سموئیل کو اپنے ہی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے کچھ ایسے لوگوں سے انٹرویو کرنا تھا جو عورتوں کی جنسی زیادتی کے مرتکب رہے ہوں۔ سموئیل نے اخبار میں ایک عجیب اشتہار دیا۔
”کیا آپ ایک ریپسٹ ہیں؟ ایک ریسرچر آپ کو آپ کی شناخت خفیہ رکھ کر ایک انٹرویو کرنا ہے۔ اس نمبر پر کال کریں۔ سموئیل“
سموئیل حیرت زدہ رہ گیا جب اسے دو سو کے قریب کالز سننی پڑیں۔ اس نے پچاس لوگوں کو منتخب کر کے انٹرویوز کیے اور اپنا مقالہ مکمل کیا۔ سموئیل ایسی عادت و اطوار معلوم کرنا چاہتا تھا جو جنسی مجرموں کے درمیان مشترکہ ہوں اور وہ کوئی ایسا ماڈل بنا سکے جس کی مدد سے ایسے لوگوں کی بروقت پہچان ہو سکے تاکہ ایسے جرائم کم سے کم ہوں۔ آنے والے کہیں سالوں تک یہ سموئیل کا پیپر اس موضوع پر ہونے والی تحقیق کا بنیادی ماخذ بنا رہا۔ سال ہا سال کی ریسرچ کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں ان نتائج کے دو پہلو پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کے سماجی رویے میں ہونے والے بگاڑ کا پتہ دیتے ہیں۔
Read more