڑے گئے۔ لوگوں نے گنجا کر کے گدھے پر بٹھایا اور پورے گاؤں کا چکر لگوا کر گاؤں سے نکال دیا۔ واپس اپنے گاؤں پہنچنے پر لوگوں نے گنجا ہونے کی وجہ پوچھی تو بولے ”میں عمرہ کر کے آیا ہوں“۔ ایک سنی سنائی بات ہے کہ ایک بڑی عمر کے وزیر صاحب کسی لڑکیوں کے کالج میں بطور مہمان خصوصی تشریف لے گئے۔ استانیوں سے ملاقات کے دوران جیب سے ایک محبت نامہ یعنی کے لو لیٹر نکال کر ایک استانی کو تھما دیا۔ استانی نے کھول کر پڑھا تو شدید غصے سے وزیر صاحب کی طرف دیکھا۔ وزیر صاحب بولے ”پسند نہیں آیا تو اگلی استانی کو پکڑا دو“۔ ایک بہت بڑی عمر کے بابا جی نے ایک عورت سے اپنے رشتے کی بات کی، تو عورت نے جل بُھن کر جواب دیا ”اس عمر میں رشتے نہیں دیکھتے، بلکہ قبروں کے ڈیزائن دیکھتے ہیں“۔

اب کی بار جو اسکینڈل سامنے آیا ہے اس پر انور صاحب کا ایک شعر یاد آ گیا!
لوگ تو رہتے ہیں ہر لمحے ٹوہ میں ایسی باتوں کی
پیار محبت کے ہیں دشمن دل کے ایسے کالے ہیں
دیکھیے کچھ محتاط ہی رہیے اس جاسوس زمانے سے
میں بھی بچوں والی ہوں اور آپ بھی بچوں والے ہیں

خیر ایک بات پر بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے ہاں جگہ کی دستیابی کے مسائل صرف ہم غریبوں کو ہی نہیں، بلکہ بڑے بڑے لوگ اس مسئلے کا شکار ہیں۔ ورنہ کون اتنی حساس کرسی پر بیٹھ کر اور حساس آفس کے پر تکلف حصار کے اندر ”انگ انگ پھڑکے میرا“ والا ماحول بنا سکتا ہے؟ ہمیں تو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جو شدتِ گرمائش پھڑکی ہے یہ بیوقوفی ہے یا پھر ”جب پیار کیا تو ڈرنا کیا“ والا سین ہے۔ ورنہ ہم تو ایسے ماحول میں بیٹھ کر ”چُما چُما دے دے“ والا گانا بھی نہیں سن سکتے اور موصوف نے پورا چُموں کا چمن مانگ لیا۔ وہ بھی سر کی جوؤں سے لے کر پیروں کی میل تک۔ فاعل کا پاؤں سے سر تک والا قاتلانہ اندازِ بیاں سن کر تو مفعول کے سر کی جوئیں بھی آپس میں رومینٹک ہو گئی ہوں گی۔

اس آڈیو اور وڈیو کے آنے کے بعد تو اور بھی بہت سی اہم شخصیات شش و پنج میں پڑ گئی ہوں گی، کہ کہیں ان کے عمران ہاشمی والے کرتوت بھی ریکارڈ کا حصہ نہ بن چکے ہوں۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے اور اگر کسی کے طرزِ عمل میں بدلاؤ دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ موصوف کہیں نہ کہیں اپنا عمران ہاشمی آزما چکے ہیں۔ اور اگر کسی نے نیا نیا تسبیح، لوٹے اور مصلے سے رجوع کیا ہے تو سمجھ جائیں کہ بندہ اس کیفیت میں ہے کہ ”یا اللہ ایک بار بچا لے آئندہ تو میرے باپ کی بھی توبہ“۔ جیسے محلے میں کوئی ایک ہارٹ اٹیک سے مر جائے تو آدھا محلہ جاگنگ اور پرہیزی کھانا شروع کر دیتا ہے، مگر پھر آہستہ آہستہ بد پرہیزی کے مزیدار حصار میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح اب بہت سے حضرات اپنے ارد گرد کی خواتین کو باجی والی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ مگر مرد تو پھر مرد ہیں۔ زرہ یہ قصہ پرانا ہو لے تو دوبارہ عورتوں کو چھیڑ کر ”باجی ڈر گئی، باجی ڈر گئی“ والی حکمتِ عملی اختیار کر لیں گے۔

مردوں کی ان غیر نصابی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے صرف بیویاں یعنی کے عورتیں ہی اچھی لگتی ہیں۔ اب اگر کوئی پھنے خان اس طرح کی پھپھے کٹنی والی حرکتیں کر کے کسی کو کوئی نقصان پہنچا بھی لے، تو یہ کوئی مردانگی تو نہ ہوئی۔ یہ تو سراسر زنانگی بلکہ کُھسرانگی کی علامت ہے۔ مرد کے بچے بنو اور مردانہ وار لڑو نہ کہ کُھسرانہ وار۔ شاید میں اس درمیانی جنس کی بھی توہین کر رہا ہوں۔ اتنا تو وہ کبھی نہ گریں۔ اتنے حساس دفتر میں بیٹھ کر ایسے مشاغل جہاں ایک طرف غیر اخلاقی اور بچگانہ حرکت ہے، وہیں کسی کے ذاتی مشاغل کو فلما لینا بھی انتہائی نچلے درجے کا عمل ہے۔

خیر سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں فریقین نے چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک کو عقل سے کام لینا چاہیے کہ وہ محفوظ جگہ کی دستیابی کو ملحوظِ خاطر رکھے۔ اور دوسرا اتنا ظرف اور جرات پیدا کرے کہ وہ لڑائی اور انتقام لینے میں اس حد تک نہ گِرے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ریکارڈ کرنے والے کا کوئی ذاتی چکر بھی ہو اور اس نے سوچا ہو کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔

ایک اور لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک مولوی صاحب نے کسی سے ملاقات کا وقت اور جگہ طے کر لیا۔ مولوی صاحب مقررہ وقت پر اس مقام پر تشریف لے گئے۔ کافی دیر انتظار کے بعد مایوسی اور غصے کے عالم میں واپس آے اور لاؤڈ سپیکر اٹھا کر اعلان کیا ”حضرات، چنگی نہیں کیتی“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •