کیا چین نے ساری ترقی علمی سرقے کی بنیاد پر کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیونارڈو ڈا ونچی پندرویں صدی میں پیدا ہوا۔ لیونارڈو بیک وقت ایک مصور، آرکیٹیکٹ، ریاضی دان، موسیقار، ماہرِ فلکیات اور مجسمہ ساز بھی تھا لیکن وجہِ شہرت اس کی مصوری ہی بنی۔ فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے اسے معلوم انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مصور مانتے ہیں۔ یعنی کہ پچھلی 5 صدیوں میں ہونے والی تمام تر ترقی، اعلیٰ ترین نصاب اور جدید آرٹ سکولز کے باوجود دنیا لیونارڈو سے بڑا مصور پیدا نہیں کر سکی۔

ارسطو تقریباً چار سو قبلِ مسیح میں پیدا ہونے والا یونانی فلاسفر تھا۔ ارسطو نے طبعیات، نباتات اور حیاتیات پر بے شمار کتابیں تحریر کیں ہیں جو بہت عرصہ تک دنیا میں پڑھائی جاتیں رہیں۔ ارسطو کو مرے تقریباً اڑھائی سو صدیاں گزر چکیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک پانچویں کلاس کے بچے کا سائنس کا علم نہ صرف ارسطو سے زیادہ ہے بلکہ ارسطو کے پیش کردہ بہت سارے نظریات وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہو چکے ہیں۔

سائنس اور فنونِ لطیفہ میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ سائنس میں ہر آنے والی نسل کے پاس اپنے سے پہلی نسلوں سے زیادہ علم ہوتا ہے اور اس کی بڑی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ نئی ایجادات یا تھیوریز کی بنیاد پہلے کی گئی ریسرچ کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ جبکہ فنونِ لطیفہ میں چند بنیادی اصول و ضوابط کے علاؤہ کوئی لگا بندھا اصول ہے ہی نہیں۔

جیسے مسلمانوں نے پہلے یونانی سائنسی مقالہ جات اور کتب کا ترجمہ کیا پھر اپنے علم اور تحقیقات کی بنیاد پر اس میں کچھ اضافہ کیا۔ پھر یہی کتابیں یورپ گئیں انگریزی میں ترجمے ہوئے، یورپین نے ان سائنسی علوم کو مزید ترقی دی۔ پھر امریکہ تقریباً 80 سال تک سائنس کی دنیا میں چھایا رہا۔ اب یہ میدان چین کے ہاتھ ہے۔ 2016 سے چینی سائنسدانوں کے سب سے زیادہ سالانہ سائنٹیفک ریسرچ پیپرز شائع ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2016 میں چین کے سوا چار لاکھ سے زیادہ سائنٹیفک پیپرز شائع ہوئے جو دنیا بھر میں شائع ہونے والے کل پیپرز کا 18 فیصد بنتا ہے۔

اب اصول بہت سادہ ہے کیونکہ سائنس میں ہونے والی تمام تر ترقی پہلے سے موجود علم کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے کوئی بھی قوم اگر سائنسی علوم میں مہارت حاصل کرنے اور دوسری قوموں کو اس میدان میں پیچھے چھوڑنے کا ارادہ کر لے تو اس کے لیے میدان کھلا ہے۔ پچھلے دو ہزار سال کی انسانی تاریخ اس کی گواہ ہے۔

جس طریقہ کار کو اختیار کر کے یورپینز اور امریکہ نے ترقی کی آج وہی طریقہ کار چین نے اپنالیا۔ چین پر ٹیکنالوجی کے راز چوری کرنے الزام ایسے ہی ہے جیسے اگر کسی ملک نے موبائل یا گاڑی بنا لی تو اب دنیا میں کوئی دوسرا ملک نہ یہ چیزیں بنا سکتا ہے اور نہ ان میں بہتری لا سکتا ہے۔ اگر دوسری قوموں کا بھی یہی علمی رویہ ہوتا تو شاید آج ہماری زندگیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے جو آسانیاں ہو کبھی ممکن نہ ہو پاتیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •