زرتاج گل اور عمران خان کی ریاست مدینہ کا انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2005 ء میں یوکے میں لیبر پارٹی کی حکومت تھی۔ ڈیوڈ بلینکٹ ہوم آفس کے سیکرٹری یعنی وزیر تھے۔ ان کی گرل فرینڈ نے ویزے کے سلسلے میں اپنا پاسپورٹ ہوم آفس بھیجا تھا۔ محترم بلینکٹ نے پاسپورٹ کو فاسٹ ٹریک میں نمٹانے کے لیے ہوم آفس فون کیا۔ جو ہوم آفس کے قانون کے عین مطابق تھا۔ ہوم آفس کا یہ قانون ہے کہ انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی شخص ہوم افس کو اپنے کیس کو فاسٹ ٹریک پر نمٹا نے کے لئے درخواست دے سکتا ہے لیکن وہ چونکہ مسٹر بلینکٹ کی گرل فرینڈ تھی اور یوکے میں گرل فرینڈ قانونی طور پر رشتے میں قریباً بیوی کے برابر تصور کی جاتی ہے، اس وجہ سے وزیر موصوف کی ٹیلیفون کال کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کے زمرے میں آتی تھی۔ کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گورنمنٹ سیکرٹری یا وزیر، سرکاری اہلکار، وکیل، اکاونٹنٹ وغیرہ اپنی حیثیت کو اپنے رشتہ داروں یعنی بیوی، بچوں اور بہن بھائی کے لئے استعمال نہیں کرسکتا۔

مسٹر بلینکٹ کے فون کا پتہ چلا۔ خبر میڈیا تک پہنچی۔ ٹونی بلیئر وزیراعظم تھے۔ فوراً مسٹر بلینکٹ سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلینکٹ نے استعفی دے دیا۔ حالانکہ بلینکٹ نابینا تھے لیکن اس کے باوجود بہت قابل اور ذی عقل وزیر تھے۔ لیبر پارٹی کی پالیسی مرتب کرنے میں ان کا کردار ہمیشہ بہت اہم رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں انگلینڈ کے دی گارڈین اخبار میں ان کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے لیبر پارٹی کی حالیہ انتخابات میں شکست کی وجوہات بیان کی ہیں اور لیبر لیڈر مسٹر کوربن کو پارٹی کا امیج بحال کرنے کے لئے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔

سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئربھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرح ڈیوڈ بلینکٹ سے مطالبہ کرسکتے تھے کہ ہوم آفس کو ایک خط لکھ کر اپنی ٹیلی فون کال واپس لے لیں۔ اس آپشن سے ٹونی بلیئر نہ صرف اپنا کام آسان کرسکتے تھے بلکہ اپنے ایک قابل اور تجربہ کار وزیر کو بے عزتی اور سبکدوشی سے بھی بچا سکتے تھے لیکن انھوں نے اصلی غلطی کرنے والے ( مسٹر بلینکٹ) سے استفعی مانگا۔ ان کے خیال میں وزیر موصوف کی ٹیلی فون کال کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کے زمرے میں آتی تھی کیونکہ انھوں نے یہ کال اپنی گرل فرینڈ کے لئے کی تھی اور اپنی سرکاری حیثیت اپنے ذاتی مقصد کے حصول کے لئے استعمال کی تھی۔ حالانکہ وہ کسی عام شہری کے لئے ایسا کرسکتے تھے اور اس صورت میں ان کی کال قانون کے عین مطابق تصور کی جاتی۔

پاکستان میں ماحولیات کی وزیر محترمہ زرتاج گل وزیر پر اسی طرح کا ایک الزام لگ چکا ہے جس کے تحت انھوں نے اپنی بہن کی تقرری کے لئے اپنی طرف سے نیکٹا کو خط بھیجا ہے اور خط میں اس ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیا ہے جو مسز زرتاج گل اور سیکرٹری وزارت داخلہ کے درمیان ہوئی تھی۔ مسز زرتاج گل کا یہ اقدام تحریک انصاف کے اپنے اس پروگرام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس میں پی ٹی آئی نے 2018 ء کے انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف ہر شہری کے ساتھ انصاف کے اصولوں کے مطابق یکساں سلوک کرے گی۔

یہاں یہ ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ جناب عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پختونخوا اسمبلی نے 2016 ء میں کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کی روک تھام کے لئے قانون پاس کیا تھا اور اس قانون کا جناب عمران خان صاحب بڑے فخر کے ساتھ یہ کہتے ہوئے ذکر کرتے تھے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے کنفلیکٹ آف انٹرسٹ کی روک تھام کے لئے مغرب سے بھی زیادہ موثر قانون بنایا ہے۔

وزیر موصوفہ زرتاج گل نے اپنے اس قانون کی خلاف ورزی کرکے اس کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کے علاوہ مسز زرتاج گل نے اپنے حلف، جو اس نے آئین پاکستان کے دفعہ نمبر 65 کے تحت 13 اگست 2018 ء کو لیا تھا، کی صریح خلاف ورزی کی ہے جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکرآئین پاکستان کے تحت یہ وعدہ کیا تھاکہ ”میں مس زرتاج گل صدق دل اور خلوص نیت سے حلف اٹھاتی ہوں کہ میں پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گی اور بحیثیت رکن قومی اسمبلی اپنے فرائض منصبی ایمانداری اور انتہائی صلاحیت سے اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق بروئے کار لاؤں گی۔ “

محترمہ زرتاج گل نے اس قسم کا حلف بحیثیت مرکزی وزیر کے بھی لیا تھا۔

اپنی بہن کے لئے سفارشی خط لکھ کر وہ آئین کے دفعہ 25 اے کی خلاف ورزی کی بھی مرتکب ہوئی ہے۔ آئین پاکستان کا یہ دفعہ ملک کے تمام عوام کے ساتھ حکومت کے تمام معاملات میں یکساں اور انصاف پر مبنی سلوک کی یقین دہانی کراتا ہے۔

مسٹر بلینکٹ کی طرح مسز زرتاج گل وزیر کی خبر جب میڈیا پر چلی تو وزیراعظم عمران خان نے زرتاج گل کو خط کو واپس لینے یا تنسیخ کرنے کے لئے کہا۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ بروقت اقدام قابل ستائش ہے لیکن اپنے تحریک انصاف والے مینوفسٹو، انصاف کے لئے بڑے بڑے وعدوں اور اپنے ویژن کے خلاف اصل غلطی کرنے والی محترمہ زرتاج گل کو سزا نہیں دی گئی۔ ان کی بجائے ان کی بہن کو سزا دی گئی۔ نیکٹا والے اب ان کی بہن کے کیس کو ایک منفی رجحان کے ساتھ نمٹائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ محترمہ زرتاج گل کی بہن اس جاب کے لئے طے شدہ معیا ر پر پورا اترتی ہو۔ یعنی ”د خر پہ زائے مو کلال وداغو“ (ترجمہ: گدھے کی جگہ کمہار کو سزا دے دی گئی یعنی جس سے غلطی ہوئی ہے اس کو سزا نہیں دی گئی)

تحریک انصاف کی حکومت اگر واقعی انصاف پر یقین رکھتی ہے اور وہ اپنے بلند بانگ دعوؤں کا پاس رکھتی ہے تو اسے غلطی کرنے والی وزیر کے خلاف (کنفلیکٹ آف انٹرسٹ ایکٹ 2016 ء کے پی کے باب 3 کی روشنی میں ) قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔

ویسے تو تحریک انصاف کے کئی صوبائی اور وفاقی وزراء روز کوئی نہ کوئی غلطی کرکے اپنی ذات پر سوالات چھوڑ جاتے ہیں لیکن کسی سے قانون کے مطابق باز پرس نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان وزراء کو بار بار مضحکہ خیز اوربعض اوقات سنگین غلطیاں کرکے کوئی شرم محسوس ہوتی ہے۔ اگر ان میں شرم نامی کوئی چیز ہوتی تو وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے اہم سرکاری عہدوں سے استعفیٰ دیتے۔

سرکاری معاملات خصوصاً ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں بے جا مداخلت تحریک انصاف کے وزراء اور تنظیمی عہدے داروں کا معمول بن چکا ہے۔ ان میں سے اکثر وزراء اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن بعد میں دوسری غلطی کرکے وہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی غلطی سرزد ہوچکی ہے۔

میں کچھ عرصہ قبل ایک مسئلہ کے سلسلے میں کے پی کے صوبائی وزیر برائے ریونیو جناب شکیل احمد خان سے ملا تھا جس میں مَیں نے اسی کیس میں ایک غلطی کی نشان دہی کی تھی، انھوں نے میری بات سن کر وعدہ کیا تھا کہ وہ اس غلطی کی تلافی کردیں گے لیکن آج تک وہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ موصوف جب سٹیج پر کھڑے ہوتے ہیں اور عوام سے خطاب کرتے ہیں تو اپنی فئیر پلے کی خوب صورت باتوں سے عوام کا دل بہلاتے رہتے ہیں اور تحریک انصاف کے میرٹ کے اصولوں اور انصاف کی لمبی چوڑی باتیں کرتے ہیں لیکن جس متاثرہ ٹیچر کا مسئلہ میں نے ان کے سامنے رکھا تھا، ان کو ابھی تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔

بادشاہی د جہان سہ کے زان لہ ولے زیاتے غم
د انصاف تلل مشکل دی سہ بہ زیات کے سہ بہ کم
(ترجمہ: دنیا کی بادشاہی کے پیچھے کیوں بھاگ دوڑ کر رہے ہو، یہ تو اپنے غموں میں اضافہ کرنا ہے۔ انصاف کرنا ایک مشکل کام ہے، کسی کو بلاوجہ نواز دوگے اور کسی کے ساتھ زیادتی کرلوگے۔ )

محترمہ زرتاج گل وزیر کا کیس اقربا پروری اور نا انصافی کا ہائی پروفائل کیس ہے اور خوش قسمتی سے بروقت وزیراعظم کے علم میں آ بھی چکا ہے، اس لئے اس کیس سے ریاست مدینہ کے انصاف کاصحیح معنوں میں آغاز کیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>