ایک لڑکے کی کربناک الجھن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے لگا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جانے کی وجہ سے شرمندہ ہے اس لیے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے بھی اسے کبھی روک کر نہ پوچھا کہ وہ مجھ سے گریزاں کیوں ہے۔ بدقسمتی سے میں نے بھی اس کے دکھ تکلیف اور پریشانی کو سمجھنے کو کوشش ہی نہ کی۔ شاہزیب مجھ سے مانوس تھا مگر میں بے حس انسان نکلا۔ میں اس کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار شخصیت کو سہارا نہ دے دے سکا۔ اب شاہزیب کبھی میرے پاس نہیں آتا تھا۔ شاہزیب کے ابا سے اکثر اس کی تعلیم کے بارے بات ہوتی رہتی تھی وہ بڑے مطمعن تھے۔ ۔ ۔

گیارہویں جماعت میں ساڑھے چار سو سے زیادہ نمبر لینے والا شاہزیب بارہویں کے امتحانا ت سے فارغ ہوا اور پریکٹیکل کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ کہ اچانک ایک خبر نے تو میری جان ہی نکال دی۔ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت منجمد ہوچکی تھی۔ میں ساکت کھڑا اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہا تھا جس نے مجھے یہ قیامت سے پہلے قیامت کی خبر دی۔ میں بھاگ کر شاہزیب کے گھر پہنچا کچھ لوگ اس کے گھر کے دروازے میں کھڑے چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔

کوئی کہہ رہا تھا کہ ابھی زندہ تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا نہیں نہیں جب اس کی پنکھے سے لٹکتی باڈی کو نیچے اتارا گیا تو وہ مر چکا تھا۔ میں کسی سے کیا پوچھتا مجھے لگا کسی نے میرے حلق میں ہاتھ ڈال کر میرا کلیچہ نوچ نکالا ہو۔ شاہزیب میرا بیٹا تو نہیں تھا لیکن میرے بیٹے سے کم بھی نہیں تھا۔ میں اس کمرے کے سامنے کھڑا تھا جس کی چھت والے پنکھے سے ایک مضبوط رسہ لٹک رہا تھا۔ شاید رسہ کاٹ کر اس کی لاش کو اتارا گیا تھا۔

شاہزیب نے خودکشی کر لی تھی۔ یہ معاشرہ بنا ماں کے ہونہار شریف النفس بچے کے جذبات کو سمجھ ہی نہ سکا۔ شاہزیب کے دل میں کیا تھا کوئی نہ جان سکا۔ پندرہ سولہ سال کا سہما سہما رہنے والا چھوئی موئی کے پھول جیسا شاہزیب اپنے دوستوں اپنے باپ اور میرے جیسے جانے کتنے چاچوؤں کو داغ مفارقت دے کر جا چکا تھا۔ جس کے لیے شاید یہ دنیا جہنم تھی۔ شاہزیب فرشتوں کی دنیا میں جب کسی انسان کو نہ ڈھونڈ سکا تو اس پروردگار کے پاس چلا گیا جو اپنی مخلوق کے ساتھ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اور جس کی صفت ہے بخش دینا۔

میں زندگی میں کبھی بھی کسی خودکشی کرنے والے کے جنازے میں شریک نہیں ہوا مگر شاہزیب کی خودکشی مجھے کسی طور بھی خودکشی نہ لگی بلکہ چودہ پندرہ سال کے معصوم سے ہونہار فرمانبردار اور انتہائی قابل بچے شاہزیب کا گلے میں رسہ ڈال کر لٹک جانا اس معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس دن شاہزیب نے خودکشی کی اس کے ٹھیک دو دن بعد عیدالفطر تھی اور عید پہ شاہزیب کی عمر کے بچوں کو تو اپنی عید کے کپڑے جوتے خرید نے سے فرصت نہیں ہوا کرتی مگر شاہزیب نے اپنی عید کی خرید داری کرنے بجائے عیدی کے طور پہ ملنے والے پیسوں سے اپنے گلے میں ڈالنے کے لیے وہ رسہ خرید ا جس کا پھند ا بنا کر وہ پنکھے سے جھول گیا۔

اٹھائیسویں روزے جب وہ اپنے عیدی کے پیسوں سے اپنے لیے پھندا خرید رہا ہوگا تو جانے اس کے معصوم سے دل پہ کیا گزر رہی ہوگی۔ وہ اپنے آس پاس عید کی خریداری میں مصروف لوگوں کو کس نظر سے دیکھ رہا ہوگا۔ شاید وہ سوچ رہا ہو کہ کوئی اسے ایسا کرنے سے اسے روک لے۔ شاید وہ سوچ رہا ہو کہ انسانوں کے جم غفیر میں کوئی ایک ایسا انسان اسے مل جائے جو اس کے مسائل اس کی پریشانیوں کو سمجھ سکے۔ شاہزیب کی معصوم معصوم خواہشوں کو سمجھنے اور پورا کرنے والا کوئی بھی مسیحا اسے نہ مل سکا۔

شاہزیب کی موت پہ ہر آنکھ اشک بار تھی پورا محلہ پریشان تھا مگر کفن میں لپٹا شاہزیب تو مجھے بالکل ہی مطمعن لگ رہا تھا۔ مجھے آج بھی کفن پہن کر لیٹے شاہزیب کے ہونٹو ں پہ ہوبہو وہ ہی سہمی سہمی ہلکی ہلکی مسکان چھلکتی اور انسانیت کا منہ چڑا رہی نظر آرہی تھی۔ مجھے چاچو کہنے والا شاہزیب چپ چاپ لیٹا ہوا تھا۔ کاش وہ ایک بار ہی بتا دیتا کہ کون سی ایسی پریشانی تھی جو اس کے دل و دماغ اور خون میں سرائیت کر گئی تھی۔ کون سی محرومی تھی جو اس کی جان ہی لے گئی۔ کاش میں جان پاتا۔ کاش شاہزیب خودکشی نہ کرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •